آج ایک
تسلسل کو توڑا ہے میں نے
سمندر کی لہروں کو
اپنی خاطر موڑا ہے میں نے
درد کی ایک اٹھتی ٹیس کے بعد
کانٹوں سے بھرے
خوبصورت پھول کو چھوڑا ہے میں نے

طعنے سنے
اپنوں کی کڑواہٹ چکھی ہے میں نے
اپنی مٹھی سے
ریت پھسلتی دیکھی ہے میں نے
ایسے ہی ٹیڑھے میڑھے راستوں پر
کہیں دور اپنے خوابوں
کی بنیاد رکھی ہے میں نے

مشکل راستوں پر چلنےکا
سلیقہ سیکھا ہے میں نے
اکیلے ہی زندگی کی ہر دوڑ
کو جیتا ہے میں نے
چبھتی سی ہر کڑوی زبان کو
ایک مسکراہٹ سے کیا
میٹھا ہے میں نے

اپنے رب کے نام
ایک خط لکھا ہے میں نے
اپنے ہاتھوں کی الجھی لکیروں کو
پرکھا ہے میں نے
اس تپتی دھوپ ، جلتے سورج پر
ٹھنڈی بارش کی بوندوں کو
چھڑکا ہے میں نے

بندھ کر
کسی کا ہو کر دیکھا ہے میں نے
تنہائی کے کوئلے پر
پھر خود کو سیکا ہے میں نے
اب جا کر بلآخر
ہر بندش ، مصنوعی رشتے کی زنجیروں کو
اتار پھینکا ہے میں نے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *