جفا کرنے والوں کا بہانہ ہے وفا
بس ایک قصّہ ،ایک فسانا ہے وفا
وعدوں کو ہی بھلانا ہے وفا
کسی خنجر کا وار کھانا ہے وفاجفا کرنے والوں کا بہانہ ہے وفا
بس ایک قصّہ ،ایک فسانا ہے وفا
وعدوں کو ہی بھلانا ہے وفا
کسی خنجر کا وار کھانا ہے وفا
باعثِ تباہیِ زمانہ ہے وفا
بھیڑ میں بھی یاد کا ستانا ہے وفا
تنہائی میں آنکھ ک
باعثِ تباہیِ زمانہ ہے وفا
بھیڑ میں بھی یاد کا ستانا ہے وفا
تنہائی میں آنکھ کا بھر آنا ہے وفا
پھر نیندوں کا روٹھ جانا ہے وفا
بےوفاؤں کا ہی تو طعنہ ہے وفا
اور ضبط سے خود کو ٹھہرانا ہے وفا
کبھی کوئی موسم سہانا ہے وفا
تو کبھی خزاں کا ٹھکانہ ہے وفا
کسی بےرحم کو دل میں بسانا ہے وفا
چوٹ کھا کر بھی چاہنا ہے وفا
پھر ان چاہتوں کو دل میں دفنانا ہے وفا
خواہشات کو حسرتیں بنانا ہے وفا
اپنی بےبسی کا یاد آنا ہے وفا
اپنے ہی ٹکڑوں کا ماتم منانا ہے وفا
کسی زخم کا پھر سے رِس جانا ہے وفا
اور مرہم کا نا مل پانا ہے وفا
صبر کا لبریز پیمانہ ہے وفا
مزاج کا ہو جانا شاعرانہ ہے وفا
وفا کے تو اور بھی کئی معنی ہیں
لیکن وفاؤں میں جفاؤں کو ملانا ہے وفا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *