اس” کرو نا  “کی وبا کی بدولت جو فارغ لمحات میسر آئے تو مجھے یہ سوچنے کی فرصت ملی کہ اس سے کچھ فائدہ اٹھایا جائے کہیں ایسا نہ ہو کہ بقول شاعر

 ایک فرصت گناہ ملی وہ بھی چار دن 

دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں 

گو کہ دونوں مصرعے الگ الگ اشعار کےہیں لیکن اس وقت میری ضرورت نے انہیں یکجا کرکے میرے حال کی صحیح عکاسی کی ہے ( غالب کے ساتھ معذرت کے ساتھ) اب سوچا کہ قلم اٹھایا جائے۔۔۔

       کیونکہ میرا تعلق معلمی کے شعبے سے ہے ۔اس لئےہمیشہ اپنے طلباء کی حوصلہ افزائی کرکے اور طرح طرح کے حربے آزما کر بہت ہی خوبصورت تحریریں تخلیق کرواتی رہی ہوں مگر خود لکھنے اور اپنی صلاحیتیں وقت کی کمی اور ضرورت معاش کے باعث پوری نہ کر سکی لیکن آج شکر ہے کہ آج میری پہلی تحریر آپ کے سامنے حاضر ہے پہلی اس وجہ سے کہ لکھا توپہلے بھی کافی دفعہ  لیکن اتنی فرصت نہ ملی کہ پوسٹ کر سکتی بہرحال اس شعبے میں رہتے ہوئے بہت سے اس تجربہ سے گزری جس سے قلم بند کرنا چاہتی ہوں جس میں کچھ حوصلہ افزا  کامیابیاں ہیں تو کچھ ٹھوکریں جو میرے لئے بعد میں مشعلِ راہ ثابت ہوئیں۔

میری پھلی کہانی 

سب سے پہلے ایک کامیابی کا ذکر کروں گی یہ کوئی دس بارہ سال پہلے کی بات ہے جب میں کراچی کے ایک بہت معروف ادارے میں سینئر کلاسسز کو پڑھاتی تھی تو میرے پاس ایک طالب علم تھا جس کا نام زیان تھا وہ ایک (اسپیشل چائلڈ)خاص بچہ تھا اسے کوئی ایسی بیماری تھی جس کے باعث کپکپاہٹ سے وہ لکھنے میں اور ہکلاہٹ کے باعث بولنے میں مشکل پیش آتی تھی جس کے باعث  وہ دوسرے اساتذہ کے لئے پریشانی اور میرے لئے توجہ کا باعث بن گیا تھا میں ہمیشہ کوشش کرتی تھی اپنی فرصت کے لمحات میں اس کی حت الامکان مدد کر سکوں اور اپنے دل کی باتیں مجھ سے کرتا اور کبھی کبھی شکایات بھی کرتا جو اساتذہ سے تھیں۔ گو کہ اس طرح کی شکایات جو اس سے دیگر اساتذہ سے تھی سننااصول کے مطابق یعنی اسکول کی روایت کے مطابق خلاف قانون بھی تھا مگر میں صرف بچے کی کی حوصلہ افزائی کے لئے اس کو اعتماد کو بڑھانے کے لیے وہ شکایت سن لیتی جس سے اس کے دل کا بوجھ بھی ہلکا ہوتا جاتا اور وہ میرے مضمون جو کہ اردو ہے اس میں زیادہ دلچسپی لینے لگا تھا۔

      پھر ایک دن اس نے امتحانات میں بتایا کہ  معلمہ نے اس کا پرچا وقت پر ختم ہوجانے کے باعث لے لیا جبکہ اس کے جوابات مکمل نہ ہو سکے اس نے کہا کہ مس میں نے بہت کوشش کی افسوس یہ تھا کہ بقول اسکے اس کو تمام جوابات آتے تھےاس بات کو بیان کرتے ہوئے اس کی آنکھیں بھی نم ہوگئیں تھیں میں نے اس کی بات سن کر انتظامیہ تک پہنچائی۔انہیں  بتا یا کہ وہ مزید لکھنا چاہتا تھا مگر اس کی کمزوری جو ہم سب جانتے تھے اس کے باعث اضافی پر ملنا چاہیے اگر انتظامیہ کو اعتراض نہ ہو تو اس کو اضافی وقت دیا جائے تاکہ وہ اپنا پیپر مکمل کر لے ۔

مجھے خوشی ہے کہ میرے دلائل پر انتظامیہ نے مجھ سے پوچھا کہ کیا یہ اضافی وقت میں اس کی نگرانی کی ذمہ داری اٹھالوںگی میں نے بخوشی اپنی خدمات پیش کردیں اس طرح اس بچے کو ہر پرچے میں اضافی

۳۰ ِمنٹ کا وقت دیا جانے لگا اگر اس کو ضرورت ہوتی تو یہ وقت استعمال کرتا ورنہ پر پیپر وقت پر دےدیتا اور اس طرح اس نے نہم پاس کرکے دہم میں قدم رکھا اس کی اردو کی معلمہ بھی دہم  میں آنے کے باعث تبدیل ہوگئیں اور وہ اس دوران میں گاہے بگاہے میری مدد حاصل کرتا رہا اور مشورے بھی لیتا رہا نہ صرف یہ کہ وہ مشورے لیتا بلکہ اس پر عمل بھی کرتا مگر ایک مسئلہ تھا کہ اس کو اپنی نئی ٹیچر سے کافی شکایتیں  تھیں اس  میں سب سے غلط بات یہ تھی کہ وہ اسے جھڑکیوں کے ساتھ طنز کا نشانہ بھی بناتی تھیں جس سے اس کے حوصلے پست اور اعتماد میں کمی واقع ہوتی جا رہی تھی بہرحال اب  میں اس کے لئے میں مزید ڈھال تو نہیں بن سکتی تھی کیونکہ  ابھی نوکری  میری ضرورت تھی اور اسکول کی روایت کے خلاف بھی تھا البتہ اس کی حوصلہ افزائی میں ہر ممکن مدد  فارغ اوقات (جو کہ پرائیویٹ ا سکول میں بہت مشکل سے ہی میسر آتے ہیں ہر ممکن مدد کرتی  رہی۔

     اور پھر ایک دن وہ آیا کہ اولیولزکے امتحانات شروع  ہو گئےبچے امتحان دینے گئے تو مجھے کسی ذریعہ سے  بعد میں معلوم ہوا کہ”  یہ شائداسکول والوں کی لا علمی تھی یاانہوں نے مصلحتاً ہمیں بے خبر رکھا تھا کہ  o,level کی پالیسی  ہے کہ سی آئی ای  والے بھی ایسے طلبہ کو خصوصاً اضافی وقت دیتے ہیں”

میری پھلی کہانی

 اور پھر جناب ایک دن وہ آیا کے طلباء اسکول میں اپنی کی مارکس شیٹس لینے آئے ۔اور وہ مجھے ڈھونڈتا ہواآیا اور اس نے مجھے خوشی بتایا کہ اس کا اردو میں” B”آیا ہے مجھے بے حد خوشی ہوئی وہ بولا بس مِس یہ صرف آپ کی وجہ سے ہےکیونکہ ” میری ٹیچر نےتو مجھے چیلنج کیا تھا کہ آپ اردو میں پاس بھی ہو جاؤ تو بڑی بات ہوگی اس کے الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی کہ میرے لیے کتنی اہمیت رکھتے تھے ایک لمحے میں ان الفاظ نے مجھے اس بلندی پر پہنچا دیا تھا کہ جس کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی دراصل یہ صرف زیان کی نہیں میری بھی کامیابی کا دن تھا۔

 پھر اس نے اپنی اس ٹیچر کے بارے میں پوچھا مگر  ان کاٹرانسفر ہو چکا تھا اس نے کہا کہ آج وہ مجھے ملتیں تو میں بتاتا کہ دیکھیں  میں نے پاس ہو کر بتادیا ۔

                         پروردگار زین کی زندگی کے ہر منزل آسان کرے “آمین “

زین جیسے کردار ہماری زندگی کا وہ نور ہیں جو مایوسی کے اندھیروں میں جگنو کا کام کرتے ہیں اگلی دفعہ ایسی ہی کسی اور کردار کے ساتھ پھر حاضر ہوںگی ۔شکریہ

فہیمہ مریم –

میری پھلی کہانی

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments