لِسّان // لاریب رضوی

لِسّان // لاریب رضوی 1 قسط 

کامل یقین

°°°°°°

لِسّان // لاریب رضوی

وہ سامنے سنہری دھوپ میں نہاے گھاس کے میدان کو دیکھ رہی تھی ۔وہ اکثر صبح یہاں آکر کسی بھی خالی لکڑی کی بینچ پر بیٹھ کر قدرت کے حُسن کو دیکھتی تھی ۔ سورج کی کرنوں کا آہستہ آہستہ باغ کی ہر ڈالی ،بیل اور بوٹے پر پھیل جانا پھر فضا میں گونجتی پرندوں کی چیچحاہٹ یہ سب اسے ایک عجیب قسم کی راحت بخشتا تھا۔ آج بھی وہ اپنے بھائی کے ساتھ یہاں آئ تھی۔

“رِجّاء ! چلیں؟ “اپنے بھائی کی آواز سن کر اس نے مسکرا کے اثبات میں سر ہلایا اور کھڑی ہو کر ان کے ساتھ قدم  سے قدم ملا کر چلنے لگی۔

کچھ سوچتے ہوے اس نے اپنے بھائ کا ہاتھ پکڑ کر انھیں  روکا اور ہاتھ کے اشاروں سے اپنی بات سمجھانے لگی۔ابراہیم سینے پر ہاتھ باندھے اپنی چھوٹی بہن کے  اشاروں کو سمجھنے لگے۔ 

“تم چاہتی ہو کے میں امّی ، ابّو سے بات کروں ..  وہ تمھاری شادی کے خواب دیکھنا چھوڑ دیں ؟”ابراھیم کی بات پر رجاء نے ہاں میں سر ہلایا لیکن پھر کچھ سوچ کر اداس چہرہ بنا کر اپنی دائیں جانب دیکھنے لگی۔

“بچے منہ پھیر لینے سے حقائق نہیں بدلتے۔”ابراھیم نے اپنی چھوٹی بہن کے سر پر ہاتھ پھیرا اور پھر اسے کندھے سے پکڑ کر چلنے لگے۔

“ہر ماں ، باپ کا خواب ہوتا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو دلھن کے روپ میں دیکھیں ۔امّی ،ابّو بھی اسی خواب کی تعبیر دیکھنا چاہتے ہیں۔ “ابراہیم کی بات سن کر رجاء نے رُک کر اپنے چھ فٹ لمبے بھائ کی طرف دیکھا۔

“خواب کی تعبیر الٹ ہوتی ہے۔ “رجاء نے سوچتے ہوے سر جُھکایا مگر پھر اپنے بھائ کو دیکھ کر اشاروں کی زبان میں سوال پوچھا۔

“تم پوچھنا چاہ رہی ہو کہ لڑکے والوں کو تمھاری بے زبانی کا علم ہے ؟”ابراھیم کے سوال پر رجاء نے اثبات میں سر ہلایا۔

“شکیلا آنٹی(رشتے کروانے والی) نے بتا دیا ہوگا آخر ابو نے انھیں سختی سے تاکید کی تھی.. لڑکے اور اس کی فیملی سے یہ بات بلکل نا چھپائ جاے۔ تو انھیں اس بارے میں  معلوم ہوگا۔ اچھا چلو اب تم فکر چھوڑو اور گھر چلو کام انتظار کر رہے ہیں۔ ” آخری جملے پر ابراھیم نے آنکھیں گھمائ تھیں اور دونوں بہن، بھائ اپنی منزل کی طرف روانہ ہوے ۔

رجاء اور ابراہیم دونوں مشتاق اور فضّہ کی واحد اولاد ہیں۔ مشتاق ایک پرائیوٹ ادارے میں بطور استاد اپنی خدمات انجام دے کر اب رٹائر ہو چکے تھے اور فضّہ ایک ہاوس وائف  کی طرح اپنے گھر اور گھر کے افراد کا خیال رکھتیں۔ ابراہیم کے بینک میں جاب کی وجہ سے ان کے گھر کے حال خاصے بہتر ہوچکے تھے۔ ابراہیم کی منگنی اپنے تایا کی بیٹی سے ہوچکی تھی۔ رجاء بھی کراچی شہر کے اسپیشل کالج سے اپنی پڑھائ مکمل کر چکی تھی اور ہاتھ کے ہاتھ اس نے وہاں سے بیکنگ میں سرٹیفکیٹ بھی حاصل کر لیا تھا۔ پاکستان کی باقی لڑکیوں کی طرح اس کے لئے بھی رشتہ ڈھونڈنے کی دوڑ لگی ہوئی تھی مگر ہر بار اس کی بے زبانی کی وجہ سےبنتی بات بگڑ جاتی ۔

مگر مشتاق اور ان کی فیملی کو اللّه کی ذات پر یقین تھا اس لیے وہ کبھی نا امید نہیں ہوے اور اپنی تلاش جاری رکھی مگر کہیں نا کہیں رجاء کے دل میں اپنی کمزوری کو لے کر ایک خلش سی پڑ گئی ۔ رجاء دیکھنے میں خوبصورت تھی۔ کشش والی شہد جیسی آنکھیں ان پر سایہ کرتی لمبی گھنی پلکیں، کھڑے کھڑے سے نقوش دیکھنے والے کی نظر کو ٹھیرنے پر مجبور کر دیتے ۔اُس پر سانولی رنگت اور لمبے گھنے بال جنھیں وہ کیچر میں باندھ  کر دوپٹے سے چھپا کر رکھتی تھی۔

••••••••

اس نے اپنی جینز کی جیب سے بجتے موبائل کو نکال کر اس کی اسکرین پر لکھے نام کو دیکھا اور سانس بھر کر کال اٹھالی ۔اس نے سلام میں پہل کی اور پھر کال کرنے والے شخص کے جواب کا انتظار کرنے لگا ۔

سامنے ٹھاٹے مارتا سمندر دیکھ کر وہ اُس شخص کی بات کودھیان سے سن رہا تھا ۔  فضا اس کے گھنے کالے بالوں کو بے ترتیب کر چکی تھی سفید رنگ کی شرٹ کی آستین کو کوہنیوں تک لپیٹے اور کالی جینز میں ملبوس وہ گاڑی کے بونٹ سے ٹیک لگاے کھڑا تھا۔

“ماں اپنی اولاد کے قاتل کو نہیں بھولتی.. اور میں ایک قاتل ہوں.” اس نے آنکھیں سکیڑ کر آسمان پر اڑتے پرندوں کو دیکھ کر فون پر کہی گئی کسی بات کا جواب دیا تھا۔

“شجاع !دیوانوں جیسی باتیں نہ کرو۔ تم ہمیں ابھی بھی اُسی طرح عزیز ہو جیسے پہلے تھے۔ ” اپنی بہن کی بات سن کر شجا کی چہرے پر اداس مسکراہٹ چھا گئ۔

“حریم پہلے زنیزا ہمارے ساتھ تھی۔اب صرف میں رہے گیا ہوں۔ “شجا کی آواز میں اس کا پچتاوا اور درد دونوں واضح تھے۔

“شجاع… لوٹ آو… میں خود ممّی کو سمجھاو گی۔” حریم کی التجا سن کر شجا نے نہیں میں سر ہلایا۔

“بہت دیر ہوگئی… سب کا خیال رکھنا۔”شجا نے کال کاٹ دی اور موبائل کو جیب میں رکھا اور جوتے اتار کر سمندر کی طرف چل دیا ۔

•••••••••

مشتاق صاحب کے گھر میں رجاء کو دیکھنے کے لئے لڑکے کے گھر کے افراد تشریف لا چکے تھے ۔ ابراھیم کی منگیتر سوہا اپنی بہنوں کے ساتھ گھر کے اوپری منزل پر بنے کمرے میں رجاء کو تیار کر رہی تھی۔ ابراھیم اپنے والدین اور مہمانوں کے ساتھ نیچے بیٹھک میں موجود تھے۔ سوہا نے موبائل سے میسج کر کے ابراھیم کو اوپر بلایا کیونکہ رجاء نیچے جانے سے گھبرا رہی تھی۔

خیر ابراھیم اوپر آئے اور سوہا اپنی بہنوں کے ساتھ کمرے سے باہر چل گئ۔ ابراہیم اپنی بہن کے سامنے بیڈ پر بٹیھے اور اس کی طرف دیکھا جو گٹھنوں پر پیشانی رکھے ان کے گرد ہاتھوں کا گہرا بنائے رو رہی تھی۔ ابراھیم نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا ۔

“کیا ہوا میری شہزادی کیوں رو رہی ہے؟” ابراھیم  کی آواز پر رجاء نے سر جھکاے ہوے اپنے پاس رکھے قلم اور کاپی کو اٹھایا اور اس پر چند الفاظ لکھ کر کاپی ابراھیم کو دے دی۔

“ڈر لگ رہا ہے…” ابراھیم نے وہ الفاظ آواز سے پڑھے تو رجاء نے چہرہ اٹھا کر اپنے بھائ کو دیکھتے ہوے اثبات میں سر ہلایا اور ابراھیم اپنی بہن کی معصومیت پر مسکرائے۔

“جو خدا کی ذات پر یقین رکھتے ہیں… وہ بے خوف ہوتے ہیں۔  رجاء… تمہیں خدا پر یقین ہے ؟”ان کے سوال پر رجاء نے پھر سے اثبات میں سر ہلایا۔ انھوں نے اس کے رخصار پر بہتے آنسو کو صاف کیا۔

“تو پھر یوں آنسو بہانا چھوڑو اور خدا پر یقین رکھو کیونکہ اسی کا ساتھ تمہیں زندگی کے اندیھروں سے نکال کر اجالوں میں لے آئے گا۔  اچھا چلو بھائ کو مسکرا کر دکھاو۔ ” رجاء مسکرا کر اپنے بھائ کے گلے لگ گئ۔اس نے ربّ کا شکر ادا کیا کہ اسے اتنی محبت کرنے والے بھائ سے نوازا جس کی نصیحتیں رجاء کو بھٹکنے نہیں دیتی اور پریشانیوں میں اس کے مضبوط بازو رجاء کے لیے محافظ پناہ گاہ ثابت ہوتے ہیں ۔

••••••

لِسّان // لاریب رضوی

ابراھیم اپنی بہن کو اپنے ساتھ نیچے لے آئے لڑکے کے گھر والوں کو رجاء کی خوبصورتی نے متاثر کیا۔لڑکے کی ماں نے رجا کو اپنے ساتھ بٹھایا اس کی خوبصورتی کو کئی بار سراہا۔

“بیٹا آپ کہاں تک تعلیم مکمل کی ہے؟”ان کے سوال پر رجاء نے اشاروں کی زبان میں انھیں جواب دیا انہوں نے اپنی بیٹی کودیکھا اور پھر حیرانی سے رجاء کا چہرہ  دیکھنے لگی۔

“تم بے زبان ہو ؟” ان کی حیرانی دیکھ کر رجاء کو سمجھ آگیا کے اگلے لمحات کیا طوفان لئے کھڑے تھے۔

“آپکی بیٹی بول نہیں سکتی ؟”لڑکے کی بہن نے رجاء کی امی سے سوال کیا۔

کمرے میں بلکل خاموشی چھا گئی تھی۔ سوہا اپنی بہنوں کے ہمراہ مہمانوں کے لئے چاۓ کے ساتھ کچھ نمکین لے کر آئ تھی مگر فضا میں پھیلی پریشانی دیکھ کر لڑکیاں کمرے کے دروازے پر ہی رک گئیں۔

“جی ہماری بیٹی بے زبان ہے۔” فضہ نے جھجکتے ہوے کہا۔

رجاء کو محسوس ہوا جیسے کے کسی نے اس کے جرم کا ذکر کر کے اس کے گھر والوں کو شرمندہ کردیا۔ ہلانکہ وہ تو قصوروار بھی نہیں تھی ۔ پھر اس کے گھر کے افراد  کیوں پشیمان تھے؟

“معاف کیجیئے گا.. مگر ہم یہ رشتہ نہیں کر سکتے ۔”ان خاتون کی آواز سن کر رجاء حقیقی دنیا میں لوٹ آئ۔

“دیکھیں بھائ صاحب ہمیں نہیں معلوم تھا کہ یہ بول نہیں سکتی”وہ خاتون رجاء کو دیکھتے ہوئے اپنی نشست سے اٹھی۔

“آپکو شکیلہ خالہ نے رجاء کی تصویر دکھاتے ہوے اس حوالے سے بتایا نہیں تھا ؟”سوہا نے آگے بڑھ کر خاتون سے سوال کیا۔

“اگر ہمیں پہلے معلوم ہوتا تو ہم یہاں آکر اپنا وقت کیوں برباد  کرتے؟”انھوں نے طنزیہ سوہا کی طرف دیکھتے ہوے کہا۔

“مگر آپکو تو ہماری بیٹی دیکھتے ہی پسند آگئی  تھی۔”سوہا کی امی نے حیرانی سے کہا۔

“معاف کیجئے گا بہن جی آپکی بیٹی چاند جیسی ضرور ہے مگر اس کی بے زبانی اس پر چاند کے داغ کی طرح ہے۔”ان خاتون کے جملے نے رجاء کے دل کو کئی بار زخمی کیا تھا وہ اور برداشت نا کر سکی اور اٹھ کر باہر نکل گئی۔

مشتاق صاحب نے ان خاتون کو ان کی بیٹی سمیت گھر سے بے دخل کردیا۔ رجاء تھوڑی دیر میں ایک ہاتھ میں کاغز پکڑے کمرے میں داخل ہوئی۔اس نے کاغز ابراہیم کے ہاتھ میں تھمایا اور اشاروں کی زبان میں کہا کہ وہ سب کو پڑھ کر سنائے۔ابراہیم نے کاغذ کو دیکھا اور پھر کمرے میں موجود چہروں پر نظر ڈالی اور تحریر کو پڑھنا  شروع کیا ۔

“آپ سب کیوں اداس بیٹھے ہیں؟ کیا آپکو دکھ ہے کہ آپکی آفت سر سے ٹلی نہیں ؟”ابراھیم نے رک کر رجاء کو دیکھا جو مسکرا کر اپنی امّی کے پاس ان کے گلے میں باہیں ڈالے  بیٹھی تھی ۔

“خبر دار جو خود کو آفت کہا۔ “فضّہ نے اپنی بیٹی کے بازو پر ہلکی چپت لگا کر کہا سب کے چہرے  پر ہلکی سی مسکراہٹ چھا گئی۔ابراھیم نے آگے پڑھنا شروع کیا۔

“اگر میں آپ کے  لیے آفت نہیں تو پھر آپ کیوں میری شادی کرنا چاھتے ہیں؟ ابّو میں ابھی تک آپ سب سے یہ بات نہیں کہہ سکی تھی کیونکہ میں سمجھتی تھی شاید اسی میں آپ سب کی خوشی ہے لیکن ہر آنے والے رشتے کے انکار کے بعد مجھے احساس ہوا کے آپ سب خوش نہیں ہیں۔”سب خاموشی سے ابراھیم کی آواز میں پڑھی جانے والی رجاء کی تحریر سن رہے تھے۔

“اس لیے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں شادی تب تک نہیں کروں گی جب تک خود کوئی مجھے میری اس کمی کے ساتھ نہیں اپنائے گا۔ جب میرے تخلیق کرنے والے نے مجھے ایسا بنایا ہے تو وہی میرے قدردان سے مجھے ملوائے گا۔ آپ سب پریشان نہ ہوں۔ “ابراہیم نے مسکرا کر اپنی بہن کو دیکھا جو اب اٹھ کر اپنے ابّو کے پاس جا کر بیٹھی تھی۔

“میں اپنے پیرو پر کھڑی ہونا چاہتی ہوں ۔”رجاء نے اشاروں کی زبان میں کہا۔ مشتاق نے اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا۔

“تم جو فیصلہ کروگی اس میں ہم سب تمہارے ساتھ ہیں ۔” مشتاق نے مسکرا کر اپنی بیٹی کو دیکھا۔

کبھی کبھی برا وقت بھی انسان کے حق میں بہتر ثابت ہوتا ہے۔ جیسا کے اس رشتے کے انکار کے بعد مشتاق صاحب  کو پتا چلا کے رجاء کسی پر بوجھ بننے کے بجائے خود اپنی پہچان بنانا چاہتی تھی مگر ہر باپ کی طرح وہ بھی گھبراتے تھے کے نا جانے رجاء اس مطلبی دنیا کا کیسے سامنا کرے گی ؟ اس لیے کالج سے پڑھائی مکمل کرنے کے بعد انھوں نے اسے نوکری کرنے نہیں دی۔

سوہا کی بڑی  بہن نے رجاء کو اپنے آفس میں ملازمت کی پیشکش کی مگر مشتاق صاحب نے یہ کہہ کر انکار کردیا کے وہ رجاء کو کوئ چھوٹا کاروبار کروائیں گے۔ فل حال اب مشتاق فیملی کا سارا دھیان رجاء کا نیا کاروبار شروع کروانے پہ لگ گیا۔  مشتاق اور ابراھیم کے بچائے گئے پیسوں اور فضّہ کی ڈالی گئ کمیٹی کو ملا کر نئے کاروبار کی نیو رکھی۔

“سویٹ ہیپینیس” یعنی میٹھی خوشیوں کے نام سے رجاء کی چھوٹی بیکری کا افتتاح کیا گیا۔ رجاء نے اپنا سارا دھیان بیکری میں لگا دیا۔ کسی بھی قسم کے کاروبار کی شروعات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے رجاء کو بھی مشکلات سے لڑنا پڑا ۔ کئی موقوں پر وہ لڑکھڑائ ، یہاں  تک کے ایک کے بعد ایک بڑے آرڈر کے کینسل ہونے پر سب پریشان ہوگئے۔ مگر رجاء نے اللّه کی ذات پر کامل یقین رکھا اور اس موقعے پر ابراھیم کی نصیحتیں بھی رجاء کے ساتھ رہیں۔ وہ ہمیشہ اپنی باتوں سے اسکا حوصلہ بڑھاتے رہے ۔

ایک دن رجاء بہت اداس تھی۔ اس دن اس سے ایک خریدار کا دیا گیا آرڈر وقتِ مقررّا پر پورا نا ہو سکا اور وہ خریدار لگے ہاتھ  رجاء کو کھری کھری سنا گیا جس پر رجاء بہت اداس تھی۔

گھر کے صحن میں بیٹھی وہ شام کی چائے پیتے ہوے سوچو میں گم تھی۔ تبھی ابراھیم اس کے پاس جاکر بیٹھے اور اسے بڑے پیار سے سمجھانے لگے ۔

“رجاء کیا تمھیں “لا تحزنی” کا مطلب معلوم ہے؟ “ابراھیم کے سوال پر رجاء نے نہیں میں سر ہلایا ۔ ابراھیم نے مسکرا کر اسے دیکھا۔

 ” اللّه  نے قرآن میں جہاں مریم علیہ السلام اور ام موسی کے قصّے کا ذکر کیا ہے وہاں دونوں کو ہمت اور حوصلہ دینے کے لیے ” لا تحزنی ” کہا ہے۔ جس کا مطلب ہے.. اداس مت ہو یا دکھی مت ہو۔”ابراھیم  نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔ رجاء بڑے دھیان سے اپنے بھائی کی بات سننے لگی۔

“حزن دکھ یا پریشانی کو کہتے ہیں.. اللّه نے قرآن میں عورت کے لیے یہ ایک پیغام دیا ہے کہ وہ دکھ نہ کرے چاہے زندگی کے حالات کیسے بھی ہوں.. اللّه عورت کو دکھی نہیں دیکھنا چاہتے۔”ابراھیم نے مسکرا کر اپنی بہن کو دیکھا۔

“تو میری پیاری حلوائی بہن تم بھی پریشان نا ہو۔ دیکھنا سب ٹھیک ہوجائے گا۔ “یہ کہہ کر ابراھیم نی اپنی بہن کے سر پر پیار کیا اور رجاء مسکرائ۔

سوچنے والی بات ہے کہ ہمارا مالک جب ہر مشکل وقت میں ہمارے ساتھ ہے تو ہم اس کی مدد کے طلبگار کیوں نہیں ہوتے ؟ کیوں دنیا والوں  کی جلی کٹی باتیں سن کر ہمت ہار بیٹھتے ہیں ؟ ہمیں اللّه عزوجل پر کامل یقین رکھنا چاہیے کیوں کے مشکل وقت سب پر آتا ہے مگر مشکل وقت میں وہی سر بلند ہوتا ہے جسے اللّه واحدٙہُ لاشیرک پر کامل یقین ہو۔

°°°°°°°°°°

لِسّان // لاریب رضوی

جاری ہے….

لِسّان // لاریب رضوی

لِسّان // لاریب رضوی

Sharing Is Caring
Recommended For You

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of