میری روح کا شگاف بڑھ رہا ہے،
جیسے کوئ جسم کے اندر اُتر رہا ہے،
اِس فساد میں کیا ڈھال رکھیں،
جو میری ذات میں ہی ہو رہا ہے،
قلب وفا کی جنگ میں جیتنا چاہے،
اور دماغ انا کی جنگ جیت رہا ہے،
اِس وفا و انا کی جنگ میں،
حال برباد میرا ہو رہا ہے،
اُس کے اور میرے درمیان اب،
فاصلہ بڑھ رہا ہے،
انا جیت چکی ہے وفا ہار چُکی،
میری موت کا سامان اب ہو رہا ہے،
زندگی جینے کی آس مرچُکی ہے،
موت کا انتنظار اب ہو رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *