گداذ لمحوں میں ڈھکی چھپی آہوں نے
چاہے جانے کی چاہت ابھری ہے
اک فریاد لبوں پر جاری ہے
ہائے کیا کروں
مجھے دیکھو مجھ پر نظر کرو
میرا آئینہ، میری کہانی بنو
شوق دید نے بصارت چھینی ہے
ہائے کیا کروں
سرگوشیوں میں مہکی تیرے نام کی خوشبو نے
زمانے سے یوں جھگڑا مول لیا ہے کہ
لاپتہ میرا اب پتہ ہوا ہے
ہائے کیا کروں
لب میرے، سخن تیرا اور سر ایک ملاپ کا
یوں نشیلی دھن بکھیر رہے ہیں کہ
میری سدھ بدھ کھوئی، دھڑکنیں تھرتھرائی ہیں
ہائے کیا کروں
پتھرائی آنکھوں میں چھپے ڈھیروں سوال
جمود جن سے ان پلکوں پہ جاری ہے
اب موتی بن بن یوں چھلکے ہیں
ہائے کیا کروں
ساقی تیرے میکدے کی شاموں سے
افسانوں میں عمر بتائی ہے اور
تاوان عشق میں جوانی لٹائی ہے
ہائے کیا کروں
اے زنجیر جنوں تیری قید نے مجھے
تیرے ہجر کی چادر اوڑھائی ہے
میری سلجھی مستی الجھائی ہے
ہائے کیا کروں
اداسی اور قرب کی سوچ میں گزرتی شامیں
اپنے قرب کے کرب میں نڈھال ہوئیں
میری سانسیں نہ پھر بحال ہوئیں
ہائے کیا کروں
برف رات کی سرخ تاریکی سے
امید کا سورج جھگڑ پڑا
کیوں عشق کی راہ دکھلائی ہے
ہائے کیا کروں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *