سلسلے // زینب نغمان

زیرِ قید ہوں
اپنے ہی بنائے پنجروں میں
پیر جکڑے ہیں
انگنت زنجیروں میں
کئ خیال ہیں کئ سوال ہیں
الجھی ہوں اپنی ہی لکیروں میں

ہر ہوا کا جھونکا نئے سوال لے آتا ہے
میرے ان پھڑپھڑاتے پروں کو
نئے بوجھ دے جاتا ہے
جواب تلاشتی ہوں میں ہر سو
پر ہر قدم پر اندھیرا گھنا ہو جاتا ہے

درد نہیں ہے،ایک خالی پن ہے
کوئی چوٹ لگ بھی جائے
تو ہر احس گویا سُن سی ہے
تنہا نہیں ہوں میں ،ہونا ممکن ہی نہیں
بھیڑ  ہے خیالوں کی ، عجیب سی دھند ہے

 مسکراہٹ تو ہے لبوں پر
شاید سکوں کی کمی ہے
نم سا ہے دل کا ہر گوشہ
شاید بارش ابھی ہی تھمی ہے
اس جزیرے پر کوئی اور دکھا نہیں
شاید بھٹک رہے صرف ہم ہی ہیں

کبھی چیخ اٹھنے کا جی چاہتا ہے
کبھی ہلکی سی آہٹ پر دل لرز جاتا ہے
اب ٹکڑے بکھرے ہیں تو وقت تو لگےگا
دھیرے دھیرے ہی سیکھا صبر جاتا ہے

خاموشی اور شور کا
الگ ہی امتزاج ہے
سوچ گہری ہے
صفحوں کی کمی آج ہے
سیاہی بھی  شاید آخری دموں پر ہے
پر کبھی نہ رکنا 
میرے الفاظوں کا مزاج ہے

جواب تو مجھے مل ہی جائنگے
پھر سوال نئے خود ہی آئینگے
یہ سفر اختتام تک پہنچےگا نہیں
لیکن حد تک آ کر ہم کیا پائیں گے؟

یہ بکھرے ٹکڑے بھی جڑ ہی جائیں گے
کھوئے ہوئے کاغذ مل ہی جائیں گے
کہانی پھر بھی مکمّل نا ہو پائے گی
یہ قصّے ، یہ لمحے
کیا ہوگا اگر یہ سلسلے تھم جائیں گے؟

Sharing Is Caring
Recommended For You

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of