Urdu Literature Urdu Short Stories

میری ماں میری زندگی // خالقہ جمیل

ماما آپ کو پتہ ہے آج پہلی بار بابا نے مجھ پر یعنی اپنی لاڈلی پر ہاتھ اٹھایا۔وہ لاڈلی جس کی ہر خواہش پوری کرنا وہ اپنا اولین فرض سمجھتے تھے۔ماما آپ مجھے چھوڑ کرکیوں چلی گئیں؟میں تو آپ کی جان تھی نہ،پھر آپ مجھ سے اتنا دُور کیوں ہو گئیں؟آپ نے ایک بار بھی نہیں سوچا کہ آپ کے جانے کے بعد آپ کی بیٹی کتنی تنہا ہو جائے گی۔
میں آپ کو بہت مس کرتی ہوں ماما!
آپ کا میری پرواہ کرنا،بیمار ہونے پر مجھے زبردستی دوا کھلانا،رات سونے سے پہلے دودھ کا گلاس پلانا،میری نت نئی فرمائشیں پوری کرنا۔۔۔۔
ماما آج میں خود کو بہت تنہا محسوس کر رہی ہوں۔بیٹیاں تو رحمت ہوتی ہے نا۔۔۔۔۔۔
پھر بابا کیوں مجھے زحمت سمجھنے لگے ہیں؟؟؟
ڈائری کا یہ صفحہ پڑھ کر نواز حسن کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“ماما آج میں ناشتے میں آملیٹ کھاؤں گی۔مجھے یہ دلیہ نہیں کھانا۔دو دن سے یہ دلیہ کھا کھا کر میرے منہ کا ذائقہ عجیب ہو رہا ہے۔”حور نے منمناتے ہوئے کہا۔”میری گڑیا بیمار تھی تو اس لیے یہ کھلانا پڑا۔ابھی یہ کھا لو۔اسکول سے واپس آؤ گی تو تمہارا پسندیدہ کھانا بنا ہو گا۔”اُس کی ماما نے پیار سے کہا۔

You mean Sandwiches and Fried Rice???
“Yeah,my little doll.”Hoor’s mama said.

حور جب اسکول سے گھر آتی تھی تو سب سے پہلے اپنی ماما کو پیار کرتی تھی۔اور اگر وہ اُسے نظر نہ آتی تو پورا گھر سر پر اٹھا لیتی تھی۔
آج معمول کے مطابق وہ گھر آئی۔بیگ روم میں رکھا اور آوازیں دینے لگی۔ماما ماما کہاں ہیں آپ؟؟لیکن جواب ندارد۔۔۔اتنے میں اُسے سعدیہ بُوا نظر آئیں جو ڈرائنگ روم کی ڈسٹنگ میں مصروف تھیں۔”سعدیہ بُوا ماما کہاں ہے؟”حور نے پوچھا۔بیٹا وہ تو گھر پر نہیں ہیں۔گھر پر نہیں ہے تو کہاں ہیں وہ؟آپ کے نانا جان کی اچانک طبیعت خراب ہو گئی تھی تو اُنھیں ہسپتال لے کر گئی ہیں۔
“اوہ نو۔۔۔۔۔ اس کا مطلب مجھے پھر سے دلیہ کھانا پڑے گا۔”حور نے بُرا منہ بناتے ہوئے کہا۔ارے نہیں بیٹا!بیگم صاحبہ آپ کے لیے کھانا بنا کر گئی ہیں۔
That’s great!

بُوا آپ کھانا لگائیں میں فریش ہو کر آتی ہوں۔یہ کہہ کر وہ اپنے روم میں چلی گئی۔فریش ہونے کے بعد اُس نے کھانا کھایا اور ٹی وی پر اپنا فیورٹ شو دیکھنے لگی۔جیسے ہی شو ختم ہوا تو سونے کے لیے چلی گئی۔دوپہر میں سونا اُس کی عادت تھی۔
“ماما اُس طرف چلیں نا۔مجھے وہ پھول دیکھنے ہیں اور وہاں پیارے سے پوز بھی بنوانے ہیں۔پلیز ماما وہاں چلیں۔۔۔حور ضد کرنے لگی۔میری پری یہیں اچھی سی تصویریں بنوا لو۔وہاں آگے گہری کھائی ہے۔”نہیں مجھے نہیں پتہ۔۔۔مجھے وہاں جانا ہے ورنہ میں آپ سے بات نہیں کروں گی۔”یہ کہہ کر اُس نے رخ موڑ لیا۔”اچھا!ناراض مت ہو۔چلو وہاں چلیں۔”اُس کی ماما نے مناتے ہوئے کہا۔
عالیہ حور کی تصویر بنا رہی تھی کہ اچانک اُن کا پاؤں پھسلا اور ایک دلدوز چیخ کے ساتھ حور کی آنکھ کھل گئی۔
یا اللہ!تیرا شکر ہے یہ ایک خواب تھا۔حقیقت میں وہ ایسا کچھ تصوّر بھی نہیں کر سکتی تھی کیونکہ اپنی ماما سے وہ بہت پیار کرتی تھی۔اُن کے بغیر رہنے کا خیال ہی اس کا دل دہلانے کے لیے کافی تھا۔
جلد یا بدیر انسان کو اِس دنیا سے رخصت ہونا ہی ہوتا ہے۔لیکن اُس کی ماما اتنی جلدی اُسے چھوڑ کر جانے والی تھی یہ اُس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔
بہت جلد اُس کا یہ خواب سچ ہونے والا تھا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
سنڈے کے دن سب ساتھ ناشتہ کرتے تھے۔کیونکہ حور کے بابا سنڈے کو اپنی پیاری بیوی اور بیٹی کو ٹائم دیتے تھے۔اس وقت بھی وہ دونوں ناشتے کی ٹیبل پر اپنی شہزادی کا انتظار کر رہے تھے کہ اتنے میں حور صاحبہ کی آمد ہوئی۔
اسلام و علیکم ماما بابا!
و علیکم السلام!دونوں نے یک زبان ہو کر کہا۔
کیسے ہیں آپ دونوں؟ہم تو ٹھیک ہیں۔ ہماری بیٹی کیسی ہے؟
“میں تو ٹھیک ہوں بابا۔لیکن آج آپ کو ہمارے ساتھ دیکھ کر بہت خوشی ہو رہی ہے۔ورنہ آپ اتنے ورک ہولک ہو گئے ہیں

کہ میرے اور ماما کے لیے آپ کے پاس ٹائم نہیں ہوتا۔”حور نے خفگی کا اظہار کیا۔
نواز صاحب مسکرائے اور بولے،”لگتا ہے آج بہت ساری شکایتیں سننی پڑیں گی۔”جی بابا میں آپ سے ناراض ہوں۔آپ کافی دنوں سے ہمیں گھمانے بھی نہیں لے کر گئے۔اچھا ہماری بیٹی ناراض نہ ہو۔آج شام آپ دونوں تیار رہنا۔پہلے شاپنگ کریں گے پھر اچھی سی جگہ سے ڈنر کریں گے۔

Wow, that’s amazing baba!

”اب خوش میری بیٹی؟؟؟“

”جی بابا بہت زیادہ۔“
ناشتے کے بعد حور اپنے کمرے میں چلی گئی اُسے کوئی اسائنمنٹ بنانی تھی تو عالیہ اور نواز حسن چہل قدمی کرتے لان میں آ گئے۔باتوں ہی باتوں میں اُن کی یونیورسٹی کا ذکر چھڑ گیا تو جیسے پرانی یادیں تازہ ہو گئیں۔عالیہ کو وہ دن آج بھی یاد تھا جب نواز حسن نے اُنہیں پروپوز کیا تھا۔وہ جیسے اُس خیال میں کھو سی گئیں۔
“میں نواز حسن تمہیں دِل سے چاہتا ہوں۔کیا عالیہ رحمٰن تم میرا ساتھ زندگی بھر کے لیے قبول کرو گی؟”
نواز حسن جیسے انسان کا ساتھ،انکار کی گنجائش ہی نہ تھی۔لیکن گھر والوں نے عالیہ رحمٰن کو قبول نہ کیا۔وجہ وہی عام سی تھی کہ اُس کا تعلق متوسط گھرانے سے تھا۔گو کہ شکل و صورت اور تعلیمی قابلیت کے لحاظ سے وہ کسی سے کم نہ تھیں۔اپنے زمانے کی ٹاپر رہ چکی تھیں۔بعض اوقات حالات و واقعات چاه کر بھی ہمارا ساتھ نہیں دیتے۔اسی وجہ سے نواز حسن نے اپنے گھر والوں سے قطع تعلق کر کے اپنی الگ دنیا بسا لی۔
اُن کے لیے ایک دوسرے کا ساتھ ہی سب کچھ تھا۔وہ چھوٹی سی دنیا گویا اُن کی جنت تھی۔اس جنت میں اُن کے دو پھول کھلے۔
“شہریار اور حورم۔”دونوں بچے اپنے والدین سے بہت اٹیچ تھے۔اُن دونوں کی جان بھی اپنے بچوں میں تھی۔شہریار( شیری )بیرون ملک میں زیرِ تعلیم تھا۔اُسے باہر گئے تقریباً ایک سال ہو چکا تھا۔حورم (حور )دہم کی طالبہ تھی۔لیکن اب تک وہی بچوں والا انداز،وہی رونا دھونا،وہی شرارتیں۔۔۔لگتا ہی نہیں تھا کہ وہ بڑی ہو چکی ہے۔غرض یہ کہ یہ ایک خوشحال گھرانہ تھا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“وقت کا کام ہے گزرنا سو وہ گزر ہی جاتا ہے۔”
دیکھتے ہی دیکھتے گرمیوں کی چھٹیاں آ گئیں۔حور اس بار ماما بابا کے ساتھ کشمیر جانا چاہتی تھی۔اُسے خوبصورت وادیوں سے عشق تھا۔
اس بار یہ عشق کسی کی جان لینے والا تھا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“بس بابا! میں نے کہہ دیا ہے کہ اس بار ہم کشمیر جائیں گے۔”حور نے ضد کرتے ہوئے کہا۔
“بیٹا سمجھا کرو نا اس بار کام کا بوجھ بہت زیادہ ہے میں زیادہ چھٹیاں افورڈ نہیں کر سکتا۔”نواز صاحب نے اُسے سمجھانے کی اپنی سی کوشش کی۔
لیکن وہ حور ہی کیا جو مان جائے۔خیر اس کے بابا کو ہار ماننی پڑی۔”اچھا ٹھیک ہے!میں نیکسٹ ویک اینڈ کی ٹکٹِس بک کروا دیتا ہوں۔”انہوں نے کہا۔

Yahoooo! You are the World’s best dad.I love you so much baba.

عالیہ نے باپ بیٹی کا پیار دیکھا تو دل ہی دل میں اُن دونوں کی نظر اُتاری۔اچھاااا۔۔۔ تو اب سارا پیار اپنے بابا کو ہی دے دو گی۔میرے لیے تو بچے گا ہی نہیں۔
“نہیں ماما!ایسی کوئی بات نہیں۔”اُس نے اُن کے گلے میں بانہیں ڈالتے ہوئے کہا۔

I love you both.I am nothing without you & baba.

رات کو کھانے کے بعد عالیہ اسے دودھ دینے آئی تو وہ اسکائپ پہ شیری سے بات کر رہی تھی۔ماما کو دیکھتے ہی شیری بولا،”اسلام و علیکم ماما! کیسی ہیں آپ؟میں آپ کو بہت مس کرتا ہوں۔”
“وعلیکم السلام!میں بالکل ٹھیک ہوں میری جان۔میں بھی اپنے بیٹے کو بہت مس کرتی ہوں۔بس اب جلدی واپس آ جاؤ۔اب اور انتظار نہیں ہوتا۔”عالیہ نے نم آنکھوں سے کہا۔اوہو ماما یار آپ تو سینٹی ہو گئی۔جلد ہی واپسی کی تیاری پکڑتا ہوں۔بس میں اُڑ کر پہنچ رہا ہوں۔یہ میں آپ کے پاس۔۔۔۔حور کا قہقہہ چھوٹ گیا۔

”آپ دونوں کا پیار ختم ہو گیا ہو تو میں کچھ کہوں“

”میں تو بھول ہی گیا کہ تم بھی بیٹھی ہو۔ہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔
”جائیں میں نہیں بات کروں گی آپ سے۔”

”اچھا اچھا سوری نا۔کیا بتا رہی تھی تم؟؟؟“
میں،ماما اور بابا نیکسٹ ویک اینڈ کشمیر جا رہے ہیں۔بہت مزا آنے والا ہے۔ہم آپ کو بہت مس کریں گے۔

”واؤ یہ تو بہت خوشی کی بات ہے۔“

”رات بہت ہو گئی ہے اب تم دونوں سو جاؤ میں بھی جا رہی ہوں۔“
“اوکے بھائی! گڈ نائٹ۔اللہ حافظ”
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
فائنلی وہ دن آن پہنچا جب اُنہیں کشمیر جانا تھا۔عالیہ حور کے پاس پوچھنے آئی کہ سب سامان رکھ لیا۔

”جی ماما! میں نے پرسوں ہی ساری پیکنگ کر لی تھی۔“اس بات پہ وہ مسکرائی کہ اُن کی بیٹی کو کس قدر جلدی ہے۔
جب وہ لوگ وہاں پہنچے تو نواز صاحب نے کہا کہ ابھی آرام کرو کل باہر جائیں گے۔حور تو آج ہی جانے پہ بضد تھی لیکن اس کے بابا نے منع کر دیا۔
اگلی صبح ناشتے کے بعد اُن لوگوں نے وادئ نیلم کا رُخ کیا۔حور خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی۔وہ اپنے خوابوں کی دنیا میں آ گئی تھی۔جگہ جگہ اس نے نئے نئے پوز بنا کے تصویریں لی۔پھر دوپہر کا کھانا کھایا۔اچانک ہی حور کی نظر دور پھولوں پر پڑی تو اس نے اپنی ماما سے کہا کہ آئیں وہاں چلیں۔انہوں نے منع بھی کیا کہ وہاں جانا ٹھیک نہیں۔لیکن وہ نہ مانی۔خیر وہ لے گئیں۔اُس طرف جاتےاچانک اُن کا پاؤں پھسلا اور حور کی چیخیں نکل گئیں۔شور سن کر نواز صاحب وہاں آئے تو جیسے اُن کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔بہت ڈھونڈھنے پر بھی عالیہ کا کچھ پتہ نہ چل سکا۔چار و نا چار اُنہیں واپس آنا پڑا۔
واپس آ کر نواز صاحب کو تو جیسے چپ لگ گئی۔حور بھی زیادہ تر کمرے میں بند رہتی تھی۔اس عرصے میں شیری بھی واپس آ گیا اور بابا کا بزنس سنبھال لیا۔
ہونی کو کون ٹال سکتا تھا۔
جو ہونا تھا وہ تو ہو چکا تھا۔لیکن نواز صاحب نے اب تک حقیقت کو تسلیم نہ کیا تھا اور اس سب میں قصور وار بھی وہ حور کو ٹھہراتے تھے۔ اُس سے بات بھی نہیں کرتے تھے۔
وقت یونہی گزر رہا تھا۔پھر ایک دن اُن کے ہاتھ حور کی ڈائری لگی۔جسے پڑھ کر اُنہیں احساس ہوا کہ وہ تو بچی ہے۔وہ ایسے ہی اُسے سزا دیتے رہے۔

“ماما آپ کو پتہ ہے آج پہلی بار بابا نے مجھ پر یعنی اپنی لاڈلی پر ہاتھ اٹھایا۔وہ لاڈلی جس کی ہر خواہش پوری کرنا وہ اپنا اولین فرض سمجھتے تھے۔ماما آپ مجھے چھوڑ کرکیوں چلی گئیں؟میں تو آپ کی جان تھی نہ،پھر آپ مجھ سے اتنا دُور کیوں ہو گئیں؟آپ نے ایک بار بھی نہیں سوچا کہ آپ کے جانے کے بعد آپ کی بیٹی کتنی تنہا ہو جائے گی۔
میں آپ کو بہت مس کرتی ہوں ماما!
آپ کا میری پرواہ کرنا،بیمار ہونے پر مجھے زبردستی دوا کھلانا،رات سونے سے پہلے دودھ کا گلاس پلانا،میری نت نئی فرمائشیں پوری کرنا۔۔۔۔
ماما آج میں خود کو بہت تنہا محسوس کر رہی ہوں۔بیٹیاں تو رحمت ہوتی ہے نا۔۔۔۔۔۔
پھر بابا کیوں مجھے زحمت سمجھنے لگے ہیں؟؟؟”
اتنا پڑھ کر ہی وہ دکھی ہو گئے۔اُن سے مزید نہ پڑھا گیا۔اُنہیں وہ دن یاد آ گیا جب انہوں نے چائے ٹھیک نہ بنانے پر اُسے تھپڑ مارا تھا۔حالانکہ چائے اتنی بھی بری نہیں تھی۔وجہ وہی واقعہ تھا۔
اس کے بعد اُن کا رویہ حور کے ساتھ بہتر ہو گیا۔پھر سے وہ اس کے پرانے والے بابا بن گئے۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
دو سال بعد

حور کی اٹھارویں سالگرہ تھی۔سارا گھر بہت پیارا سجایا گیا تھا۔پنک اور وائٹ غبارے ہر طرف نظر آ رہے تھے۔سیڑھیوں سے نیچے آؤ تو لاؤنج میں ہر طرف غبارے ہی غبارے تھے کیونکہ حور کو غبارے بہت پسند تھے۔
غبارے،پھول اور چاکلیٹس تو اُس کے فیورٹ تھے۔
میز پر پیارا سا کیک رکھا ہوا تھا جس پر باربی کی پکچر پرنٹ کی گئی تھی۔کیک بھی اس کی فرمائش پر ہی ایسا بنا تھا۔حور نے آج پنک کلر کی میکسی پہن رکھی تھی اور بال کھلے چھوڑے تھے۔لائٹ سا میک اپ کیے وہ کسی حور سے کم نہ لگ رہی تھی۔بس مسکراہٹ کی کمی تھی۔
آج کے دن اُسے ایک ایسا سرپرائز ملنے والا تھا جس سے اُس کے چہرے کی رونق واپس آنے والی تھی۔
حور کے سب دوستوں کو بھی بلایا گیا تھا۔جیسے ہی کیک کاٹا گیا۔سب نے تالیاں بجائیں۔تو نواز صاحب بولے کہ میں حور کو ایک سرپرائز دینا چاہتا ہوں۔شیری آ جاؤ اندر۔جیسے ہی وہ اندر آیا تو ساتھ آتے وجود کو دیکھ کر حور کے چہرے کی رونق واپس آ گئی۔اور وہ کوئی اور نہیں اُس کی ماما تھیں۔

ج کا یہ سرپرائز اُس کی زندگی کا سب سے اچھا سرپرائز تھا۔
بعد میں نواز صاحب نے اُنہیں بتایا کے کیسے وہ علی کی فیملی کو ملی اور انہوں نے ان کا خیال رکھا کیونکہ عالیہ سر پر گہری چوٹ لگنے سے کومے میں چلی گئ تھیں۔ہوش میں آنے پر ان لوگوں نے مجھ سے رابطہ کیا تو میں نے اسی دن کے لیے یہ بات چھپا کر رکھی تھی۔
میں اپنی پرنسز کو سرپرائز دینا چاہتا تھا۔کیسا لگا یہ سرپرائز؟؟؟
“بابا میں بتا نہیں سکتی یہ میری زندگی کا سب سے اچھا سرپرائز ہے جو میں کبھی نہیں بھول سکتی۔”حور نے نم آنکھوں سے کہا۔
اُن کے گھر کی خوشیاں واپس لوٹ آئیں تھی۔پھر سے اُن کا گھر جنت بن گیا تھا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

Sharing Is Caring

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of