لِسّان // لاریب رضوی

لِسّان // لاریب رضوی

قسط ٣

روشن امید

°°°°°°

وہ چاۓ کے گرم کپ ہاتھ میں لئے سیاہ آسمان کو دیکھ رہا تھا۔ آسمان پر بھی اسکے دل کی طرح ایک دھند سی چھائی تھی۔ مگر وہ آج دل کی دھند میں بھٹکا نہیں تھا آج تو اسے اس دھند میں ایک روشن امید نظرآئی تھی جو اسے زندگی کی طرف لے آئی تھی۔ وہ جو برسوں پہلے سمندر کی موجوں میں ڈوب گیا تھا کسی کی نگاہوں نے اسے واپس ساحل پر لا کھڑا کیا تھا۔ وقت نے آج پہلی بار اس کے زخم کو ٹھنڈی ہوا دی تھی جو بہت راحت بخش تھی۔ّ ”ماشاء االله۔۔ تمہاری خوشی کو نظر نا لگے۔“آج حریم نے کئی سال بعد اپنے بھائی کو مسکراتا ہوا دیکھا تھا۔ شجاع نے اس کی آواز پر اسے مسکرا کر دیکھا۔ ”تمھیں معلوم ہے… تم کتنے عرصے بعد اسطرح مسکرائے ہو؟ ”حریم نے مسکراتےہوئے کہا شجاع کپ کو دیکھ رہا تھا اور وہ دلفریب مسکراہٹ ابھی بھی اس کے ہونٹوں پے چھائی تھی۔ُ”اس وجہ کو کھونے نا دینا۔“حریم نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھا۔”اچھا کل یاد سے گھر آجانا۔ ہم تمھارا گھر پر انتظار کریں گے ۔“ حریم کی بات پر شجاع نے اثبات میں سر ہلایا اور پھر وہ وہاں سے چلی گئی۔حریم اپنے شوہر اور دو بچوں کے ساتھ الگ گھر میں رہتی تھیں یہی وجہ تھی جو شجاع ان سے رابطے میں تھا۔ ورنہ اپنے بابا جان کے گھر کو چھوڑ دینے کے بعد چار سال پہلے اس گھر سے جڑے ہر رشتے کو الودع کہہ آیا تھا مگر  حریم نے اپنے چھوٹے بھائی کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑا۔ شجاع نے بہت کوشش کی تھی کہ حریم ان سے نہ ملے مگر شجاع کی ہر کوشش پر پانی پھیر کر حریم ایکہفتہ میں کبھی بھی شجاع کے گھر کا چکر ضرور لگاتی اور زبردستی انھیں اپنے گھر دعوت پر بھی بلاتی۔ ان چار سالوں میں صرف دو بار شجاع ان کے گھر گیا تھا۔ مگر حریم کو اطمینان تھا چاہے ایسے ہی صحیح شجاع ان سے ملتا تو ہے اور باتبھی کر لیتا ہے ورنہ ان کے باقی بہن،بھائی تو شجاع کو دیکھنے کےلیے ترستے ہیں۔حریم کے جاتے ہی شجاع کو یاد آیا کے انہوں نے ہوٹل کے گارڈ سے اس انجان لڑکی کے حوالے سے پوچھا تھا۔ جس پر اس گارڈ نے شجاع کو بتایا تھا کہ وہ لڑکی شاید بول نہیں سکتی تھی۔ اس لیے گارڈ کے نام پوچھنے پر اس نے اپنا کارڈ دکھایا تھا۔ شجاع نے گارڈ سے پوچھا کے کارڈ پر اس نے کیا پڑھا تھا۔ تو گارڈ نے اسے بیکری اور اس لڑکی کا نام بتایا۔شجاع نے زیرِ لب نام دوہرایا تو اس کی گرم سانس فضا کی سرد ہوا میں سفید دھوٸیں کی شکل میں تحلیل ہو گئی تھی ۔”رجاء مشتاق … سویٹ ھیپینیس.. “ 
کراچی کی یہ سردی اس کے لیے نئی نہیں تھی مگر ایک اجنبی احساس اسے اپنے سحر میں لپیٹے ہوۓ تھا۔//لِسّان //

شجاع اپنے کمرے کی گیلری سے اندر آکر اپنے بیڈ پر بیٹھ گیا ۔اس نے کپ سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور اپنا لیپ ٹاپ اٹھا کر سامنے رکھا اور پھر اس کینرم کیپیڈ پر اپنی لمبی انگلیوں کو حرکت دیتے ہوئے کچھ الفاظ لکھے اور سامنے اسکرین پر نظر آتی معلومات کو پڑھنے لگا۔جب انسان کو اندھیری راہوں میں امید کی کرن نظر آتی ہے تو وہ بنا وقت گنوائے اس روشنی کی جانب چل دیتا ہے۔ شجاع بھی روشنی کی جانب چل دیا تھا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ روشنی کس طرح کی تھی؟ بس وہ فلحال اس اندھیری راہ سے نکلنا چاہتا تھا اور وہ روشنی اس کے باہر نکلنے کا راستہ تھی. لِسّان ۔

سے ملتا تو ہے اور باتبھی کر لیتا ہے ورنہ ان کے باقی بہن،بھائی تو شجاع کو دیکھنے کےلیے ترستے ہیں۔حریم کے جاتے ہی شجاع کو یاد آیا کے انہوں نے ہوٹل کے گارڈ سے اس انجان لڑکی کے حوالے سے پوچھا تھا۔ جس پر اس گارڈ نے شجاع کو بتایا تھا کہ وہ لڑکی شاید بول نہیں سکتی تھی۔ اس لیے گارڈ کے نام پوچھنے پر اس نے اپنا کارڈ دکھایا تھا۔ شجاع نے گارڈ سے پوچھا کے کارڈ پر اس نے کیا پڑھا تھا۔ تو گارڈ نے اسے بیکری اور اس لڑکی کا نام بتایا۔شجاع نے زیرِ لب نام دوہرایا تو اس کی گرم سانس فضا کی سرد ہوا میں سفید دھوٸیں کی شکل میں تحلیل ہو گئی تھی ۔”رجاء مشتاق … سویٹ ھیپینیس.. “ 
کراچی کی یہ سردی اس کے لیے نئی نہیں تھی مگر ایک اجنبی احساس اسے اپنے سحر میں لپیٹے ہوۓ تھا۔ شجاع اپنے کمرے کی گیلری سے اندر آکر اپنے بیڈ پر بیٹھ گیا ۔اس نے کپ سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور اپنا لیپ ٹاپ اٹھا کر سامنے رکھا اور پھر اس کینرم کیپیڈ پر اپنی لمبی انگلیوں کو حرکت دیتے ہوئے کچھ الفاظ لکھے اور سامنے اسکرین پر نظر آتی معلومات کو پڑھنے لگا۔جب انسان کو اندھیری راہوں میں امید کی کرن نظر آتی ہے تو وہ بنا وقت گنوائے اس روشنی کی جانب چل دیتا ہے۔ شجاع بھی روشنی کی جانب چل دیا تھا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ روشنی کس طرح کی تھی؟ بس وہ فلحال اس اندھیری راہ سے نکلنا چاہتا تھا اور وہ روشنی اس کے باہر نکلنے کا راستہ تھی۔

حریم کے جاتے ہی شجاع کو یاد آیا کے انہوں نے ہوٹل کے گارڈ سے اس انجان لڑکی کے حوالے سے پوچھا تھا۔ جس پر اس گارڈ نے شجاع کو بتایا تھا کہ وہ لڑکی شاید بول نہیں سکتی تھی۔ اس لیے گارڈ کے نام پوچھنے پر اس نے اپنا کارڈ دکھایا تھا۔ شجاع نے گارڈ سے پوچھا کے کارڈ پر اس نے کیا پڑھا تھا۔ تو گارڈ نے اسے بیکری اور اس لڑکی کا نام بتایا۔شجاع نے زیرِ لب نام دوہرایا تو اس کی گرم سانس فضا کی سرد ہوا میں سفید دھوٸیں کی شکل میں تحلیل ہو گئی تھی ۔”رجاء مشتاق … سویٹ ھیپینیس.. “ 
کراچی کی یہ سردی اس کے لیے نئی نہیں تھی مگر ایک اجنبی احساس اسے اپنے سحر میں لپیٹے ہوۓ تھا۔ شجاع اپنے کمرے کی گیلری سے اندر آکر اپنے بیڈ پر بیٹھ گیا ۔اس نے کپ سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور اپنا لیپ ٹاپ اٹھا کر سامنے رکھا اور پھر اس کینرم کیپیڈ پر اپنی لمبی انگلیوں کو حرکت دیتے ہوئے کچھ الفاظ لکھے اور سامنے اسکرین پر نظر آتی معلومات کو پڑھنے لگا۔جب انسان کو اندھیری راہوں میں امید کی کرن نظر آتی ہے تو وہ بنا وقت گنوائے اس روشنی کی جانب چل دیتا ہے۔ شجاع بھی روشنی کی جانب چل دیا تھا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ روشنی کس طرح کی تھی؟ بس وہ فلحال اس اندھیری راہ سے نکلنا چاہتا تھا اور وہ روشنی اس کے باہر نکلنے کا راستہ تھی۔

••••••

لِسّان

سب کمرے میں موجود کارپیٹ پر بچھے دسترخوان کے ارد گرد بیٹھے دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے ۔ پرانی روایت کو بر قرار رکھتے ہوئے گھر کے سب افراد دسترخوان پر بیٹھ کر ایک ساتھ کھانا کھاتے تھے۔”ارے فضہ بیگم کل ہمیں رفیق صاحب ملے تھے۔ انہوں نے ہماری رجاء کی بڑی تعریفیں کیں۔ “ مشتاق نے بڑے فخر سے بتایا اور سب نے مسکرا کر رجاء کو دیکھا جو خاموشی سے کڑاہی گوشت کھا رہی تھی۔”ہماری رجاء ہے ہی اتنی پیاری کہ سب وارے جاتے ہیں۔“ سوہا نے رجاء کو چھیڑنے کے لیے مسکرا کر کہا اور رجاء نے اسے گھور کر دیکھا۔ اتنے میں کسی نے گھر کے دروازے پر دستک دی۔ ابراھیم اٹھ کر دیکھنے چلے گئے۔ تھوڑی دیر میں وہ ہاتھ میں ایک بڑا ڈبہ پکڑے کمرے میں داخل ہوئے ۔”یہ کیا ہے ؟“ فضہ نے ڈبے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ابراھیم سے پوچھا۔”امی ڈیلیوری بوائے آیا تھا رجاء کے نام پارسل ہے ۔“ابراھیم نے ڈبہ رجاء کے سامنے رکھا جس پر ایک کارڈ بھی لگا تھا۔”رجاء کے نام ؟چلو رجاء جلدی کھولو۔“سوہا بھی اتاولی ہوگئی۔ رجاء نے ڈبے کو چمکتے کاغذ سے نکالا اور اس پر بنا لوگو دیکھ کر حیران رہ گئی ۔مگر اس کے لیے یہ آخری جھٹکا نہیں تھا ۔ ”تمھاری بیکری سے تمھیں ہی پارسل بھیجا ہے ؟ بات سمجھ نہیں آئی۔ ”سوہا کی بات پر رجاء نے کندھے اچکائے۔ رجاء نے ڈبہ کھولا اور دونوں لڑکیوں کا حیرانی سے منہکھلا رہ گیا۔”کیا ہوا ؟“ فضہ نے سوال کیا اور دونوں لڑکیوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ ڈبے کے اندر لاوا چاکلیٹ کیک تھا۔ جس پر شکریہ رجاء لکھا تھا۔ رجاء سوچ میں پڑ گئی تھی کہ یہ کس نے شکریہ کہا ہے۔ وہ بھی اسی کی بیکری سے، خود اسے ہی ، اس کا پسندیدہ کیک کس نے بھیجا ؟ کہیں اس کے اسٹاف میں سے تو کسی نے یہ شرارت نہیں کی ؟ ابھی رجاء یہ سوچ ہی رہی تھی کہ ابراہیم نے ڈبے کےساتھ آیا کارڈ اس کی طرف بڑھایا۔ رجاء نے وہ کارڈ پکڑ کر اسے پڑھنے لگی اور اس کی آنکھوں کا دائرہ حیرت سے پھیل گیا۔ سوہا اس کے کندھے پر سے جھانک کر کارڈ پر لکھی تحریر پڑھنے لگی۔”یہ شجاع حیدر کون ہے ؟“سوہا کے سوال پر رجاء نے کارڈ اسے دے دیا اور خود نظریں جھکائے کھانا کھانے لگی۔ رجاء نے اپنے والدین سے کبھی کوئی بات نہیں چھپائی تھی اس لیے اس نے ی بات بھی چھپانا ضروری نہیں سمجھا۔”سوہا بیٹا کیا لکھا ہے کارڈ میں؟ ”فضہ کے سوال پر سوہا نے ایک نظر رجاء کو دیکھا اور پھر کارڈ پر لکھی تحریر پڑھی۔”اسلام و علیکم ! اس دن میری مدد کرنے پر میں آپ کا شکر گزار ہوں۔ اس دن آپ شاید جلدی میں تھیں اس لیے شکریہ ادا نہ کر سکا تھا ۔ گارڈ سے آپ کی بیکری کا پتہ چلا مگر آج آپ وہاں موجود نہیں تھیں اس لیے یہ کیک اور شکریا کا کارڈ بھیج رہاہوں ۔ شجاع حیدر۔ “ سوہا نے کارڈ پڑھ کر ایک طرف رکھ دیا۔”یہ لڑکا کون ہے ؟رجاء تم جانتی ہو ؟“مشتاق کے سوال پر رجاء نے نہیں میں سر ہلایا۔”بیٹا پھر اجنبی تمھارا شکریہ ادا کیوں کرے گا ؟“مشتاق نے حسب قاعدہ رجاء سے سوالکیا۔ رجاء نے سوہا کو اشاروں کی زبان میں کہا کہ وہ ابو کو سب بتادے تو سوہا نے ویسا ہی کیا۔”اوہ ! تو یہ بات ہے۔ مدد کرنا تو اچھی بات ہے لیکن بیٹا ذرا دھیان رکھنا اکثر مدد کی آڑ میں لوگ مددگار کو ہی لوٹ لیتے ہیں۔ مممم ۔۔؟ ”مشتاق نے مسکرا کر اپنی بیٹی کو بات سمجھا دی تھی جسے وہ بھی بخوبی سمجھ گئی تھی ۔والدین اپنی اولاد کا ہمیشہ اچھا چاہتے ہیں اس لیے چاہتے ہیں کے ان کی اولاد کسی غلط راہ پر نا چل پڑ ے۔ فکر صرف اور صرف اپنی اولاد کی سلامتی کی ہوتی ہے کیونکہ انسان کو اپنی قیمتی چیز زیادہ عزیز ہوتی ہے اور والدین کے لیے اولاد سب سےعزیز ہوتی ہے مگر کئی موقعوں پر اولاد اپنے والدین کی محبتوں کو قید سمجھ لیتی ہے اور آزادی کی اڑان بھرنے کے چکر میں دنیا کے بُنے گئے جالوں میں پھنس جاتی ہے ۔ مشتاق نہیں چاھتے تھے کہ رجاء بھی کسی جال کا شکار ہو جاۓ۔ وہ اسے پنکھپھیلائے محفظ اڑان بھرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں جہاں نہ کسی جال کا ڈر ہو اور نا ہی کسی شکاری پرندے کا ڈر۔

°°°°°°°°°°

لِسّان // لاریب رضوی

Sharing Is Caring
Recommended For You

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of