Urdu Literature Urdu Novels

لِسّان // لاریب رضوی

4 قسط

ماضی کے اوراق

°°°°°°

اگلی صبح وہ آسمانی رنگ کی پنجابی کُرتی اور گھیر والی شلوار کے ساتھ ریشم کا دوپٹہ سر پر اوڑھے سوہا کی گاڑی سے باہر نکلی تھی۔ دونوں لڑکیاں گاڑی پارک کر کے پرس سنبھالے سویٹ ہیپینیس بیکری کی جانب قدم بڑھائے جا رہیں تھیں۔ سوہا یہاں ابراھیم کو لینے آئی تھی پھر وہ اور ابراہیم یہاں سے ساتھ کراچی شاپنگ مال جانے والے تھے ۔

چلتے چلتے رجاء اپنی جگہ پر رک گئی کیونکہ اس کے سامنے وہی گہری آنکھوں والا لڑکا کھڑا تھا۔ آج اس نے گہرے سلیٹی رنگ کا برانڈڈ سوٹ زیب تن کیا ہوا تھا جس میں اس کی سانولی رنگت کھل رہی تھی ۔ وہ دونوں لڑکیوں کے سامنے آکر کھڑا ہوا ۔ سلام کہنے کے بعد اس نے اپنا نام بتایا۔

“میرا نام شجاع حیدر ہے ۔ کیا میں دو منٹ رجاء سے بات کر سکتا ہوں؟”اس کے اس بے باک رویے پر رجاء کے ماتھے پر شکن پڑگئی۔

رجاء نے فوراً اشاروں کی زبان میں سوہا سے کہا کہ وہ اس لڑکے سے کہہ دے جو کہنا ہے سوہا کے سامنے کہے ۔ اس دوران شجاع کبھی رجا کے ہاتھوں کو دیکھتا تو کبھی اس کے چہرے کو اسے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ اتنا حسین چہرہ رکھنے والی لڑکی قوت گویاٸی سے محروم ہے ۔ اس کی چوڑیوں کی کھنک نے شجاع کے تصورات کا تسلسل توڑا اور وہ خیالوں سے حقیقت کی دنیا میں واپس آگیا ۔

“دیکھیں آپ کو جو بات کہنی ہے میرے سامنے کہیں اور رجاء بول نہیں سکتی اس لیے اس کے اشاروں کا ترجمہ کرنے کے لیے مجھے یہاں روکنا ہوگا ۔” سوہا کی بات پر وہ سر جھکا کر ہلکا سا مسکرایا اور پھر چہرہ اٹھا کر گردن اونچی کر کے رجاء کو دیکھا۔

“میرا یقین کریں میں آپ کی بات سمجھ سکتا ہوں۔ آپ بے فکر رہیں ۔” شجاع نے ہاتھوں کو اپنے سامنے ہوا میں سرینڈر کرنے کی حالت میں بلند کیا۔ سوہا نے سوالیہ نظروں سے رجاء کو دیکھا اور پھر رجاء نے آنکھوں سے اسے جانے کا اشارہ کیا اور سوہا وہاں سے چلی گئی ۔

رجاء نے شجاع سے اشاروں کی زبان میں پوچھا کہ وہ یہاں کیوں آیا تھا؟ شجاع مڑ کر دو قدم کے فاصلے پر کھڑی اپنی گاڑی کے پاس گیا اور اس میں سے خوبصورت سفید رنگ کی کلیوں کا گلدستہ نکال کر رجاء کے پاس لے آیا ۔ رجاء نے پھولوں کو دیکھا اور پھر شجاع کے چہرے کو۔ وہ یک ٹک اسے دیکھتے یہ سوچ رہی تھی کے یہ لڑکا اسے کلیوں کا گلدستہ کیوں دے رہا ہے؟

“آپ سے مل کر بذاتِ خود آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا۔” شجاع نے مسکرا کر گلدستہ رجاء کی طرف بڑہایا مگر وہ پیچھے ہٹ گئی اور ”نہیں“ میں سر ہلایا۔ شجاع نے اسے حیرانی سے دیکھا۔

رجاء نے اپنے پرس سے چھوٹی نوٹ بک نکالی اور قلم سے اس پر کچھ تحریر کر کے اس کاغذ کو نوٹ بک سے نکال کر شجاع کو دیا۔طشجاع نے اس کاغذ پر لکھے الفاظ پڑھے ۔

جس میں لکھا تھا کے شجاع کو بار بار شکریہ ادا کرنے کی ضرورت نہیں۔ رجاء نے پہلے ہی ان کا شکریہ قبول کر لیا تھا اوراب وہ یہ پھول قبول نہیں کرسکتی۔ شجاع نے نظریں اٹھا کر رجاء کو دیکھا جو اب اپنی منزل کی جانب بڑھ گئی تھی۔ شجاع نے وہ کاغذ لپیٹ کر اپنے کوٹ کی جیب میں رکھ لیا آخر وہ رجاء کی طرف سے لکھی گئی پہلی تحریر تھی جو خود اس نے شجاع کو دی تھی۔

رجاء شیشے کے دروازے کو دھکیل کر بیکری کے اندر داخل ہوگئی اسٹاف کے ایک دو میمبرز نے اسے سلام کیا اور پھر سوہا نے آگے بڑھ کر رجاء سے اشاروں میں پوچھا کے شجاع نے کیا بات کی ؟ رجاء نے اشاروں کی زبان میں جواب دیا کے وہ بعد میں بتاۓ گی ۔ اتنے میں کسی نے پیچھے شیشے کے دروازے پر دستک دی تو رجاء نے مڑ کر دیکھا ۔ شجاع گلدستہ ہاتھ میں پکڑے کھڑا مسکرا رہا تھا۔ اس نے گلدستہ وہیں چوکھٹ پر رکھا اور مڑ کر چل دیا۔ رجاء مجسمہ کی طرح ساکت اس کی پشت کو دیکھتی رہ گئی۔ سوہا نے اس کے شانے کو ہلایا تو وہ چونک گٸ۔

“ارے یہ پھول کیوں رکھ گیا۔”سوہا نے دروازے کی دوسری جانب رکھے پھولوں کو دیکھا۔ رجاء دروازہ کھول کر باہر نکلی اور زمین پر رکھے گلدستے کو اٹھا کر دیکھا۔

“یہ اسی لڑکے نے تمھیں دیے ہیں؟”سوہا کے سوال پر رجاء نے اثبات میں سر ہلایا۔

“رجاء یہ لڑکا تمہیں تنگ تو نہیں کر رہا ؟”سوہا کے سوال پر رجاء نے نفی میں سر ہلایا۔ سوہا سوچ میں پڑ گئی ۔ رجاء اس بات سے انجان تھی کہ کچھ فاصلے سے کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔

•••••••

اس گہری آنکھوں والے لڑکے سے ملے ایک ہفتہ ہو چکا تھا مگر رجاء ابھی بھی اسی ملاقات کو سوچ رہی تھی۔ رجاء نے سوچوں کو پرے کیا اور اپنے آفس کے فرش پر جانماز بچھا کر اپنے رب کی عبادت میں مشغول ہو گئی۔ تھوڑی دیر میں عصر کی نماز پڑھ کر رجاء جانماز طے کر کے رکھ رہی تھی۔ تبھی ابراھیم اسے گھر لے جانے کے لیے آفس میں داخل ہوۓ۔

“امی نے تمھیں جلدی گھر بلایا ہے۔”ابراھیم آفس کے صوفے پر بیٹھ گئے۔ رجاء نے اشاروں کی زبان میں ان سے پوچھا کے اس وقت کیوں بلایا ہے کیونکہ رجاء کے گھر لوٹنے میں ابھی کافی وقت تھا ۔

“بس کہہ رہی تھیں کوئی مہمان آئے ہیں اور ہم دونوں کو بلایا ہے۔”ابراھیم اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر کر کھڑے ھوگئے۔ پھر دونوں بہن، بھائی گھر کے لیے روانہ ھوگئے۔

••••••

مشتاق آج بہت خوش تھے۔ آج خدا نے رجاء کا قدردان بھیج دیا تھا ۔ جو ان کی نظر میں صورت و سیرت سے رجاء کا بہترین جوڑ ہے۔ انتظار تھا تو صرف رجاء کے جواب کا کیونکہ مشتاق اور فضہ لڑکے کو پسند کر چکے تھے ۔

رجاء اور ابراھیم ایک ساتھ کمرے میں داخل ہوۓ سب نے انہیں دیکھا۔ ابراھیم سلام کہہ کر لڑکے سے ملنے آگے بڑھے جبکہ رجاء اس لڑکے کی گہری آنکھوں کو دیکھ کر اپنی جگہ پر ہی رُک گئی ۔ حریم آگے بڑھ کر رجاء سے ملی۔

شجاع اپنی بہن اور بہنوئی کے ساتھ رجاء کے لیے رشتہ لے آیا تھا۔ فضہ اپنی بیٹی کے حوالے سے حریم کو سب کچھ بتا چکی تھیں اور انھیں کوئی اعتراض نہیں تھا۔ حریم، رجاء کے آنے سے پہلے ہی اپنے گھریلو مسائل کا فضہ سے ذکر کر چکی تھی۔ مشتاق اور فضہ کو تو کوئی مسلئہ نہیں تھا مگر شجاع اپنے ماضی کے اوراق رجاء کو پڑھانا چاھتا تھا کیونکہ اصول کے مطابق کسی بھی کہانی کے نئے باب کو پڑھنے سے پہلے ضروری ہے کہ کِتاب خواں کو پچھلے باب کے منظر نامہ کا علم ہو۔ ورنہ آگے کی کہانی سمجھنے میں اسے دشواری پیدا ہوتی ہے اور اس کا دماغ پچھلے باب کے غلط اندازے لگا کر الگ منظر کشی کر بیٹھتا ہے اور اس کے کچھ سوال محض سوال رہ جاتے ہیں۔

Sharing Is Caring

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of