میرا سفر // زینب نغمان

Published on :

آج ایک تسلسل کو توڑا ہے میں نے سمندر کی لہروں کو اپنی خاطر موڑا ہے میں نے درد کی ایک اٹھتی ٹیس کے بعد کانٹوں سے بھرے خوبصورت پھول کو چھوڑا ہے میں نے طعنے سنے اپنوں کی کڑواہٹ چکھی ہے میں نے اپنی مٹھی سے ریت پھسلتی دیکھی […]

مضطرب رُوح // عین الحیات

Published on :

رُوح نیکی اور بدی کے تصورات سے آگے ہے رُوح سنہری پروں والا پرندہ ہے جو اپنے سنہری دِلکش پر نہیں دیکھ سکتا کیونکہ اس کی آنکھوں پہ نفس کا پردہ ہے نفس جو ہستی کا فنا نہیں چاہتا نفس جو روح کے پروں کا حُسن چھین لے نفس جو […]

یاد بہت آتے ہو تم // عاٸشہ احمد

Published on :

تم سے عشق نہیں تھا شاید, مگر یاد بہت آتے ہو تم زندگی کی حسین شاموں کو جو اداس بناجاتےہوتم پھول بھی کھلتے ہیں بہاروں میں درخت بھی جھومتے ہیں برساتوں میں پر یہ مرجھایا چہرہ کیوں نہیں دیکھنے آتے ہو تم تم سے عشق نہیں تھا شاید,مگر یاد بہت […]

گمراہی // اسما ء آفریدی

Published on :

گزرتا وقت ٹہر کے سجدے میں سمٹے اس وجود کو تکتا رہا۔ وہ بکھرتا ٹوٹتا وجود۔وہ جو کھبی سکون و اطمینان کا پیکر تھا۔ جسے دیکھ کر لوگوں کو اسے تخلیق کرنے والے کی ذات سے پیار ہو جایا کرتا تھا ۔ جس کی زبان پر ہر دم بس یہی […]

جیو اپنے لیے // وفا صدیقی

Published on :

اس وقت میں آواز نہیں اٹھا سکی کیونکہ تب میں عمر کے اس حصے میں تھی جب مجھے نا سمجھ تصور کیا جاتا تھا۔ وقت گزرا اور میں سمجھدار ہوگئ۔ پھر میرے منہ سے نکلے ہر جملے کے ساتھ بہت سے لوگوں کی عزتیں منسلک ہو گئیں۔ زندگی نے کئ […]

تاوان عشق // عفیفہ ہزل

Published on :

گداذ لمحوں میں ڈھکی چھپی آہوں نے چاہے جانے کی چاہت ابھری ہے اک فریاد لبوں پر جاری ہے ہائے کیا کروں مجھے دیکھو مجھ پر نظر کرو میرا آئینہ، میری کہانی بنو شوق دید نے بصارت چھینی ہے ہائے کیا کروں سرگوشیوں میں مہکی تیرے نام کی خوشبو نے […]

“وہ لوگ جو ڈھلتی شاموں میں” ( جفا کہ اس دور میں آغازِ وفا کرنے والے ہر محبِ وطن کے نام) // مصباح احمد

Published on :

اٹھتا یہ دھواں صداؤں کا خون رنگ بھنور ہواؤں کا جور و جفا کے قصوں کا سب ٹوٹے بکھرے حصؤں کا ان لہروں سا جو ساحل سے لپٹنے کو سر پٹخاتی ہیں جو ذوقِ نظر کے ملنے کو جان سے اپنی بھی جاتی ہیں ہر سمت سے گرتے شعلے جو آنگن کو جلانے پھرتے ہیں ہر نگر بچھائے خار کہ سب پاؤں جو لُہائے پھرتے ہیں اس راہبر کی اطباع میں جو سینے یوں سجائے پھرتے ہیں اس خاک و خون کے پُتلے کو اس آگ و یاس کے دریا میں ہر وادیِ غیر کے ٹیلوں پر کچھ لوگ جلائے پھرتے ہیں اور محفل کو جمائے پھرتے ہیں وہ جن سے آس کے بادل کہ، قطراتِ محبت برستے ہیں وہ لوگ چمن کے ہر گل کی خوشبو سے مہکے ہر پل کی اِک پیاس بُجھائے پھرتے ہیں راتیں وہ جنکی سرد بھی ہوں اور شام کی گرمی زرد بھی ہو وہ جنکے دن میں شور بھی ہو اک موجِ صبا سا زور بھی ہو کچھ روحِ وفا اور بھی ہو وہ رخ بدل کے ہواؤں کے منہ زور اِن فضاؤں کے لکیریں خود مٹاتے ہیں اور تقدیریں بناتے ہیں وہ لوگ ہی ڈھلتی شاموں میں اِک آس کی لُو جلاتے ہیں اور گزرتے دن  مہکاتے ہیں۔

انا: ایک قاتل // زینب نغمان

Published on :

انا تو اس میں بھی تھی جُھکنے والے ہم بھی نا تھے یہ داستانِ محبت دشوار تھی بہت ِِِگلِے آخر کم بھی نا تھے حقیقت سے خیال تک اعتبار سے سوال تک رکاوٹیں تو بہت تھیں عروج سے زوال تک مر مٹنے کا جنوں بھی تھا خودداری کا بھرم بھی […]

کیا ہوں میں؟ // جویریہ منصور

Published on :

اتنا خاص ہوں کہ مقصد حیات ہوں میں اتنا عام کہ ایک معمولی سی بات ہوں میں بزرگ کہتے ہیں اشرف المخلوقات ہوں میں مخلوقات میں سب سے معتبر ذات ہوں میں جان جاٶں تو اپنی ہی ذات میں کاٸنات ہوں میں نہ جان پاٶں تو سر تا پا خاکی ذرات ہوں میں عام نہیں، ابلیس کو دی گٸ مات ہوں میں ناٸب ہوں خالق […]

دیوانے کا دیوانہ ہونا // عین الحیات

Published on :

قہقہوں کے پہلو میں غم زدہ سا اِک دیوانہ ہے خوش باش لبادوں میں اِک نا مکمل سا مستانہ ہے داستانیں اپنی ذات کی اورڑھ کے کلام عشق کے پہلو میں سو رہا ہے اِک با ہو فقیری کو اپنائے ناچ رہا ہے را ہی سر بسجود عشق میں رخ […]