7 قسط

لِسّان // لاریب رضوی // نعمتوں کا استعمال

وہ گہری آنکھوں سے سامنے بڑے سفید رنگ میں رنگے  گھر کو دیکھ رہا تھا۔ اس نے سر جھکا کر سانس لیتے ہوئے ماتھے پر ایک ہاتھ کی انگلیاں پھیری۔ پھر گھر کو اپنی گہری نظروں کے احاطے میں رکھے اس کی جانب قدم بڑھائے۔ مرکزی گیٹ پر پہنچ کر اس نے گارڈ کے گیٹ کھولنے کا انتظار کیا لیکن گارڈ کی مشکوک نگاہوں کو دیکھتے ہوئے اسے اپنے تعارف کا خیال آیا۔

“میں شجاع ہوں۔ شجاع حیدر.. اس گھر کے مالک کا چھوٹا بیٹا۔” دھیمی پُراثر آواز میں اس نے مختصر سا تعرف کروایا۔ وہیں گارڈ کے دماغ نے بھی اسے یاد دلایا کہ اس نے یہاں کے کسی ملازم سے سنا تھا کہ قاسم حیدر کا ایک چھوٹا بیٹا بھی ہے جو ان کے ساتھ نہیں رہتا۔ گارڈ نے احتراماً سلام کرتے ہوئے گیٹ کھول دیا۔ 

“صاحب گاڑی اندر لے آوں؟” گارڈ نے شجاع کی گاڑی کی جانب دیکھ کر سوال کیا تھا۔ شجاع نے مڑ کر روڈ کے باہر کھڑی گاڑی کو دیکھا اور ہلکا سا مسکرا کر گارڈ کی جانب دیکھ کر اس سے مخاطب ہوا۔

“نہیں اسے وہیں رہنے دو۔ “شجاع یہ کہہ کر آگے بڑھ گیا۔ اسے خود نہیں معلوم تھا کہ چار سالوں بعد اس کی فیملی سے ملاقات کا دورانیہ کتنی دیر کا تھا۔

باغ کے درمیان بنی روش پر چلتے ہوئے اس کی نگاہ گھر کے باغ میں کھڑے ایک شخص پر ٹہر گئی۔ اس شخص کی کمر شجاع کی طرف تھی اس لیے وہ شجاع کو نہیں دیکھ سکا۔ وہ شخص دِکھنے میں شجاع کی طرح ہی تھا۔ جسامت میں سِلم اور سر پر گھنے کالے بال تھے۔ شجاع کا دوسرے نمبر کا بھائی۔ اس نے گود میں ایک سال کی بچی کو اٹھایا ہوا تھا اور دوسرے ہاتھ میں موبائل پکڑے کسی سے باتوں میں مصروف تھا۔ شجاع نے ہلکے قدم پیچھے لیے اور مڑ کر گھر کی جانب چل دیا۔

“شجاع؟” مگر پیچھے سے دی گئی آواز پر شجاع کے قدم تھم گئے۔ شجاع نے مڑ کر دیکھا۔ وہ جو تھوڑی دیر پہلے فون پر مصروف تھا اب مسکراہٹ سجائے شجاع کی جانب آرہا تھا۔ شجاع کے قریب پہنچتے ہی اس نے شجاع کو گلے لگایا اور ایک ہاتھ سے شجاع کی کمر تھپکائی۔ دونوں کے درمیان رسماً سلام دعا ہوئی۔

“تمھاری بیٹی ہے ؟” شجاع نے اس کی گود میں ایک سال کی بچی کی جانب اشارہ کیا اور اس کے گال کو چھوا۔ “ہاں.. “اس نے مسکرا کر جواب دیا۔

“تم لوٹ آئے ہو؟”اس سے پہلے کے شجاع اس کے سوال کا کوئی جواب دیتا۔ اس کا فون بجنے لگا۔

“تم بات کر لو میں اندر ہی ہوں۔”شجاع نے مسکرا کر کہا اور اسے وہیں چھوڑ کر گھر میں داخل ہوگیا۔ چھوٹے بچے ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے ہوئے شجاع کے پاس سے گزرے۔ شجاع نے ان کی طرف نہیں دیکھا اس کی گہری نظریں تو اس گھر کے درو دیوار کو دیکھ رہیں تھی سب ویسا ہی تھا جیسا وہ چھوڑ گیا تھا۔ “نامکمل..” اس نے اپنے دل کی آواز پر حیرانی سے دیوار پر لگی ایک تصویر کو دیکھا ۔ جس میں گھر کے سب فرد موحود تھے۔ اس تصویر میں اس کے والدین ، اس کے دو بھائی اور بھابیاں ان کے بچے، اس کی بہن اور بہنوئی وہ بھی اپنے بچوں کے ساتھ مگر اس تصویر میں کچھ کمی تھی۔ وہاں اس کے والدین کے قریب رکھی دو کرسیاں خالی تھیں۔ یہ دیکھ کر شجاع کے لبوں پر اداس مسکراہٹ پھیل گئی۔ یہ کرسیاں زنیزہ اور شجاع کے لیے تھیں ۔

“تم لوٹ آئے.. ” ایک اور آواز پر شجاع نے مڑ کر دیکھا وہاں اس کی بڑی بھابی مسکراہٹ سجائے کھڑی تھیں۔ شجاع نے انہیں سلام کیا اور وہ سلام کا جواب دے کر اس کی جانب بڑھیں۔ قریب پہنچ کر انہوں نے شجاع کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا اور ساتھ ساتھ بلند آواز میں شجاع کے آنے کا اعلان کر دیا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے سب اپنے اپنے کام کاج چھوڑ کر لیونگ روم میں آگئے۔ شجاع کے سب سے بڑے بھائی ، قاسم صاحب بھی اپنے اسٹڈی روم سے باہر آ گئے۔ سب گھر کے لیونگ روم میں تھے۔

شجاع کی گہری نظریں اپنے لیے اس رحمت کے آنچل کی تلاش میں بے چین تھیں۔ وہ صبا کو دیکھنا بھی چاہتا تھا مگر ڈرتا بھی تھا کہ کہیں اسے یہاں دیکھ کر صبا کو پھر سے تکلیف نا ہو۔

“ارم کہاں ہے؟”شجاع نے اپنی دوسرے نمبر کی چھوٹی بھابی کے بارے میں سوال کیا۔ ماحول میں اچانک ہوا کا دباو کم ہوتے ہوئے سب نے ہی محسوس کیا تھا۔ قاسم نے اپنے ساتھ بیٹھے شجاع کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ ارم نے رجاء کے ساتھ جو بدتمیزی کی تھی وہ اس سے واقف تھے۔ 

“بیٹا اس بات کو فِل وقت جانے دو۔” انھوں نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ شجاع سے کہا۔

“دیڈ بھابھی کو رجاء سے کچھ جواب چاہیے تھے.. تو میں رجاء کی جگہ انھیں جواب دینے آیا ہوں۔”اس نے سنجیدگی سے کہا۔ اسی وقت ارم بھی لیونگ روم میں داخل ہوئی۔ شجاع نے سلام کیا اور اس نے شجاع کو جانچتی نظروں سے دیکھتے ہوئے سلام کا جواب دیا۔

“تم یہاں کیسے؟” ارم نے بھویں اٹھا کر سوال کیا۔ اس کے چہرے کے تیکھے نقش جتا رہے تھے کے شجاع کا یہاں آنا اسے کچھ ناگوار گزرا تھا۔

“یہ تو آپ بہتر جانتی ہیں کہ..  میں یہاں کیسے؟”شجاع نے بنا تاثر کے جواب دیا۔ سب نے ان دونوں کے درمیان الفاظوں کی سرد جنگ بھانپ لی تھی۔ ارم نے شجاع کو سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

“لیں میں حاضر ہوں۔ اب پوچھیں وہ سوال جو آپ نے رجاء سے پوچھے تھے۔ وہ بے زبان تھی اس لیے اپنے جواب آپ کو سمجھا نہیں سکتی تھی۔ لیکن اس کی جگہ میں آپ کے سوالات کے جواب دے سکتا ہوں اور آپ کو بہترین طریقے سے سمجھا بھی سکتا ہوں۔”شجاع نے بغور اسے دیکھتے ہوئے طنز کیا۔ ارم کے تیکھے نقوش پر غصے کے تاثر ابھر آئے۔ 

“یہ کیسے بات کر رہے ہو اپنی بھابی سے؟”آواز پر شجاع نے اپنے بھائی کی طرف دیکھا جو ابھی لیونگ روم میں داخل ہوا تھا اور چل کر ارم کے مقابل کھڑا ہوگیا تھا۔ اس نے اپنی ایک سال کی بیٹی کو ارم کے حوالے کیا۔

 “شجاع میں مانتا ہوں کہ ارم کو رجاء سے بدتمیزی سے بات نہیں کرنی چاہیے تھی لیکن میرے بھائی تمھارا بات کرنے کا یہ طریقہ بھی درست نہیں ہے۔” اس نے شجاع کو نرمی سے سمجھایا۔اس کی بات پر شجاع اداس مسکرا دیا۔

“کیا تم مجھے معاف کر سکتے ہو ؟ یہ جان کر.. کہ میں اپنے اس رویے پر شرمندہ ہوں؟ کیا تم مجھے معاف کر دو گے؟”شجاع نے اپنے بھائی سے سوال کیا۔ 

“تم مجھے معاف کردوگے۔ اگر میں واقعی اپنی غلطی پر شرمندہ ہوا تو.. “اس نے لفظ تو پر زور دے کر ادا کیا اور پھر چند سیکنڈ رکا اور نظر دوبارہ ارم پر ڈالی۔ ” مگر میرے بھائی یہاں تو شرمندگی کے آثار ہی نہیں ہیں۔ اور نا ہی بھابی اپنے کیے پر معافی چاہتی ہیں۔ تم ہی بتاؤ میرا برتاو کیسا ہونا چاہیے ؟”شجاع نے افسوس سے سر ہلا کر کہا۔ 

“میں کیوں مانگوں معافی؟” ارم نے غصے میں کہا۔

“کیونکہ آپ نے میری منگیتر کو بے عزت کیا تھا۔” شجاع نے فوراً جواب دیا۔ قاسم نے اس کا شانہ پکڑ کر خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔

“اوہ تو اس کی بے عزتی کا بدلہ لینے آئے ہو؟”ارم نے طنزیہ سوال کیا۔

“آپ کی زبان سے کبھی اچھے الفاظ بھی ادا ہوئے ہیں؟” شجاع نے سنجیدگی سے سوال کیا۔ 

“شجاع۔۔۔۔” ارم کے شوہر نے نرم لہجے میں اس کا نام پکار کر تنبیہ کی۔ شجاع نے اپنے بھائی کو ایک نظر دیکھا۔

“آپ سب اس کی بدتمیزی دیکھ رہے ہیں؟”ارم کمرے میں موجود گھر کے باقی افراد سے مخاطب تھی۔

“بدتمیزی؟” شجاع کے لہجے میں حیرانی واضح تھی۔

“میں نے آپ کو گولڈ ڈیگر نہیں کہا۔ نا ہی میں نے آپ کی کسی محرومی پر آپ کا مزاق اڑایا ہے۔”شجاع کے طنز پر ارم کی آنکھیں حیرانی سے پھیل گئی۔ اسے یاد تھا کہ اس نے رجاء کے بےزبان ہونے پر کیا کہا تھا۔

“میں یہاں آپ کے سوالات کے جواب دینے آیا ہوں۔ پوچھیں وہ سوال جو آپ نے رجاء سے پوچھے تھے۔” شجاع نے بھویں جوڑے باروب  آواز میں کہا اور اپنی نشست سے کھڑا ہوا۔

“شاید آپ سوال بھول گئی ہیں۔ چلیں میں بھی وہ سوال دوھرا کر آپ کو شرمندہ اور خود کو ازیت پہچانا نہیں چاہتا۔ لیکن.. ” وہ رکا اور پھر گویا ہوا۔ “ایک بات ضرور کہوں گا۔ رجاء بےزبان ہے شاید اس لیے اسے اس زبان کی قدر ہے اور وہ الفاظ کا استعمال بھی دیھان سے کرنا جانتی ہے۔ سچ پوچھیں تو اگر زبان ہوتے ہوئے اس نے بھی آپ کی طرح اپنے الفاظ اور آواز سے لوگوں کی دل آزاری کرکے بددعائیں ہی کمانی تھیں ۔ تو میں اللّه کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے میری رجاء کو بے زبان رکھا۔ کم از کم وہ آپ کی طرح اپنی زبان سے لوگوں کے دلوں پر ضرب تو نہیں لگاتی۔” شجاع نے تحمل سے ارم کی تیکھی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بات کہہ دی اور پھر ہلکا سا مسکرایا۔

“نعمتوں کا استعمال دھیان سے کریں۔ معلوم نہیں اس کا غلط استعمال دیکھتے ہوئے کہیں اللّه ہمیں اس نعمت سے محروم ناکر دے۔” شجاع نے گہری نظروں سے ارم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا پھر پیچھے مڑ کر صوفے پر بیٹھے قاسم صاحب کو دیکھا۔ 

“میں چلتا ہوں دیڈ۔ اپنا خیال رکھیے گا۔ اللّه حافظ۔” اس نے جھک کر ان کے کندھے پر پیار کیا اور گلے مل کر بلند آواز میں الودع کہہ  کر کسی سے ملے بغیر وہاں سے چلا گیا۔

شجاع تیزی سے گھر سے باہر نکلا ۔ وہ پلٹ کر بھی دیکھنا نہیں چاہتا تھا مگر اس کے تیزی سے بڑھتے قدم اچانک رک گئے۔ اسی وقت سامنے روش سے چلتی ہوئی صبا نے اس کی جانب دیکھا۔ ان کی مسکراہٹ بھی اب فنا ہو رہی تھی۔ شجاع اپنی جگہ مجسمہ بن گیا تھا۔ شجاع کو معلوم نہیں تھا کہ حریم ، صبا اور اپنے بچوں کو پاس کے باغ میں لے گئی تھی۔ وہ یہی سمجھ رہا تھا کہ شاید صبا ہمیشہ کی طرح اس سے ملنا نہیں چاہتی اس لیے لیونگ روم میں نہیں آئیں تھیں۔ چار سال بعد وہ اپنی ماں کو اپنے سامنے دیکھ رہا تھا۔ 

“مام۔۔۔”اس کی لرزتی ہوئی آواز۔ “دور ہوجاؤ میری نظروں سے۔۔۔ تم۔۔۔ تم میری بچی کے قاتل ہو۔۔۔ سنا تم نے۔۔ شجاع تم قاتل ہو۔”یہ آخری جملے تھے جو صبا نے اس سے کہے تھے۔ انھوں نے تو اسے سیدھا مجرم کہہ دیا تھا۔

الزام یاد آتے ہی اس کا دل اور گہری آنکھیں نمکین پانی سے بھر گئے۔ شجاع نے پلکیں جھپکاتے ہوئے آنکھوں کی تری کو دور کیا۔ پھر ناچاہتے ہوئے بھی صبا کے چہرے سے نظریں پھیر کر باغ کی جانب دیکھا اور گہری سانس بھرتے ہوئے اپنے آپ کو بکھرنے سے سنمبھالا۔ نا جانے اب کیا ہونا تھا؟ کیا صبا اسے کبھی معاف نہیں کریں گی؟ کیا وہ ان کی نظر میں اب بھی قاتل ہے؟ یہ سوال اس کے دل کو بوجھ تلے دبا رہے تھے۔
لِسّان // لاریب رضوی // نعمتوں کا استعمال

لِسّان // لاریب رضوی // نعمتوں کا استعمال

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments