Urdu Literature Urdu Novels

لِسّان // لاریب رضوی

5 قسط

تاریک راہ کی کہانی

°°°°°°

رجاء اور شجاع کو سوہا اور حریم کی نگرانی میں گھر کے صحن میں بات کرنے کے لیے بھیجا گیا۔ وہ دونوں خود زینے کے پاس کھڑی ہوگئیں جب کہ شجاع اور رجاء صحن کے درمیان میں موجود کرسیوں پر جا کر بیٹھ گئے۔
وہ سفید کاٹن کا کُرتا زیب تن کیے تھا تو رجاء نے گلابی رنگ کا انگرکھا پہن رکھا تھا۔ رجا کے پیروں میں کھسے تھے اور شجاع نے کیھڑی پہنی تھی۔ رجاء نظریں جھکائے سوچنے میں مصروف تھی کہ وہ اس گہری آنکھوں والے سے کیا سوال کرے ؟ شجاع نے ہی پہل کی۔
“یقیناً آپ سوچ رہی ہوں گی کہ ھمارے والدین ہیں یا نہیں؟” شجاع کی آواز پر اس نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا جس نے حریم کی طرف ہلکا سر ہلا کر اشارہ کیا تھا یعنی ہم سے مراد وہ اور حریم۔
“وہ ہیں.. اسی ملک میں.. اسی شہر میں.. مگر مجھ سے بے خبر۔ ” وہ اداس مسکراہٹ کے ساتھ رجاء کو دیکھ رہا تھا۔ شاید رجاء کو اس کی آنکھوں میں آنسو نظر آئے تھے۔
“رجاء کبھی موت کی تاریکی دیکھی ہے؟ موت نہیں صرف اس کی تاریکی؟” وہ کھوئے کھوئے انداز میں کہہ رہا تھا اور پھر اگلے لمحے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کر مسکرایا۔
“آپ بھی سوچ رہی ہوگی کہ کیا دیوانہ شخص ہے۔ ھمارے گھر والوں نے ہماری نئی زندگی کے حوالے سے باتیں کرنے کے لیے بھیجا تھا اور یہ جناب موت کی تاریکی پوچھ رہے ہیں؟” شجاع نے لبوں پر زرا  مسکراہٹ سنبھالتے ہوۓ کہا مگر رجاء نے کچھ جواب نہیں دیا۔
“میں کیا کروں ؟ آپ سے ملنے سے پہلے میری زندگی کے پچھلے چار سال تاریکیوں میں ہی گزرے ہیں مگر کوئی نہیں سمجھ سکا کے وہ درد اور تاریکی کیسی تھی ؟” شجاع نے سر جھکایا رجاء نے دونوں کے درمیان موجود میز پر رکھی کاپی اور جیل پین کو اٹھایا اور کچھ لکھنے لگی۔ شجاع اسے تجسس سے دیکھ رہا تھا۔ رجاء نے پھر وہ کاغذ شجاع کو دے دیا۔
“پتا ہے انسان کے لیے سب سے تکلیف دہ مرحلہ کونسا ہوتا ہے؟” اس نے رجاء کی لکھی تحریر کو باآواز پڑھا پھر نظر اٹھا کر رجاء کے چہرے کو دیکھا تو رجا نے ایک اور کاغز اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔وہ اس تحریر کو پڑھنے لگا
“جب انسان کو درد بیان کرنے کے لیے الفاظ نہ ملے وہ اگر کچھ کہنا چا ہے تو آواز حلق سے باہر نہ نکلے۔ اس کے الفاظ حلق میں ہی گھٹ کے رہ جائیں۔ وہ درد میں چیخنا چاہے تو صرف آنکھوں سے آنسو نکلے اور آواز اندر ہی دم توڑ دے۔ جہاں ہزار روشنیوں میں بھی تاریکی منظر پر چھانے لگے اور آہستہ آہستہ آپ ہر منظر سے بے نور ہوجائیں۔ ان لمحات میں انسان کو موت کی تاریکی کا احساس ہوتا ہے۔ ” اس کا حلق خشک ہو گیا اور گہری آنکھوں میں حیرت اور تعجب کے ملے جلے تاثرات سنبھالے اس نے رجاء کو دیکھا جو ہاتھ میں چہرہ لیے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
“کبھی کوئی نہیں سمجھ سکا تھا۔ مگر آپ..؟” شجاع نے جملہ ادھورا چھوڑ کر رجاء کے چہرے کو دیکھا۔ جس پر مسکراہٹ سجی تھی۔  رجاء نے کاغذ پر کچھ لکھ کر وہ کاغز شجاع کو دیکھایا تھا۔ شجاع  نے مسکرا کر کاغذ کو دیکھا تھا۔
“میں بھی کسی تاریک راہ کی مسافر رہ چکی ہوں۔ اس لیے آپ کی دشواری کو سمجھ سکتی ہوں۔”رجاء کی تحریر پڑھ کر شجاع کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ بکھر گئی جسے دیکھ کر رجاء بھی مسکرائی تھی۔
“پھر سمجھداروں کو ساتھ رہنا چاہیے؟” شجاع کے سوال پر رجاء نے فوراً مسکرا کر نہیں میں سر ہلایا۔ شجاع سر جھکا کر بغیر آواز کے ہسنے لگا۔
حریم نے سوہا کو آنکھ سے اشارہ کیا اور دونوں  لڑکیاں شجاع اور رجاء کو دیکھ کر مسکرانے لگی۔ نا جانے کتنے عرصے بعد آج وہ یوں ہس رہا تھا۔ رجاء نے ایک اور کاغذ شجاع کو دیا۔ جس پر لکھا تھا کہ شجاع کے ساتھ ایسا کیا ہوا تھا جس کی وجہ سے وہ  اس تاریک راہ کا مسافر بنا؟ شجاع کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوگئی۔ جسے دیکھ کر رجاء نے اشاروں کی زبان میں انہیں منع کیا کہ اگر وہ نہ بتانا چاہے تو کوئی مسلئہ نہیں۔
“ارے نہیں۔۔ ایسی بات نہیں.. بلکہ میں خود آپ کو اس کے بارے میں بتانا چاہتا تھا ۔” شجاع نے نظریں چراتے ہوئے کہا اور ماضی کے زخموں کو کھریدنے کے لیے خود میں ہمت اکھٹا کرنے لگا۔
انسان چاہے جتنا بہادر ہو مگر دل پر لگے زخموں کے درد کو نظر انداز نہیں کر سکتا اور وہ زخم اپنی بیوقوفی سے لگا ہو تو پچھتاوا بھی اس زخم کو بھولنے نہیں دیتا۔ شجاع کو درد اور پچھتاوا دونوں تھے اور آج وہ پھر نئی زندگی جینے کے لیے ان زخموں کو کھول رہا تھا۔
“چار سال پہلے میں اور میری بہن زنیزہ میرے والد کی گاڑی میں رات سیر کے لیے نکلے تھے۔ چاند رات تھی اس کی عید کی خریداری باقی تھی۔ ہم دونوں سب گھر والوں سے چھپ کر نکلے تھے۔ وہ بہت خوش تھی اسے گاڑی چلانی تھی میں نے منع کیا مگر اس نے کہا کہ وہ مجھ سے کبھی بات نہیں کرے گی۔” شجاع کہتے کہتے رک گیا۔ اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری اور رجاء کی شہد جیسی آنکھوں میں دیکھ کر گویا ہوا
“رجاء میں نے اس کی بات مانی تھی. پھر وہ کیوں ناراض ہو کر چلی گئی؟” شجاع کے سوال پر رجاء نے افسوس کے ساتھ بنھویں جوڑ کر اسے دیکھا۔
“اس نے گاڑی ڈرائیو کی تھی.. مگر تیز رفتار کی وجہ سے گاڑی حادثے کا شکار ہوگئی اور زنیزہ مجھے چھوڑ گئی۔” شجاع نے آخر میں گہری سانس لی تھی۔ رجاء حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔
“مما مجھے آج تک اس کی موت کا زمیدار ٹہراتی ہیں۔  مجھے دیکھ کر انہیں زنیزہ کی موت یاد آتی ہے ۔ اس لیے اس حادثے کے بعد میں ان کے ساتھ نہیں رہتا۔ ڈیڈ اور حریم مجھ سے ملنے آجاتے ہیں لیکن مما اور باقی بہن ، بھائیوں سے میرا کوئی تعلق نہیں رہا ۔” شجاع نے افسردہ لہجے میں کہا اور پھر چہرے پر ہاتھ پھیرا۔
“یہ میری تاریک راہ کی کہانی تھی اور آپ کو ملنے کے بعد مجھے اس راہ میں روشنی نظر آئی ۔ جس کی سمت میں چل پڑا ہوں۔ آپ کے والدین کو آپ پر بہت فخر ہے۔ آپ کی خود اعتمادی اور با ہمت شخصیت نے مجھ میں پھر سے جینے کا جذبہ جگایا ہے۔”وہ پر امید آواز میں رجا سے مخاطب تھا۔ “رجاء میں آپ کو پسند کرنے لگا ہوں مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کے آپ بھی مجھے پسند کریں۔ اس حوالے سے آپ کا جو بھی فیصلہ ہوگا میں اس کا دل سے احترام کروں گا۔” شجاع نے تسلی بخش لہجے میں بات مکمل کی۔ رجاء نے اس کی بات سن کر سر جھکا کر کاپی پر کچھ لکھا اور کاپی اٹھا کر شجاع کو دکھائی۔
شجاع نے حیرانی سے وہ دو الفاظ پڑھے اور پھر رجاء کے چہرے کو دیکھا جو مسکان سجائے اسے دیکھ رہی تھی۔ کاپی کے صفے پررجاء نے شجاع کے لیے  “قبول ہے” لکھا تھا۔ کسی نے پہلی بار رجاء کو اپنی زندگی میں روشنی کی مانند سمجھا تھا اور رجاء جانتی تھی کے اندھیرے میں بھٹکے مسافر کے لیے روشنی کیا اہمیت رکھتی ہے۔ اس لیے اس نے یہ رشتہ قبول کرلیا تھا۔ زنیزہ کو کھونے کے بعد تو شجاع زندگی کی طرف لوٹ آیا مگر کیا رجاء کے انکار کے بعد بھی وہ روشنی کی طرف گامزن رہے گا یا پھر اندھیروں کی طرف لوٹ جاۓ گا؟

•••••••


شجاع اور رجاء کی نسبت کو چار دن گزر گئے تھے ۔ رجاء آج حریم کے ساتھ اپنے سُسرالی گھر جا رہی تھی کسی کو بھی اس بات کا علم نہیں تھا سوائے رجاء کے والدین کے۔ رجاء کو سمجھ آگیا تھا کہ یقیناً شجاع خود بھی اس رشتے میں اپنے والدین کی رضامندی چاہتا ہے اور یہ بھی چاہتا ہے کہ اس کے والدین بھی اس کے اس نئے سفر میں شریک ہوں مگر ماضی کی وجہ سے وہ اپنی مما کا سامنا کرنے سے کترا رہا تھا۔ اس لیے رجاء نے سوچا کیوں نا وہ خود شجاع کی مما سے بات کرے تاکہ ماں اور بیٹے کے درمیان یہ دوریاں مٹ سکیں۔ دونوں لڑکیاں  صبح شجاع کے ڈیڈ کے گھر پہنچ گئیں ۔ حریم نے رجاء سے سب کا تعارف کروایا۔ پھر رجاء مسز قاسم کے کمرے میں چلی گئی جو شجاع کی مما ہیں۔ رجاء نے انھیں بھی لکھ کر سمجھایا کیونکہ وہ بھی رجاء کی زبان سمجھ نہیں سکتی تھی۔ جو لوگ رجاء کی باتیں سمجھ نہیں سکتے تھے۔ رجاء انھیں یونہی سمجھاتی تھی کیونکہ انسان کسی کی بات سن کر اٙنّ سنا کر دیتا ہے مگر کسی کی لکھی ہوئی تحریر پڑھنے کے ساتھ ساتھ اس شخص کا ذہن اس تحریر کے بارے میں سوچتا ضرور ہے۔
رجاء نے کاغذ پر لکھا تھا کہ ایک بار مسز قاسم خود کو شجاع کی جگہ پر رکھیں۔ خود سوچیں کہ اگر وہ اس رات زینزہ کے ساتھ ہوتی اور مسٹر قاسم ان کے ساتھ ایسا سلوک کرتے جیسا انھوں نے شجاع کے ساتھ کیا.. تو وہ کیسا محسوس کرتیں؟
مسز قاسم نے کچھ بھی نہ کہا رجاء سمجھ گئ کہ اس کے الفاظ اثر کر گئے۔ وہ خاموشی سے کمرے سے باہر آگئ۔ اس سے پہلے وہ حریم کو ڈھونڈتی رجاء کو شجاع کی چھوٹی بھابی مل گئی اور ان کی طنزیہ تیروں نے رجاء کو بری طرح زخمی کیا تھا۔ رجاء اسے کچھ کہے بغیر گھر سے باہر نکل گئی۔ حریم اپنی مما کے کمرے میں رجاء کو لینے گئی تھی مسز قاسم نے اسے بتایا کے رجاء کافی پہلے کمرے سے باہر جا چکی تھی۔ حریم نے اسے گھر میں تلاش کیا مگر وہ نہیں ملی پھر ملازمہ نے بتایا رجاء کو اس نے گھر سے باہر جاتے دیکھا تھا۔ حریم نے موبائل میں رجاء کا نمبر ڈائل کیا تو کافی بیل کے بعد بھی دوسری جانب سے  کال موصول نا ہوئی۔ حریم نے اپنی دونوں بھابیوں سے پوچھا جو شجاع سے بڑے اور چھوٹے بھائی کی بیویاں تھیں۔ پھر حریم کو پتا چلا کے اس کی چھوٹی بھابی نے رجاء کے چھوٹے طبقے سے تعلق رکھنے اور اس کی بے زبانی کا مزاق بنایا تھا۔ جس پر رجاء دل برداشتہ ہو کر وہاں سے چلی گئی۔ حریم نے فوراً شجاع کو کال ملا کر ساری بات بتا دی.
اگر انسان اپنی زبان کو شیری رکھے تو رشتوں میں کڑواہٹ نہیں پڑتی۔ کچھ لوگ زبان میں ہڈی نہ ہونے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں اور بنا سوچے سمجھے دوسروں کے دل زخمی کرتے چلے جاتے ہیں۔

°°°°°°°°°°

Sharing Is Caring

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of