رُوح نیکی اور بدی کے تصورات سے آگے ہے
رُوح سنہری پروں والا پرندہ ہے
جو اپنے سنہری دِلکش پر نہیں دیکھ سکتا
کیونکہ اس کی آنکھوں پہ نفس کا پردہ ہے
نفس جو ہستی کا فنا نہیں چاہتا
نفس جو روح کے پروں کا حُسن چھین لے
نفس جو شہوتوں کا سبق دیتا ہے
نفس جو دلوں کو گناہوں کا لباس پہنا دے
نفس جو آنکھ کا حجاب اور پردہ بن جائے
نفس جو روح پہ عشق کا لباس چڑھانے نہ دے
اے انسان
تُو اس خاکی جسم سے نکل
تُو عشقِ فنون کے مدرسے میں آ
تُو دیوانہ وار رقصاں ہو
تُو عشق کے غم سے نفس کو دھو
تُو شہوتوں کو ترک کر
تُو گناہوں کے زخموں سے روح کو پاک کر
تُو اپنی رُوح کی بینائی بحال کر
تُو اپنی خراب آنکھ کا حجاب دور کر
تو یہ اپنی حقیقت دیکھ لے
اپنے سنہری پروں کا حُسن دیکھ لے
جو اپنے اندر کو اندر تک روشن کر دے
تُو اپنی رُوح کو خاموشی کے پردوں میں
چھپا
تُو اپنے قلب کے دروازے کھول
تُو خاک سے تمیم کر
خُرد کی حدوں سے نکل باہر
اپنے اندر کو وفا کا درس دے
عشق کا لباس دے
آنکھ کا نور عطا کر
دل کو “آل” کا سبق دے
قلب پے “لہ” کی ضرب لگا
تیری مضطرب رُوح کو سکوں میسر ہو
اس سکوں میں اسے نور میسر ہو
تری ہستی فنا ہو
تری بقا کی خاطر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *