گزرتا وقت ٹہر کے سجدے میں سمٹے اس وجود
کو تکتا رہا۔ وہ بکھرتا ٹوٹتا وجود۔وہ جو
کھبی سکون و اطمینان کا پیکر تھا۔ جسے
دیکھ کر لوگوں کو اسے تخلیق کرنے والے کی
ذات سے پیار ہو جایا کرتا تھا ۔ جس کی زبان
پر ہر دم بس یہی کلمہ ہوتا تھا کہ ” میرا رب
مجھ سے بہت پیار کرتا ہے بے شک وہ مجھے
بہترین نوازے گا۔” آج اس ہچکیوں سے لرزتے
وجود کی جنگ بھی تھی تو کس سے؟ اپنے خالق
سے۔ اپنے معبود سے۔ وہ سجدہ ریز ہو کر
چیختے اپنے معبود سے لڑ رہا تھا اور کہے
جا رہا تھا۔ کہ میں بندہ ہوں تیرا ۔ انسان
ہوں ۔ خطا کار ہوں لیکن میں نے ہمیشہ وہ سب
کرنے کی حتی الامکان کوشش کی جو تیری رضا
حاصل کرنے کا ذریعہ بنے۔ تجھے جھوٹ نہیں
٘پسند تو میں نہیں بولتا۔ تجھے غیبت نہیں
پسند میں نہیں کرتا ۔ میں کوئی حرام کاری
بھی نہیں کرتا۔ میں نے تجھ سے کھبی یہ
دنیا بھی نہیں مانگی۔ میں نے اپنی ، اپنے
ہر عمل کی ، اپنی نظروں کی حفاظت کی صرف اس
وجود کیلئے جسے تو میرے لئے محرم بنائے
گا۔ تو کہتا ہے نا کہ ایک پتا تک تیری رضا
کے بغیر نہیں ہل سکتا تو اس سے ملوانے
والی ہستی بھی تیری ہے میرے دل کو اس کے
پیار سے بھرنے والا بھی تو ہے اور اس کی
محبت چھین کے مجھے یہ اذیت دینے والا بھی
تو ہے۔ کہاں ہے تو۔۔۔۔ کہاں ہے تو یا اللہ
۔۔۔ کہاں ہے تیری رحمت۔۔۔ کہاں ہے تیرا
پیار۔۔۔ کہاں ہے وہ ستر ماؤں سے ذیادہ
پیار کرنے والی ذات ۔۔۔ کہاں ہے۔۔۔ تو سچ
میں موجود ہے یا میرا وجدان ہے تو؟؟؟
نہیں، نہیں ہے تو کہیں نہیں ہےتو۔۔۔۔
اس کی فلک شگاف چیخیں سن کر وقت دنگ رہ گیا
کہ کس قدر  نصیب والا تھا وہ وجود جسکے
ساتھ کیلئے کوئی اتنا تڑپ رہا ہے اور کس
حد تک بد نصیب ہے وہ شخص جس نے ایک بندے سے
اس کا رب چھین کے اسے گمراہ کر دیا۔۔

عقل حیران ہے ابن آدم کے تماشے دیکھ کر
توڑی جاتی ہیں قسمیں تیرے کلام کے بوسے
لیکر ۔۔

وقت حیرت زدہ آگے بڑھا۔ دواٸیوں کی بو سے
اٹا کمرہ،سوٸیوں میں جکڑا وجود، مصنوعی
سانس کا ماسک لگاۓ وہ کمزور وجود دھیرے
دھیرے زندگی سے دور ہوتا جا رہا
تھا۔۔۔مشینوں کے چیخنے کی آوازیں
سماعتوں سے ٹکراٸی تو یکدم سفید کوٹ پہنے
لوگوں میں ہلچل مچی اور اسے گھیرے میں لے
لیا۔ ان میں سے ایک نے کہا نروس بریک ڈاٶن
ہوا ہے۔ یہ سنتے وقت اداس سا مسکرا کے
بولا یہ تو مریض عشق ہے اور عشق اسے کھا
گیا۔ بے جان وجود میں سے روح نکل کر کسی
آزاد پنچھی کی طرح اڑ چکی تھی اور زندگی
اور موت کے بیچ حاٸل ہر دیوار گر کے اسے
موت کی وادی میں قدم رکھنے کی اجازت دے
چکی تھی۔۔۔
توڑ ڈال یہ قفس لے گہری سانس ذرا
مجھے قید کر کے جو بھول گیا مٹا اسکا نام
ذرا
یہ وقت کے پجاری ہیں نہیں جانتے خلوص کی
قیمت
اشک اشک آنکھیں روٸیں گی تو روک اپنی سانس
ذرا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *