پھنس گئ تو پھڑکن کیسی // عفیفہ ہزل

تعفن زدہ جوہڑ کے بیچوں بیچ گرد میں اٹی، سرمئ زلفوں میں چھپی ایک وجیہ صورت آج پھر ایک ہی تکرار پکڑے، ایک ہی دھن پر ایک ہی راگ الاپ رہی تھی۔ 
میرا ساون مجھ میں لوٹ آیا ہے جو مجھے مور ناچ دکھائے گا 
ایک ہفتہ ایک صدی پر محیط تھا شاید۔۔
ایک اتوار سے دوسری اتوار تک کا سفر جسے میں نے پوری دیانتداری سے اذیت میں جیا تھا۔ 
شام کے زرد اجالے میں عشق کے سبز چولے میں پھڑکتا وہ ہجر زدہ بدن آج پھر لوگوں کی توجہ کا مرکز تھا۔ جسے لوگوں کی طنز آلود نظریں، حرکات میں حقارت اور دبی دبی گالیوں کی بھی پرواہ نہ تھی بلکہ وہ ہر طنز کے تیر پر مزید پھڑک اٹھتا اور اپنے قدم تیزی سے جوہڑ کے گندے پانی میں دیوانہ وار چلاتا۔ 
میں یہ سب روکنا چاہتی ہوں مگر وہ جان نم میرے وجود میں اپنی نمی کو جانتا ہی نہیں۔ 
میری پتھرائی آنکھیں انگڑائیاں لے رہی ہیں، آنسو نکلنے اور چھلکنے کو بے تاب ہیں۔ آسمان بھی شاید میری کیفیات سے بخوبی واقف تھا۔ تبھی ایک دم سے بوندیں میری پلکوں سے آ ملیں۔ آسمان سے برستی بے رنگ بوندیں شاید میرے آنسوؤں کے دھنک رنگ کے آگے بے بس اور مجبور تھیں تبھی جہاں جہاں وہ بوندیں گریں قوس قزح بکھیر دی۔ 
ہر گرتے آنسو پر مور ناچ کا سا گمان ہوا چلا تھا۔ 
اسی مجذوب سی کیفیت کے دوران اچانک اپنے وجود پر کسی کی گرم نگاہوں کا احساس جاگا تو نظر آیا اسی جان جہاں کی نگاہیں میرے ہر گرتے آنسوؤں کے تعاقب میں اٹھ رہی تھیں۔ مارے کرب کے وہ ہذیانی چیخ چیخا اور بولا، پھولوں سی جند کو اس آگ میں کیوں دھکیل رہی ہو پگلی۔ کیوں ننھی سی جان کو یہ ہجر کا چولا پہننے پر مجبور کر رہی ہو۔ 
سکون کی ساری پینگیں توڑنا ہوں گی۔۔ 
فراق کے سارے جھولے جھولنا ہوں گے۔۔ 
وصل کی چوڑیاں توڑنی ہوں گی۔۔ 
ہجر کی چادر اوڑھنا ہوگی۔۔ 
یہاں قرب نہیں میری جاں۔۔ کرب بکتا ہے۔ 
یہاں عقل کا خون بہانا ہے۔ 
اور من کی “میں” کو مٹانا ہے۔ 
یہاں عشق کی آگ میں جلنا ہے۔ 
اے عزیز جان! سن کہ اس راہ میں رسوائیاں اٹھانی پڑتی ہیں۔۔ 
مانگ اجاڑنی پڑتی ہے۔۔ 
کنجری چولا پہن کے لاڈو۔۔نچ نچ دھول اڑانی ہے۔ 
دیکھ میرا سرمایہ کیا ہے۔۔؟
ڈھلتی شام، سنہری اجالا، عشق کا چولا اور ہجر کی پھڑکن۔ 
یہ کہہ کر وہ جان نم مڑا اور اپنا راگ الاپتے اپنے رستے کو چل دیا۔ 
“میرا ساون پھر سے لوٹ آیا ہے۔۔ جو مجھے مور ناچ دکھائے گا” 
میری آنکھوں پر اب تھکن اگ آئی ہے۔ پلکوں پر ہلکورے لیتے آنسو چیخ چیخ کر مجھے واسطہ دے رہے ہیں۔ 
مگر ہر گرتے آنسو کے ساتھ میرے لبوں پر ہذیانی مسکراہٹ تیز تر ہوتی چلی جا رہی ہے۔۔ 
میری الہڑ جوانی بے تاب ہے عشق کا چولا پہننے کو۔۔۔ 
میرا من اب میری “میں” سے آزاد ہو چکا ہے۔۔ 
ہر طرف دھنک رنگ چھائے ہیں جو آسمان کی سمت کو رواں دواں ہیں۔۔ 
دور کہیں سے تعفن زدہ جوہڑ کے بدبودار جھونکے آ رہے ہیں۔۔ 
مگر نہیں، شاید وہ میری “میں” تھی جو مجھ سے نکل کر دور جا چکی تھی ۔ جو اک عرصے سے مجھ میں سرانڈ مار رہی تھی دنیاوی خواہشوں کی میل کچیل کے تلے۔ 
میرا وجود شاید میری روح کے ہجر میں پگھل چکا ہے 
اور وہ ہجر اب میرا ساون ہے ۔ 
اب میں بھی تعفن کی بو سے آزاد ہو چکی ہوں۔ 
کیونکہ۔۔۔۔ 
میرا بھی ساون مجھ میں آ بسا ہے اور ایک ہی راگ الاپ رہا ہے 
“پھنس گئ تو پھڑکن کیسی” 
۔ 

Sharing Is Caring
Recommended For You

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of