وفا صدیقعی // لوگ کیا سوچیں گے؟

اس وقت میں آواز نہیں اٹھا سکی کیونکہ تب میں عمر کے اس حصے میں تھی جب مجھے نا سمجھ تصور کیا جاتا تھا۔ وقت گزرا اور میں سمجھدار ہوگئ۔ پھر میرے منہ سے نکلے ہر جملے کے ساتھ بہت سے لوگوں کی عزتیں منسلک ہو گئیں۔ زندگی نے کئ دن رات اور دیکھے تو میرے الفاظ کے ساتھ لوگوں کے اعتبار کی ڈور جوڑ دی گئ۔ آنے والے وقت کیلئے مجھ سے آواز اٹھانے تو کیا کچھ سوچنے کا اختیار بھی چھین لیا گیا۔ اپنی بہت سی خواہشات کو دل میں دفن کردینے سے مجھے نیک جانا جانے لگا۔ معاشرے کے بنائے ہوئے بےبنیاد اصولوں پر عمل کرنے سے میری پاکیزگی عیاں ہوتی تھی۔

اپنی زندگی میں کیے جانے والے ہر اہم فیصلے سے پہلے مجھے کئ فیصلے کرنے پڑتے تھے۔ کیا کہنا ہے؟ کب کہنا ہے؟ اور کس کے سامنے کہنا ہے؟ جب

جب میں نے ان تین سوالوں کے بارے میں سوچا، خود کو بہت کمزور پایا۔ 
اپنی زندگی کا ایک عرصہ گزارنے کے بعد میں میں پرانے وقت کو یاد کرتی ہوں تو اندازہ ہوتا ہے کہ خود کو ایک عورت کے طور پر منوانے کیلئے میں نے کیا کیا گنوایا ہے۔
میں اس معاشرے کا حصہ ہوں جہاں زندگی کا کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے زندگی میں موجود ہر شخص کے بارے میں سوچا جاتا ہے سوائے اس کے جس کی زندگی کا فیصلہ کیا جا رہا ہو۔

مجھ سے میری تمام تر محبت، خلوص، جذبات، اختیارات اور خواہشات کو چھین لینے کے بعد اب لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں آخر کر بھی کیا سکتی ہوں۔ اور اپنا بہت کچھ قربان کردینے کے بعد مجھے یہ خیال آتا ہے کہ ایسا کوئی کام تھا

ہی نہیں جو میں نا کرسکتی تھی۔
گزر جانے والے وقت سے میں نے یہی سیکھا ہے کہ خود کو وقت کے ہاتھوں میں دینے کے بجاۓ وقت کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا جائے تو بہت کچھ جیتا جا سکتا ہے۔ ہم ایک بار جیتے نہیں ایک بار مرتے ہیں اور ہر روز نیا طلوع ہوتا سورج ہمارے لئیے جینے کے کئ نئے طریقے لے کر آتا ہے۔ برے وقت میں کیے گئے غلط فیصلوں کی بری یادوں کو اپنے دل میں رکھنے کے بجائے ان سے سیکھے گئے سبق کو اپنے دماغ میں رکھ کر کیے جانے فیصلوں سے زندگی ایک نئے رخ سے سامنے آتی ہے۔ تھوڑی سی ہمت کرکےاپنی خوشیوں کی ذمہ داری لے کر اپنے لیے زندگی کو جینا ساری عمر اسے گزارنے سے بہتر ہے۔ اگر ہم بھی یہی سوچنے لگیں کہ لوگ کیا سوچیں گے تو پھر لوگ کیا سوچیں گے؟  

Sharing Is Caring
Recommended For You

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of