Urdu Literature Urdu Novels

لِسّان // لاریب رضوی- کہا

6 قسط

 کردار

°°°°°°

لِسّان // لاریب رضوی

وہ سانولی رنگت والی سمندر کی لہروں کو اپنی شہد جیسی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔ سمندر کی ہواؤں سے اس کے سر پر اوڑھا دوپٹہ سٙر سے سِرکنے لگا مگر اس نے ایک ہاتھ سے دوپٹے کو بھینچ کر رکھا جس کی وجہ سے دوپٹہ سٙر پر ٹِکا تھا۔ اتوار کے دن کی نسبت آج یہاں اتنا رٙش نہیں تھا۔ ناجانے یہ گہرے سمندر کی سرد ہوائیں اسے ہمیشہ سے ہی عجیب سکون اور خوشی بخشتی تھی۔ ویسے تو وہ کافی بار یہاں اپنی فیملی کے ساتھ پکنک منانے آچکی تھی لیکن آج پہلی بار اکیلی یہاں آئی تھی۔ ریت پر بیٹھے اس نے گُٹھنوں کے گِرد باہوں کو سکیڑ کر ان پر اپنا ایک رخسار رکھے ہوئے فاصلے پر ایک فیملی کو دیکھا۔
وہ اندازاً شاید بارہ افراد ہوں گے۔ سب ہسی خوشی سمندر کے قریب کھڑے انجوائے کر رہے تھے۔ سمندر کا پانی ان کے قدموں کو بھگوئے ہوئے تھا۔ رجاء کی سوچ اُس وقت متاثر ہوئی جب اس کے ہینڈ بیگ سے موبائل کی گُھٹی ہوئی آواز سنائی دی۔ اس نے موبائل نکال کر نام دیکھا۔ پھر افسوس سے کال کاٹ دی اور میسج ٹائپ کیا اور مطلوبہ نمبر پر ارسال کیا۔ پھر چہرہ اٹھا کر ایک سانس بھر کر سامنے سمندر کی لہروں کو دیکھتے ہوئے اپنی سوچ کے سمندر میں ڈوب گئی۔ کچھ لمحوں بات ایک آواز نے اسے سوچ کے سمندر سے نکال کر حقیقت کے ساحل پر لا کھڑا کیا ۔
“اسلام و علیکم۔” پُر کشش آواز پر رجاء نے چونک کر پیچھے دیکھا تو وہ گہری آنکھوں سے مسکرا کر اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔ بھوری رنگ کی پینٹ اور سفید شرٹ پر ڈھیلی ٹائی  شجاع کی گردن میں لٹکی تھی۔ رجاء نے جواب میں مسکرا کر صرف سٙر خم کیا۔ شجاع مسکرا کر سمندر کی ہوا سے اپنے بے ترتیب بالوں میں ہاتھ پھیرتا اس کے پاس ذرا فاصلہ برقرار رکھے ریت پر بیٹھ گیا۔
“سنا ہے میرے گھر والوں نے آپ کا بڑا پُرتپاک استقبال کیا ہے؟” شجاع نے لہروں پر نظر رکھتے ہوئے تھوڑا رجاء کی جانب جھک کر شوخ انداز میں کہا اور اپنی مسکراہٹ کو لبوں میں دباتے دوبارہ اسطرح بیٹھ گیا کہ دونوں پاوں کو سامنے قینچی شکل میں رکھا اور ہتیلیوں کو پیچھے ریت پر رکھ کر پیچھے کی جانب جھکا۔ رجاء نے اسکی جانب حیرانی سے دیکھا۔
 “آپ کو وہاں نہیں جانا چاہیے تھا۔” شجاع کی بات پر رجاء نے نظریں جھکائیں اور بیگ سے ڈائری اور پین ڈھونڈنے لگی۔
 “کیا ڈھونڈ رہی ہیں؟” شجاع نے حیرانی سے سوال کیا اور بیگ میں اس کے چلتے ہاتھوں کو دیکھنے لگا۔ رجاء کا دوپٹہ سمندری ہوا سے سِرک کر سر کے پیچھے گِر گیا تھا۔ رجاء نے اس کے سوال پر اشاروں کی زبان میں ڈائری اور پین کا کہا اور پھر دوبارہ بیگ میں تلاشنے لگی۔ شجاع نے اس کی کلائی کو پکڑا رجاء نے فوراً سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا جو مسکرا رہا تھا۔ 
“رجاء میں آپ کی بات سمجھ سکتا ہوں۔” شجاع نے مسکرا کر کہا اور اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔ رجاء نے مسکرا کر اپنی تلاش کو وہی روک دیا۔ اُسے خود سمجھ نہیں آرہا تھا کہ شجاع اس کی بات بغیر کاغذ اور قلم کے کیسے سمجھے گا؟  اس نے اپنی ہتیلی پر دوسرے ہاتھ کے انگوٹھے کو مسلتے ہوئے بات شروع کرنے کے لیے کچھ مناسب الفاظ کو دماغ میں ترتیب دینا شروع کیا۔ اس کی یہ الجھن دیکھ کر شجاع نے ہی بات شروع کی۔
“بھابی نے جو بھی کہا میں اس کے لیے آپ سے معذرت چاہتا ہوں۔” شجاع نے نظریں جھکائے کہا تو رجاء نے فوراً ہاتھوں کو ہلا کر اسے مزید کچھ کہنے سے روکا۔ 
“آپ کہہ رہی ہیں کہ میں معذرت نا کروں؟” شجاع نے سوال کیا تو رجاء نے اثبات میں سر ہلایا۔ شجاع نے بھویں جوڑ کر اسے حیرانی سے دیکھا۔ 
” مگر انھوں نے آپ کی دل آزاری کی تھی..” شجاع کی بات پر رجاء نے انھیں مسکرا کر دیکھا اور ہاتھ سے چپ رہنے کی درخواست کی۔ پھر دوبارہ وہ اشاروں کی زبان میں گویا ہوئی۔ “کہ بھابی کو جو کہنا ہے کہتی رہیں وہ ان سب باتوں کی عادی ہو چکی ہے۔” یہ بات سمجھ کر شجاع نے سیدھے بیٹھ کر اسے دیکھا۔
“رجاء ہم اگر لوگوں کو اپنی کمزوریوں پر بولنے کا موقع دیں گے تو وہ اول فول بولتے رہیں گے اور لوگوں کی فضول باتیں سننا کوئی اچھی عادت تو نہیں ہے۔” شجاع نے سنجیدگی سے کہا رجاء نے سمندر کی لہروں کو دیکھا۔ جبکہ شجاع کی نظریں اس کے چہرے پر جمی تھیں۔ “اور میں جانتا ہوں آپ نے بھابی کی باتیں صرف اِس لیتے سنی کیونکہ وہ میری فیملی سے تعلق رکھتی ہیں۔ ورنہ آپ ان کو بہترین جواب دے سکتیں تھیں۔” شجاع کی بات سن کر رجاء نے اس کی جانب زرا حیرت سے دیکھا۔ “انھیں جواب نا دینے کی، یہی وجہ تھی.. ؟” شجاع کے سوال پر رجاء نے کوئی تاثر نہیں دیا صرف نظر پھیر لی۔ 
“خیر۔۔ چلیں اُٹھیں۔ یہاں آئے ہیں تو کچھ کھا بھی لیتے ہیں۔”وہ ریت کو ہاتھوں اور کپڑوں سے جھاڑتا اٹھ کھڑا ہوا۔ رجاء نے چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا۔ پھر اشاروں کی زبان میں پوچھا کہ شجاع کو اس کی موجودگی کا کیسے پتا چلا۔ شجاع نے مسکرا کر ایک نظر لہروں کی طرف دیکھا جو ساحل کو چھو کر واپس لوٹ رہیں تھیں۔ پھر مسکرا کر رجاء کو دیکھا اور ذرا سا کمر کو خم کرتے ہوئے معنی خیز مسکراتے گویا ہوا۔
“مجھے اِلہام ہوا تھا کہ مس رجاء کراچی کے حسین سمندر کا منظر دیکھنے آئی ہوئی ہیں تو میں بھی پیچھے پیچھے آگیا۔” شجاع نے مسکرا کر کہا تو رجاء بھی مسکراہٹ سجائے بے یقینی سے سر ہلاتے اٹھ گئی اور اپنی فلیٹ سینڈلز پہن لی۔ اس نے گہرے سبز رنگ کی فراک ، پجامہ پہنا تھا۔ ہمرنگ ریشمی دوپٹہ سمندری ہوا میں لہرا رہا تھا۔
“چاٹ ، گول گپے یا پھر لٙچھے ؟” شجاع نے پیچھے نظروں سے فاصلے پر لگے اِسٹالز کی جانب دیکھ کر رجاء سے سوال کیا تھا۔ رجاء نے ہاتھ کے اشارے سے چائے پینے کا کہا۔ شجاع نے مسکرا کر ہامی بھری پھر دونوں واپس ساحل سے روڈ کی جانب چل دیے جہاں ایک چھوٹا ریسٹورینٹ تھا۔ شجاع نے دونوں کے لیے ڈسپوزیبل گلاس میں چائے لی اور دونوں ریسٹورینٹ کے ساتھ بنے فوٹ پاتھ پر چلنے لگے۔ رجاء نے پھر سے سوال دھورایا۔
“آپ کو تھوڑی دیر پہلے حریم کی کال آئی تھی تو آپ نے اسے بذریعہ میسج بتایا تھا کہ آپ یہاں پر ہیں۔”شجاع نے جواب دے کر چائے کا گھونٹ بھرا۔ سمندر کی ٹھنڈی ہوا، ابر آلود آسمان اور گرماگرم چائے۔ اِن لمحات نے شجاع کو ذرا راحت بخشی تھی۔ شجاع کا جواب سن کر رجاء نے آگے کی بات خود ہی سمجھتے ہوئے سر ہلایا اور چائے کا گھونٹ لیا۔ یقیناً حریم نے ہی شجاع کو اس کی یہاں موجودگی کا بتایا تھا۔ رجاء نے اشاروں کی زبان میں شجاع سے پوچھا کہ حریم نے رجاء اور اسکی فیملی سے متعلق اور کچھ بتایا؟
“مجھے سمجھ نہیں آیا.. آپ نے کیا کہا؟” شجاع نے ناسمجھ بنتے ہوئے کہا تو رجاء نے مسکرا کر آنکھیں سُکیڑ کر اسے دیکھا۔ شجاع اپنے چائے کے کپ کو ہونٹوں سے لگا کر مسکراہٹ چھپاتے آگے بڑھ گیا۔ چند قدم ہی چلا تھا کہ اس کے چہرے کے سامنے موبائل کی اسکرین آگئی۔ شجاع چونک کر رک گیا پھر موبائل کے ساتھ رجاء اسکے سامنے آگئی اور آنکھوں سے اپنے موبائل کی طرف اشارہ کیا۔ شجاع نے موبائل اسکرین کو دیکھا اس میں میسج ٹائپ کیا گیا تھا۔
شجاع نے ایک نظر رجاء کو دیکھا اور پھر اس کا موبائل اپنے ہاتھ میں لے کر میسج پڑھنے لگا۔ رجاء نے اپنا سوال دھورایا تھا کہ حریم نے کیا بتایا؟ شجاع نے ایک سانس بھری اور گہری نظروں سے اسے دیکھا۔
 “یہی بتایا تھا کہ آپ ممّا سے ملی تھیں پھر اس کے بعد آپ کے ساتھ بھابی نے بدتمیزی کی تھی۔ مگر ممّا اور آپ کے درمیان کیا بات ہوئی اسے نہیں معلوم۔” شجاع کی بات سن کر رجاء نے اس کے ہاتھ سے اپنا موبائل لیتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔ 
“ویسے رجاء آپ نے ممّا سے کیا بات کی تھی؟” شجاع نے گردن کی پشت کو دوسرے ہاتھ سے سہلاتے ہوئے سوال کیا۔ رجاء نے مسکرا کر موبائل میں ٹائپ کیا اور دوبارہ موبائل شجاع کو دے دیا۔ جس میں لکھا تھا کہ وہ صبا (شجا کی والدہ) کو شجاع کی طرف سے منانے کے لیے گئی تھی۔ 
“کیا ممّا مان گئیں؟” شجاع کے سوال پر رجاء نے کندھے ڈھلکائے سمندر کی جانب دیکھا اور پھر شجاع کی امید سے بھری نظروں کو دیکھا۔ پھر اشاروں کی زبان میں گویا ہوئی۔
“معلوم نہیں مگر..کوئی ماں اپنے بچے سے زندگی بھر ناراض نہیں رہ سکتی۔” رجاء کے اشاروں میں کہی گئی بات سمجھ کر اداس مسکراہٹ شجا کے لبوں پر پھیلی۔
“ماں اپنے بچے سے ناراض نہیں رہ سکتی۔” شجاع نے پچھتاوئے کا کڑوا گھونٹ نگلا۔ “مگر ماں اپنے بچے کے قاتل کو بھی معاف نہیں کر سکتی۔” شجاع نے نم آنکھوں سے سمندر کی جانب دیکھا۔ “اور شاید زندگی بھر معاف نہ کرے۔” وہ افسوس سے کہہ گیا پھر آگے بڑھ کر ڈسٹبن میں گلاس ڈالتے ہوئے سمندر کی جانب چل دیا۔ رجاء نے بھی اس کے عمل کی پیروی کرتے ہوئے گلاس ڈسٹبن میں ڈالا اور اس کے پیچھے چل دی۔ رجاء اس کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے لگی۔
“آپ کے درمیان کیا بات ہوئی تھی؟” شجاع نے رک کر رجاء کو دیکھا۔ رجاء مسکرا کر اشاروں کی زبان میں اس سے مخاطب ہوئی۔
  “میں نے ان سے کہا کہ وہ اُس حادثے میں خود کو اپنے بیٹے کی جگہ رکھ کر دیکھیں۔ اگر اُس رات وہ خود زنیزہ کے ساتھ حادثے کا شکار ہوتی اور قاسم انکل (شجاع کے والد)  انھیں زنیزہ کی موت کا ذمہ دار ٹھراتے تو وہ کیسا محسوس کرتیں؟”
“آپ کو ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا۔” رجاء کی بات سمجھ کر شجاع نے افسوس سے ذرا سر ہلا کر کہا۔ رجاء نے بھویں جوڑے اسے دیکھا اور پھر دوبارہ مخاطب ہوئی۔  “کبھی انسان کو صورت حال سمجھنے کے لیے دوسرے انسان کے پہلو سے بھی سوچنا چاہیے تاکہ وہ صورت حال کا مثبت حل تلاش کر سکے اور مجھے لگا کہ آپ کی طرف کی کہانی سمجھنے کے لیے انھیں خود کو آپ کے کردار کی جگہ رکھنا ہوگا۔ کیونکہ ابھی تک وہ زنیزہ کی ماں بن کر سوچ رہی تھیں لیکن اب انھیں شجاع بن کر سوچنا ہوگا۔”اس کے اشاروں کی زبان کو بہت دیھان سے سمجھ رہا تھا۔ بات کا اختتام کر کے وہ ہلکا سا مسکرائی۔
“یقین کریں۔۔۔ ہمارے والدین ہماری شادی میں شریک ہوگیں۔” اس نے مسکرا کر اشاروں کی زبان میں کہا اور لہروں کو دیکھا۔ شجاع نے مسکرا کر اپنے بے ترتیب بالوں میں ہاتھ پھیرا اور پھر جُھک کر پاوں کو جوتوں اور موزوں سے آزاد کیا اور پینٹ کے پائنچوں کو زرا اوپر کرتے پنڈلی تک موڑ لیا۔ پھر سیدھا کھڑے ہو کر رجاء کی سوالیہ نظروں کو دیکھ کر مسکرایا۔ 
“چلیں لہروں کو چھو کر آتے ہیں۔” شجاع نے مسکرا کر کہا رجاء نے نفی میں سر ہلایا۔ 
“ارے صرف پاوں بھگوئے گیں۔ چلیں۔۔” شجاع نے ہاتھ کے اشارے سے رجاء کو آگے چلنے کا کہا۔ اس کے اسرار کرتی گہری نظروں کو وہ کیسے انکار کرسکتی تھی۔ اس لیے مسکرا کر اس کے ساتھ چل دی۔ دونوں نے لہروں کی زرا پہنچ سے دور اپنے جوتے اور سینڈلز رکھ دیے۔ ننگے پاوں وہ گیلی ٹھنڈی ریت پر قدم کی چھاپ چھوڑ کر اپنی طرف آتی لہروں کی جانب چل دیے۔ ایک لہر تیزی سے دونوں کے پاوں کو ٹخنوں تک بگھوتی گزری تو دونوں کے لبوں پر بے ساختہ مسکراہٹ پھیل گئی۔  پھر لہر واپس لوٹتے ہوئے ان کے قدموں کے نیچے سے ریت بھی سِرکاتی ہوئی لے گئی۔ یہ احساس عجیب اور دلچسپ تھا جو دونوں نے محسوس کیا تھا۔ پُر سکون ، راحت بھرا احساس۔

اس کے سر پر اوڑھا دوپٹہ سٙر سے سِرکنے لگا مگر اس نے ایک ہاتھ سے دوپٹے کو بھینچ کر رکھا جس کی وجہ سے دوپٹہ سٙر پر ٹِکا تھا۔ اتوار کے دن کی نسبت آج یہاں اتنا رٙش نہیں تھا۔ ناجانے یہ گہرے سمندر کی سرد ہوائیں اسے ہمیشہ سے ہی عجیب سکون اور خوشی بخشتی تھی۔ ویسے تو وہ کافی بار یہاں اپنی فیملی کے ساتھ پکنک منانے آچکی تھی لیکن آج پہلی بار اکیلی یہاں آئی تھی۔ ریت پر بیٹھے اس نے گُٹھنوں کے گِرد باہوں کو سکیڑ کر ان پر اپنا ایک رخسار رکھے ہوئے فاصلے پر ایک فیملی کو دیکھا۔
وہ اندازاً شاید بارہ افراد ہوں گے۔ سب ہسی خوشی سمندر کے قریب کھڑے انجوائے کر رہے تھے۔ سمندر کا پانی ان کے قدموں کو بھگوئے ہوئے تھا۔ رجاء کی سوچ اُس وقت متاثر ہوئی جب اس کے ہینڈ بیگ سے موبائل کی گُھٹی ہوئی آواز سنائی دی۔ اس نے موبائل نکال کر نام دیکھا۔ پھر افسوس سے کال کاٹ دی اور میسج ٹائپ کیا اور مطلوبہ نمبر پر ارسال کیا۔ پھر چہرہ اٹھا کر ایک سانس بھر کر سامنے سمندر کی لہروں کو دیکھتے ہوئے اپنی سوچ کے سمندر میں ڈوب گئی۔ کچھ لمحوں بات ایک آواز نے اسے سوچ کے سمندر سے نکال کر حقیقت کے ساحل پر لا کھڑا کیا ۔
“اسلام و علیکم۔” پُر کشش آواز پر رجاء نے چونک کر پیچھے دیکھا تو وہ گہری آنکھوں سے مسکرا کر اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔ بھوری رنگ کی پینٹ اور سفید شرٹ پر ڈھیلی ٹائی  شجاع کی گردن میں لٹکی تھی۔ رجاء نے جواب میں مسکرا کر صرف سٙر خم کیا۔ شجاع مسکرا کر سمندر کی ہوا سے اپنے بے ترتیب بالوں میں ہاتھ پھیرتا اس کے پاس ذرا فاصلہ برقرار رکھے ریت پر بیٹھ گیا۔
“سنا ہے میرے گھر والوں نے آپ کا بڑا پُرتپاک استقبال کیا ہے؟” شجاع نے لہروں پر نظر رکھتے ہوئے تھوڑا رجاء کی جانب جھک کر شوخ انداز میں کہا اور اپنی مسکراہٹ کو لبوں میں دباتے دوبارہ اسطرح بیٹھ گیا کہ دونوں پاوں کو سامنے قینچی شکل میں رکھا اور ہتیلیوں کو پیچھے ریت پر رکھ کر پیچھے کی جانب جھکا۔ رجاء نے اسکی جانب حیرانی سے دیکھا۔
 “آپ کو وہاں نہیں جانا چاہیے تھا۔” شجاع کی بات پر رجاء نے نظریں جھکائیں اور بیگ سے ڈائری اور پین ڈھونڈنے لگی۔
 “کیا ڈھونڈ رہی ہیں؟” شجاع نے حیرانی سے سوال کیا اور بیگ میں اس کے چلتے ہاتھوں کو دیکھنے لگا۔ رجاء کا دوپٹہ سمندری ہوا سے سِرک کر سر کے پیچھے گِر گیا تھا۔ رجاء نے اس کے سوال پر اشاروں کی زبان میں ڈائری اور پین کا کہا اور پھر دوبارہ بیگ میں تلاشنے لگی۔ شجاع نے اس کی کلائی کو پکڑا رجاء نے فوراً سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا جو مسکرا رہا تھا۔ 
“رجاء میں آپ کی بات سمجھ سکتا ہوں۔” شجاع نے مسکرا کر کہا اور اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔ رجاء نے مسکرا کر اپنی تلاش کو وہی روک دیا۔ اُسے خود سمجھ نہیں آرہا تھا کہ شجاع اس کی بات بغیر کاغذ اور قلم کے کیسے سمجھے گا؟  اس نے اپنی ہتیلی پر دوسرے ہاتھ کے انگوٹھے کو مسلتے ہوئے بات شروع کرنے کے لیے کچھ مناسب الفاظ کو دماغ میں ترتیب دینا شروع کیا۔ اس کی یہ الجھن دیکھ کر شجاع نے ہی بات شروع کی۔
“بھابی نے جو بھی کہا میں اس کے لیے آپ سے معذرت چاہتا ہوں۔” شجاع نے نظریں جھکائے کہا تو رجاء نے فوراً ہاتھوں کو ہلا کر اسے مزید کچھ کہنے سے روکا۔ 
“آپ کہہ رہی ہیں کہ میں معذرت نا کروں؟” شجاع نے سوال کیا تو رجاء نے اثبات میں سر ہلایا۔ شجاع نے بھویں جوڑ کر اسے حیرانی سے دیکھا۔ 
” مگر انھوں نے آپ کی دل آزاری کی تھی..” شجاع کی بات پر رجاء نے انھیں مسکرا کر دیکھا اور ہاتھ سے چپ رہنے کی درخواست کی۔ پھر دوبارہ وہ اشاروں کی زبان میں گویا ہوئی۔ “کہ بھابی کو جو کہنا ہے کہتی رہیں وہ ان سب باتوں کی عادی ہو چکی ہے۔” یہ بات سمجھ کر شجاع نے سیدھے بیٹھ کر اسے دیکھا۔
“رجاء ہم اگر لوگوں کو اپنی کمزوریوں پر بولنے کا موقع دیں گے تو وہ اول فول بولتے رہیں گے اور لوگوں کی فضول باتیں سننا کوئی اچھی عادت تو نہیں ہے۔” شجاع نے سنجیدگی سے کہا رجاء نے سمندر کی لہروں کو دیکھا۔ جبکہ شجاع کی نظریں اس کے چہرے پر جمی تھیں۔ “اور میں جانتا ہوں آپ نے بھابی کی باتیں صرف اِس لیتے سنی کیونکہ وہ میری فیملی سے تعلق رکھتی ہیں۔ ورنہ آپ ان کو بہترین جواب دے سکتیں تھیں۔” شجاع کی بات سن کر رجاء نے اس کی جانب زرا حیرت سے دیکھا۔ “انھیں جواب نا دینے کی، یہی وجہ تھی.. ؟” شجاع کے سوال پر رجاء نے کوئی تاثر نہیں دیا صرف نظر پھیر لی۔ 
“خیر۔۔ چلیں اُٹھیں۔ یہاں آئے ہیں تو کچھ کھا بھی لیتے ہیں۔”وہ ریت کو ہاتھوں اور کپڑوں سے جھاڑتا اٹھ کھڑا ہوا۔ رجاء نے چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا۔ پھر اشاروں کی زبان میں پوچھا کہ شجاع کو اس کی موجودگی کا کیسے پتا چلا۔ شجاع نے مسکرا کر ایک نظر لہروں کی طرف دیکھا جو ساحل کو چھو کر واپس لوٹ رہیں تھیں۔ پھر مسکرا کر رجاء کو دیکھا اور ذرا سا کمر کو خم کرتے ہوئے معنی خیز مسکراتے گویا ہوا۔
“مجھے اِلہام ہوا تھا کہ مس رجاء کراچی کے حسین سمندر کا منظر دیکھنے آئی ہوئی ہیں تو میں بھی پیچھے پیچھے آگیا۔” شجاع نے مسکرا کر کہا تو رجاء بھی مسکراہٹ سجائے بے یقینی سے سر ہلاتے اٹھ گئی اور اپنی فلیٹ سینڈلز پہن لی۔ اس نے گہرے سبز رنگ کی فراک ، پجامہ پہنا تھا۔ ہمرنگ ریشمی دوپٹہ سمندری ہوا میں لہرا رہا تھا۔
“چاٹ ، گول گپے یا پھر لٙچھے ؟” شجاع نے پیچھے نظروں سے فاصلے پر لگے اِسٹالز کی جانب دیکھ کر رجاء سے سوال کیا تھا۔ رجاء نے ہاتھ کے اشارے سے چائے پینے کا کہا۔ شجاع نے مسکرا کر ہامی بھری پھر دونوں واپس ساحل سے روڈ کی جانب چل دیے جہاں ایک چھوٹا ریسٹورینٹ تھا۔ شجاع نے دونوں کے لیے ڈسپوزیبل گلاس میں چائے لی اور دونوں ریسٹورینٹ کے ساتھ بنے فوٹ پاتھ پر چلنے لگے۔ رجاء نے پھر سے سوال دھورایا۔
“آپ کو تھوڑی دیر پہلے حریم کی کال آئی تھی تو آپ نے اسے بذریعہ میسج بتایا تھا کہ آپ یہاں پر ہیں۔”شجاع نے جواب دے کر چائے کا گھونٹ بھرا۔ سمندر کی ٹھنڈی ہوا، ابر آلود آسمان اور گرماگرم چائے۔ اِن لمحات نے شجاع کو ذرا راحت بخشی تھی۔ شجاع کا جواب سن کر رجاء نے آگے کی بات خود ہی سمجھتے ہوئے سر ہلایا اور چائے کا گھونٹ لیا۔ یقیناً حریم نے ہی شجاع کو اس کی یہاں موجودگی کا بتایا تھا۔ رجاء نے اشاروں کی زبان میں شجاع سے پوچھا کہ حریم نے رجاء اور اسکی فیملی سے متعلق اور کچھ بتایا؟
“مجھے سمجھ نہیں آیا.. آپ نے کیا کہا؟” شجاع نے ناسمجھ بنتے ہوئے کہا تو رجاء نے مسکرا کر آنکھیں سُکیڑ کر اسے دیکھا۔ شجاع اپنے چائے کے کپ کو ہونٹوں سے لگا کر مسکراہٹ چھپاتے آگے بڑھ گیا۔ چند قدم ہی چلا تھا کہ اس کے چہرے کے سامنے موبائل کی اسکرین آگئی۔ شجاع چونک کر رک گیا پھر موبائل کے ساتھ رجاء اسکے سامنے آگئی اور آنکھوں سے اپنے موبائل کی طرف اشارہ کیا۔ شجاع نے موبائل اسکرین کو دیکھا اس میں میسج ٹائپ کیا گیا تھا۔
شجاع نے ایک نظر رجاء کو دیکھا اور پھر اس کا موبائل اپنے ہاتھ میں لے کر میسج پڑھنے لگا۔ رجاء نے اپنا سوال دھورایا تھا کہ حریم نے کیا بتایا؟ شجاع نے ایک سانس بھری اور گہری نظروں سے اسے دیکھا۔
 “یہی بتایا تھا کہ آپ ممّا سے ملی تھیں پھر اس کے بعد آپ کے ساتھ بھابی نے بدتمیزی کی تھی۔ مگر ممّا اور آپ کے درمیان کیا بات ہوئی اسے نہیں معلوم۔” شجاع کی بات سن کر رجاء نے اس کے ہاتھ سے اپنا موبائل لیتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔ 
“ویسے رجاء آپ نے ممّا سے کیا بات کی تھی؟” شجاع نے گردن کی پشت کو دوسرے ہاتھ سے سہلاتے ہوئے سوال کیا۔ رجاء نے مسکرا کر موبائل میں ٹائپ کیا اور دوبارہ موبائل شجاع کو دے دیا۔ جس میں لکھا تھا کہ وہ صبا (شجا کی والدہ) کو شجاع کی طرف سے منانے کے لیے گئی تھی۔ 
“کیا ممّا مان گئیں؟” شجاع کے سوال پر رجاء نے کندھے ڈھلکائے سمندر کی جانب دیکھا اور پھر شجاع کی امید سے بھری نظروں کو دیکھا۔ پھر اشاروں کی زبان میں گویا ہوئی۔
“معلوم نہیں مگر..کوئی ماں اپنے بچے سے زندگی بھر ناراض نہیں رہ سکتی۔” رجاء کے اشاروں میں کہی گئی بات سمجھ کر اداس مسکراہٹ شجا کے لبوں پر پھیلی۔
“ماں اپنے بچے سے ناراض نہیں رہ سکتی۔” شجاع نے پچھتاوئے کا کڑوا گھونٹ نگلا۔ “مگر ماں اپنے بچے کے قاتل کو بھی معاف نہیں کر سکتی۔” شجاع نے نم آنکھوں سے سمندر کی جانب دیکھا۔ “اور شاید زندگی بھر معاف نہ کرے۔” وہ افسوس سے کہہ گیا پھر آگے بڑھ کر ڈسٹبن میں گلاس ڈالتے ہوئے سمندر کی جانب چل دیا۔ رجاء نے بھی اس کے عمل کی پیروی کرتے ہوئے گلاس ڈسٹبن میں ڈالا اور اس کے پیچھے چل دی۔ رجاء اس کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے لگی۔
“آپ کے درمیان کیا بات ہوئی تھی؟” شجاع نے رک کر رجاء کو دیکھا۔ رجاء مسکرا کر اشاروں کی زبان میں اس سے مخاطب ہوئی۔
  “میں نے ان سے کہا کہ وہ اُس حادثے میں خود کو اپنے بیٹے کی جگہ رکھ کر دیکھیں۔ اگر اُس رات وہ خود زنیزہ کے ساتھ حادثے کا شکار ہوتی اور قاسم انکل (شجاع کے والد)  انھیں زنیزہ کی موت کا ذمہ دار ٹھراتے تو وہ کیسا محسوس کرتیں؟”
“آپ کو ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا۔” رجاء کی بات سمجھ کر شجاع نے افسوس سے ذرا سر ہلا کر کہا۔ رجاء نے بھویں جوڑے اسے دیکھا اور پھر دوبارہ مخاطب ہوئی۔  “کبھی انسان کو صورت حال سمجھنے کے لیے دوسرے انسان کے پہلو سے بھی سوچنا چاہیے تاکہ وہ صورت حال کا مثبت حل تلاش کر سکے اور مجھے لگا کہ آپ کی طرف کی کہانی سمجھنے کے لیے انھیں خود کو آپ کے کردار کی جگہ رکھنا ہوگا۔ کیونکہ ابھی تک وہ زنیزہ کی ماں بن کر سوچ رہی تھیں لیکن اب انھیں شجاع بن کر سوچنا ہوگا۔”اس کے اشاروں کی زبان کو بہت دیھان سے سمجھ رہا تھا۔ بات کا اختتام کر کے وہ ہلکا سا مسکرائی۔
“یقین کریں۔۔۔ ہمارے والدین ہماری شادی میں شریک ہوگیں۔” اس نے مسکرا کر اشاروں کی زبان میں کہا اور لہروں کو دیکھا۔ شجاع نے مسکرا کر اپنے بے ترتیب بالوں میں ہاتھ پھیرا اور پھر جُھک کر پاوں کو جوتوں اور موزوں سے آزاد کیا اور پینٹ کے پائنچوں کو زرا اوپر کرتے پنڈلی تک موڑ لیا۔ پھر سیدھا کھڑے ہو کر رجاء کی سوالیہ نظروں کو دیکھ کر مسکرایا۔ 
“چلیں لہروں کو چھو کر آتے ہیں۔” شجاع نے مسکرا کر کہا رجاء نے نفی میں سر ہلایا۔ 
“ارے صرف پاوں بھگوئے گیں۔ چلیں۔۔” شجاع نے ہاتھ کے اشارے سے رجاء کو آگے چلنے کا کہا۔ اس کے اسرار کرتی گہری نظروں کو وہ کیسے انکار کرسکتی تھی۔ اس لیے مسکرا کر اس کے ساتھ چل دی۔ دونوں نے لہروں کی زرا پہنچ سے دور اپنے جوتے اور سینڈلز رکھ دیے۔ ننگے پاوں وہ گیلی ٹھنڈی ریت پر قدم کی چھاپ چھوڑ کر اپنی طرف آتی لہروں کی جانب چل دیے۔ ایک لہر تیزی سے دونوں کے پاوں کو ٹخنوں تک بگھوتی گزری تو دونوں کے لبوں پر بے ساختہ مسکراہٹ پھیل گئی۔  پھر لہر واپس لوٹتے ہوئے ان کے قدموں کے نیچے سے ریت بھی سِرکاتی ہوئی لے گئی۔ یہ احساس عجیب اور دلچسپ تھا جو دونوں نے محسوس کیا تھا۔ پُر سکون ، راحت بھرا احساس۔

تھا۔ پُر سکون ، راحت بھرا احساس۔

لِسّان // لاریب رضوی

°°°°°°°°°°

Sharing Is Caring

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of