درویش کے رنگ // عین الحیات

قلب میں اک سوز ھے

 روح میں اک احساس ھے

تلاش خدا میں گم ھےساقئ

درویشی کےعجب رنگ ہیں باقی

پاگل پن کے اس نگر میں

رنگوں کی دھن سنائی دے

بہتے دریا پریم گیت گاٸیں

چلتی ہوا ہر سمت محبت کا پیغام دے

آنکھوں میں عشق کا رنگ چڑھائے

چھوڑکے ورد، وظیفے سارے

رقصوں پے کمال ہے سارے

خود کلامی درویش کا کلام ہو جیسے

ھجوم میں فن خلوت کےرنگ سارے

غم میں فنِ تبسم کے ڈھنگ سارے

اُلجھی اُلجھی سی زندگی میں

سلجھے سلجھے سے اصول ھوں جیسے

بکھرے بکھرے وجودوں میں

بکھرے بکھرے نور ہوں جیسے

 عالم مدھوشی میں کچھ سجدے

درویشی کے یہ رنگ ہیں نرالے

عشق کے میکدے میں

کہتے ہوئے چلے جاناں جاناں

راہ لفت کی گلیوں میں

گھومتے ہیں سرمستی

 رازعشق میں پوشیدہ ہے

درویشی کے کچھ ڈھنگ سوھانے

عشق جو ناچ نچاۓ

مٹی میں یہ دنیا رول جاۓ

    یہ بے رنگ سی مٹی

بیدم رنگ ھو جسے

درویشی کا اک سنگ ھو جسے

Sharing Is Caring
Recommended For You

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of