گراُسکو ہماری محرومیوں کا خیال ہوتا // اریبہ سلیم

،گر اُسکو ہماری محرومیوں کا خیال ہوتا
،پھر مُحبت کی دوڑ میں ہمارا یہ حال ہوتا؟

،گر ہجر کی شب اتنی آسانی سے گُزر سکتی
،کسی کو محبوب کے جانے کا بھلا ملال ہوتا؟

،گر عاشق ملنگ بننا اتنا آسان ہوتا
،تو قلندر کے مزار پر کبھی دھمال ہوتا؟

،گر محبتوں کے بدلے محبتیں ہی ملتیں
،تو یک طرفہ مُحبت کا کوئ کمال ہوتا؟

،گر ہماری خاموشیوں کا کوئ احساس ہوتا
،چُپ رہنا ہمارے لئے کبھی مُحال ہوتا؟

،گر میکدے سے پی کر بہکنے لگے عاشق
،مُحبت کے نشے کا بھلا کوئ جمال ہوتا؟

،گر تیرے قُرب کا اقرار نہ کیا ہوتا ہم نے
،زمانے میں ہماری عزت کا بھلا زوال ہوتا؟

Sharing Is Caring
Recommended For You

1
Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
newest oldest most voted
Notify of
Rawal
Guest
Rawal

Out class … Fabulous … Your wordings and thoughts … Are just outstanding ❣️🔥 … In other words … One Word … MaShaAllah ❣️