اک جنگ سی جاری ہے میرے اندر جینے کے لیے،

سوچتی ہوں بھول جاؤ اُسے آگے بڑھنے کے لیے،

ہر رات سینے میں جنگ کی تاریکی کا سماں ہوتا ہے،

جب دل بول پڑتا ہے اُسکے حق کے لیے،

چاہوں بھی تو اِس جنگ کو جیت نہیں سکتی،

دل میرا ہے پر دھڑکتا ہے اُسکے لیے،

گواہ، کٹہرے، منصف سب ہیں،

پر ہر کوئ بولتا ہے بس اُسی کے لیے،

اُسکی یادوں کے خنجر چلنے کے بعد بھی،

دل کو اسی کی طلب ہے سُکوں کے لیے،

کتنے ہی دشمن ہم نے پال رکھے ہیں،

پر اذیتِ دل کا سہرا ہے اُس کے لیے،

مرنے کے بعد ہی انہوں نے آنا ہے،

تو روز ہم کیوں تڑپتے ہیں جینے کے لیے،

روز اُس کی یاد کو دل سے نکال پھینکتے ہیں،

گویا تیار رہتےہیں موت کی آمد کے لیے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *