تم سے عشق نہیں تھا شاید, مگر یاد بہت آتے
ہو تم
زندگی کی حسین شاموں کو جو اداس
بناجاتےہوتم
پھول بھی کھلتے ہیں بہاروں میں
درخت بھی جھومتے ہیں برساتوں میں
پر یہ مرجھایا چہرہ کیوں نہیں دیکھنے آتے
ہو تم
تم سے عشق نہیں تھا شاید,مگر یاد بہت آتے
ہو تم
جو دیکھتی ہوں شبنم کے قطروں کو پتوں پر
جمے
تو آتی ہیں یاد نگاہیں تیری تھی مجھ پر
جمے
جو آتے ہیں یاد وعدے تیرے
لڑیوں کی مانند بہتے ہیں آنسو میرے
جو کہہ کہ چھوڑا تھا کہ محبت نہیں کر پائے
ہو تم
تم سے عشق نہیں تھا شاید,مگر یاد بہت آتے
ہو تم
رات کی تاریکی میں روتی تھی جب میں تنہا
تو نا جانے کیسے گھبرا جاتے تھے تم
اب گھٹ گھٹ کہ جو لیتی ہوں سانسیں
بے فکر پھرتے نظر آتے ہو تم
تم سے عشق نہیں تھا شاید, مگر یاد بہت آتے
ہو تم
میرے روٹھنے پر تیرا منانا
میرے روٹھنے پر خود بھی روٹھ جانا
ناجانے کیوں کھو جاتی ہوں ان یادوں میں بے
مقصد
جبکہ جانتی ہوں کہ اک لاحاصل تمنا ہو تم
تم سے عشق نہیں تھا شاید, مگر یاد بہت آتے
ہو تم
رنجشیں تھیںجب عروج پرتب ساتھ
چھوڑگۓتھےتم
اپنی بے وفائ کے داستان اب چھپاتے پھرتے
ہو تم
میں اکیلی ہو کر بھی ہوں پوری
کسی کے ساتھ ہوکر بھی ادھورے ہو تم
تم سے عشق نہیں تھا شاید, مگر یاد بہت آتے
ہو تم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *