لِسّان // لاریب رضوی

لِسّان // لاریب رضوی

2 قسط

   چار سال  

°°°°°°

زندگی خوشگوار گزر رہی تھی وقت کی رفتار تیز ھوگئ تھی۔ اُس حسین سمندر کی صبح کو گزرے چار برس بیت گئے تھے۔ کئ لوگوں کی نظریں بدلیں اور دنیا کی نظارے بھی بدلے نہیں بدلا تو اسکا پچھتاوا اور اس کی دل کی ویرانیاں نہیں بدلی ۔

وہ آج بھی سردیوں کی کسی اداس شام کی طرح معاضی کی یادوں میں بھٹکا بنجارا تھا جو کسی ایسی سکون بھری منزل کی تلاش میں تھا جہاں اسکے ویران دل کو نور کی راحت میسر ہو۔ بارگاہِ الٰہی میں اسے سکون ملتا تھا اور عبادتوں میں راتیں گزار کر اسے کچھ پل کا چین مل جاتا تھا۔ مگر دن کا سویرہ کسی آگ کے روشن شولو کی طرح اس کی نیند اور دل کے چین کو آگ لگا دیتا تھا۔ دنیا کے مسائل اس کے لیے کوئ معنے نہیں رکھتے تھے۔ وہ زندگی بھی اس لیے جی رہا تھا کہ یہ مالک کی طرف سے عطا کردہ تحفہ تھی اور اس پر صرف اسی کا حق ہے ورنہ وہ اب تک اسے بھی ختم کر دیتا۔ 

چار سال میں اس کے رشتوں نے اس سے دامن چھڑا لیا سوائے اس کی بڑی بہن اور بہنوئ کے۔ حریم اپنے چھوٹے بھائ کے لیے ہمیشہ فکرمند رہتی تھی مگر اس فکر کا کیا فائدہ شجا کی قسمت میں جو لکھ دیا گیا تھا۔ اب ہونا وہی تھا بس صحیح وقت کا انتظار تھا۔ 

وہ گہرے نیلے رنگ کا برینڈڈ سوٹ پہنے اپنی گاڑی سے باہر نکلا۔ ایک ہاتھ میں فائل اور دوسرے ہاتھ سے موبائل کو کان پر لگائے وہ کال پر مصروف تھا۔ اپنی باتوں میں مصروف وہ مطلوبہ عمارت کی طرف بڑھ گیا مگر چند قدم چلتے ہی وہ کسی وجود سے ٹکرایا۔ ٹکر زوردار نہیں تھی دونوں معزرت کہہ کر آگے بڑھ گئے۔ 

شجاع عمارت میں داخل ہوا اور اس شاندار ہوٹل کی استقبالیا میز پر وہ جا کر کھڑا ہوگیا۔ اس ہوٹل کے داخلی دروازے پر ہوتی نقل و حرکت نے اسکا دھیان اپنی طرف کھینچا۔ اس نے ایک نظر اس طرف دیکھا جہاں کوئی انجان لڑکی ہوٹل کے گارڈ کو کچھ دکھا رہی تھی۔ اس لڑکی نے شجا کو دیکھتے ہی اپنے ہاتھ میں پکڑے کچھ کاغذ دیکھائے مگر شجا نے اسے اندیکھا کردیا اور کال پر بات کرنے لگا۔ پھر دروازے کی طرف پیٹھ کر کے کھڑا ہوگیا کیونکہ داخلی دروازے پر ہوتی نقل وحرکت اسے فضول لگ رہی تھی ۔ اگلے ہی لمحے ہوٹل کی لوبی میں گارڈ کی آواز گونجی۔ 

شجاع نے مڑ کر دیکھا جو لڑکی کچھ دیر پہلے گارڈ سے بات کر رہی تھی اب وہ شجا کی طرف دوڑ کر آرہی تھی اس کے پیچھے گارڈ اور ہوٹل اسٹاف کے دو لڑکے بھی تھے ۔ وہ لڑکی شجاع کے سامنے آکر رکی مگر جیسے ہی گارڈ نے اس لڑکی کا بازو پکڑنا چاہا وہ انجان لڑکی شجاع کے پیچھے چھپ گئی۔

“میڈم دیکھیں آپ آرام سے ھمارے ساتھ باہر چلیں ورنہ ہم سختی سے پیش آئیں گے۔ “گارڈ کی آواز پر وہ لڑکی پھر دوبارہ شجاع کے سامنے آگئ اور گارڈ کو ہاتھ دکھا کر خاموش رہنے کا کہا۔

پھر ہاتھ میں پکڑا کوئی سرکاری کاغذ شجاع کے ہاتھ میں تھمایا۔ شجاع نے کاغذ پر لکھی عبارت پڑھی۔جسے پڑھتے ہی اسے علم ہوا کے یہ اس کی فائل سے جڑا ایک اہم کاغذ تھا۔

“یہ تو میری فائل کا کاغذ ہے آپ کے پاس کیسے آیا ؟” شجاع کو اس لڑکی سے سوال کرتا دیکھ کر گارڈ اور وہ لڑکے وہاں سے چلے گئے۔ 

“بہت بہت شکریہ”شجاع نے کاغذ سے نظر اٹھا کر اپنے مددگار کو دیکھا۔

وہ ہرے دوپٹے میں سانولی رنگت والی شہد جیسی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ شجاع نے بھویں جوڑ کر اسکے چھرے کے کھڑے نقوش کو دیکھا۔ 

“آپ کا نام کیا ہے؟ ” شجاع کے سوال پر اس معصوم لڑکی کے آنکھوں کا دائرہ پھیل گیا۔ جیسے کے اسے اچانک کسی بات کا احساس ہوا تھا۔ وہ بنا کچھ کہے وہاں سے مڑ کر دوسری سمت چل دی۔

“ارے میڈم ! آپ غلط سمجھ رہی ہیں۔” شجاع نے اسے پکارہ مگر وہ دور جا چکی تھی۔

“کیا میں شکل سے اتنا ڈرونا لگتا ہوں، جو یہ اس قدر ڈر گئ؟” شجاع نے اپنی ہلکی داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوے سوچا اور اس رستے کو دیکھا جہاں کچھ وقت پہلے وہ لڑکی موجود تھی۔

شجاع نے اس کاغذ کو فائل میں لگایا اور اپنی منزل کی جانب چل دیا مگر وہ معصوم نگاہیں اسکے ذہن میں ایک چھاپ چھوڑ گئ تھیں۔ 

•••••••

“یار کہاں رہ گئ تھیں؟ پتا ہے امی کتنا پریشان ہیں۔ “سوہا نے داخلی دروازے سے داخل ہوتی اپنی ایکلوتی نند کو دیکھتے ہوے سوال کیا۔

رجاء نے اشاروں کی زبان میں اسے بتایا کہ جب رجاء اپنی سہیلی کی سالگرہ کی تقریب سے واپس گھر آنے کے لئے ریسٹورینٹ سے باہر نکلی تو وہ ایک اجنبی شخص سے ٹکرا گئ وہ شخص معزرت کرکے آگے بڑھ گیا مگر رجاء کو اس کی فائل سے ذمین پر گرا ایک کاغذ نظر آگیا۔ رجاء نے کاغذ اٹھایا تو وہ سرکاری کاغذ تھا۔ رجاء اس شخص کے پیچھے چل دی کیونکہ وہ اپنی بے زبانی کی وجہ سے  آواز دے کر تو اس شخص کو مخاطب نہیں کر سکتی تھی۔ وہ شخص ایک شاندار ہوٹل میں داخل ہوگیا رجاء بھی اس کے پیچھے چل دی مگر گارڈ نے اسے اندر داخل نہیں ہونے دیا ۔ رجاء نے گارڈ کو اشاروں کی زبان میں اسے سمجھانا چاہا مگرافسوس کے وہ سمجھ نا سکا۔ اس اجنبی شخص نے ایک نظر رجاء کو دیکھا تھا جس پر رجاء نے اسے وہ کاغذ بھی دکھایا مگر اس شخص نے اندیکھا کر دیا۔ 

رجاء سوچ میں پڑ گئی کہ اب یہ کاغذ اس شخص کو کیسے دے ؟ رجاء دروازے سے فاصلے پر کھڑی ہوگئی ۔ گارڈ بھی اپنی جگہ پر جا کر دوبارہ کھڑا ہوگیا ۔ اتنے میں ایک شاندار گاڑی ہوٹل کے سامنے رکی اور وہ گارڈ اس گاڑی کا دروازہ کھولنے کے لیے آگے بڑھا اور اس موقعے سے فائدہ اٹھا کر رجاء دروازے سے اندر داخل ہوگئی مگر عین موقعے پر گارڈ نے اسے دیکھ لیا اور اس کے پیچھے دوڑ پڑا ۔ رجاء بھاگ کر اس نیلے برینڈڈ سوٹ پہنے شخص کے سامنے جا کر رکی اور جیسے ہی گارڈ نے  رجا کا بازو پکڑنا چاہا تو وہ لڑکے کے پیچھے چھپ گئی۔

“میڈم دیکھیں آپ آرام سے ھمارے ساتھ باہر چلیں ورنہ ہم سختی سے پیش آئیں گے۔ “گارڈ کی آواز پر رجاء اس لڑکے کے سامنے آگئ اور گارڈ کو ہاتھ دکھا کر خاموش رہنے کا کہا۔

پھر ہاتھ میں پکڑا کوئی سرکاری کاغذ لڑکے کے ہاتھ میں تھمایا۔ وہ لڑکا بھوّیں جوڑے کاغذ کو دیکھ رہا تھا ۔

“یہ تو میری فائل کا کاغذ ہے آپ کے پاس کیسے آیا ؟”لڑکے نے بھاری آواز میں سوال کیا وہ ابھی بھی کاغز کو دیکھ رہا تھا۔ 

گارڈ اور دونوں لڑکوں کے وہاں سے چلے جانے پر رجاء کو لگا شاید یہ سامنے کھڑا گہری آنکھوں والا لڑکا یقیناً یہاں کوئی اثر و رسوخ رکھتا ہے جس کی وجہ سے گارڈ اور لڑکے خاموشی سے واپس چلے گئے۔ 

“بہت بہت شکریہ۔” لڑکے نے کاغذ سے نظراٹھا  کر رجاء کو دیکھا۔ اسکی کالی گہری آنکھیں عجیب گہرائ سمیٹے رجاء کو دیکھ رہیں تھیں۔

“آپ کا نام کیا ہے؟ ” اس کے سوال پر رجاء کی آنکھوں کا دائرہ پھیل گیا۔ وہ بنا کچھ کہہ وہاں سے مڑ کر دوسری سمت چل دی۔

وہ اسے کیا جواب دیتی نا جانے وہ اس کے اشارے سمجھتا بھی یا نہیں ۔ رجاء نے پھر مڑ کر اسے نہیں دیکھا۔

“کیا مطلب تم نے اسے جواب نہیں دیا اور وہاں سے بھاگ لی ؟”سوہا نے حیرانی سے رجاء کے چہرے کو دیکھا۔ رجاء نے اشاروں سے اسے جواب دیا “کہ وہ گہری آنکھوں والا کیسے رجاء کی زبان سمجھتا جب وہاں کوئ اسے سمجھ نہ سکا؟” رجاء کی بات پر سوہا نے اثبات میں سر ہلایا۔ 

سوہا اور ابراھیم کی شادی کو ایک سال ہونے والا تھا۔رجاء کی چھوٹی بیکری اب تھوڑی بڑی ہوگئ تھی۔ زندگی ہسی خوشی گزر رہی تھی جسے وہ اپنے بھائ، بھابی اور والدین کے ساتھ گزار رہی تھی۔ 

رجاء کے لیے اس دوران دو رشتے آئے مگر وہ دونوں ہی قدردان ثابت نہ ہوئے۔ اس بار رشتہ پر اعتراض لڑکے والوں کو نہیں بلکہ خود رجاء کو تھا ۔ پہلے لوگ رجاء کی بے زبانی کی وجہ سے رشتہ جوڑنا نہیں چاھتے تھے اب رجاء لوگوں کی لالچ دیکھ کر ان سے رشتہ جوڑنا نہیں چاہتی تھی۔

والدین جہیز میں اپنی خوشی سے اپنی بیٹی کو اس کی آنے والی زندگی کے مطابق ضروریات زندگی کی چیزیں دیتے ہیں مگر یہ دنیا والے اسے اپنا حق سمجھ کر اپنی خواہشات پوری کرنے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ جہیز کے نام پر لمبی چوڑی لسٹ لڑکے کے گھر والوں کی طرف سے لڑکی کے بوڑھے باپ کے ہاتھ میں تھما دی جاتی ہے اور حیرت کا مقام تو یہ ہے کے بائیک یا جائیدات کی مانگ لڑکے کے گھر والوں کی طرف سے بڑی ڈھٹائ سے عین بارات کے دن کی جاتی ہے۔ باقائدہ لڑکی کے گھر والوں کو دھمکاتے ہیں کہ اگر لڑکے والوں کی بات نا مانی گئی تو بارات لوٹ جاے گی ۔ نا جانے ایسے لوگوں کے ضمیر ملامت نہیں کرتے یا پھر ایسے لوگ ضمیر رکھتے بھی ہیں ؟

°°°°°°°°°°

لِسّان // لاریب رضوی

Sharing Is Caring
Recommended For You

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of