بابا // عفیفہ ہزل


میرے سوال مجھے تنگ کر رہے ہیں بہت اذیت دے رہے ہیں۔
دنیا تنگ کر دی گئ ہے مجھ پر، بتاؤ کس گناہ کی سزا مل رہی ہے؟
کوئ بھی انسان ایک حد تک مضبوط رہ سکتا ہے کہیں نہ کہیں مکڑی کے جالے جیسی کمزوری چھپی ہوتی بس اس کی حفاظت میں لگا رہتا ہے۔
 ذرا سا دھیان یہاں وہاں ہوا وہ ڈوری ٹوٹ جاتی ہے، ضبط کے سارے بندھن سارے تقاضے بھول جاتے ہیں۔ دھڑکنیں بے ربط اور سانس اکھڑ جاتی ہے۔
تب وہ سہارا چاہئے ہوتا ہے جس کو “بھلایا جا چکا” کا فریب دے کر کہیں کال کوٹھری میں پھینک دیا ہوتا۔۔ وہی سہارا گرتا پڑتا اپنا وجود سامنے لے آتا ہے۔
پھر جان ہی تو جیسے نہیں رہتی۔ پورے وجود پر جمود طاری ہوجاتا۔
اردگرد کا ماحول گھپ اندھیرے میں ڈوب جاتا بس وہ وجود۔۔۔ وہ سہارا اپنی پوری توانائی سے ماحول کو مسحور کرنے کو کافی ہوتا۔ 
بابا! 
بتاؤ نا بابا!
میرے سوال جو میں نے کبھی کئے نہیں تھے آج لبوں پر آنے کو بے تاب ہیں۔ جنہیں ہجر کی چادر اوڑھا کر قبر کی مٹی کا لیپ کر دیا تھا۔۔۔ آج کیوں وہ مٹی ہوا میں اڑ رہی ہے؟
سر بازار میرے سوالوں کو ننگا کر دیا گیا ہے۔ کس کو معلوم ہے میرے وصل کی چادر کہاں ہے؟  
مجھے معلوم ہے یہ  چادر وصل مجھے برباد کر ڈالے گی مگر مجھے برباد ہونا ہے۔۔
میں نے آج تک خواہش نہیں رکھی اس وجود کی، سوائے چاہے جانے کے۔۔
تو پھر آج وصل پر دل مائل کیوں ہے؟
آج لبوں پر دعا کیوں ہے؟
آج دھڑکنیں اس کی دھڑکنوں سے ملنے کو بے تاب کیوں ہیں؟
ایک ابدی نیند کی خواہش جاگ اٹھی ہے اس وجود کو اپنا آخری سہارا بنانے کی۔۔ اک بے لگام خواہش جس کی لگام اب ہاتھوں سے نکلتی جا رہی ہے۔
میرا خود پر اب بس نہیں رہا۔
جس وجود کو آج تک دنیا کی مکروہ نگاہوں سے بچائے رکھا آج وہی وجود اپنی بھرپور جوانی لئے پھڑپھڑا رہا ہے۔
مجھے ڈر ہے کہیں رسوائیاں میرے گلے کا طوق نہ بن جائیں۔۔
مجھے ڈر ہے میری ذات پر اب سب کی انگلیاں ہوں گی۔
مجھے ڈر ہے مجھے مٹی میں ملا دیا جائے گا۔۔
مگر یہ سب ڈر اس کے قرب پر قربان۔
مگر کوئی میرے اس سوال کا جواب تو دے۔۔ ایک عمر بتائی ہے خواہشوں کا گلا گھونٹتے ہوئے اب آخر کیوں اس خواہش کا گلا ہاتھ میں نہیں آرہا۔۔؟
بلکہ مجھے تو یوں لگتا ہے جیسے وہ خواہش میری رگ جاں تک پہنچ چکی ہے ۔۔
اس جگہ اس کی رسائی ہو چکی ہے جہاں بس ایک آخری ہچکی آپ کی ساتھی ہے باقی سب مایا ہے۔
باقی جو بھی ہے اس خواہش کے قبضے میں جا چکا۔۔
بولو نا بابا!
اذیت میری آنکھوں کے رستے خون بن کر نکل رہی ہے آخر اتنے خاموش کیوں ہیں آپ؟
“بابا تیری گڑیا کے ساتھ دنیا کھیل گئ”
اور یوں آخری ہچکی اس کے سوالوں کے جواب سے پہلے اس کے لبوں کو چھو گئ۔
مگر ایک تخیل میں باپ کی تصویر کشی سے کس جواب کی امید کی جا سکتی ہے؟؟
جس خواہش کے ہاتھ رگ جاں تک پہنچ جائیں وہاں سوائے آخری ہچکی کی کربناک آواز کے علاوہ کچھ نہیں بچتا۔
باپ اور بیٹی کا رشتہ بہت انمول ہوتا ہے۔ سب سے بہادر سب سے نرالا۔
مگر جو تصویر اس کینوس پر نظر آئی اس نے سب کے دلوں کو موم کا کر ڈالا۔
ایک بیٹی جس کی خواہش تھی اس کا باپ اس کی انگلی پکڑ کر چلنا سکھائے اس کی انگلی دنیا والوں کی غلیظ اور مکروہ چال کے ہاتھوں آگئ۔
اور اسی دنیا نے اس کی پیٹھ پر فریب کے اتنے کوڑے برسائے کہ اپنے جھکے کندھوں کے ساتھ وہ دنیا کا مقابلہ نہ کر سکی اور خود ہی اپنے سوالوں میں الجھ کر رہ گئ۔۔ اک آخری بار جو اس کے لبوں نے ذرا سی جنبش کی بھی تو وہیں امر ہو گئ۔۔ کیونکہ اس کے سوال آج بھی زندہ ہیں ہر اس بیٹی کے لبوں پر جس کی پیٹھ پر اس کے باپ کی تھپکی کی بجائے دنیا کے مکرو فریب کے کوڑے پڑتے ہیں۔

اس کے سوال آج بھی زندہ ہیں کینوس پر بنی تصویر کی صورت جس میں ایک چھوٹی بچی “بابا” لکھ کر چوم رہی ہے۔
آخر کب تک ان گڑیاوں کی معصومیت گھٹی گھٹی چیخوں میں اپنا ہی گلا گھونٹتی رہیں گی۔۔۔۔؟؟
آخر کب تک معصومیت صرف تخیل میں اپنا بوجھ بیان کر سکے گی۔۔۔۔؟؟
تھام لو ان کا ہاتھ اس سے پہلے کہ اس گھر کی گڑیا بھی تخیل میں یہ سوال کرنے پر مجبور ہو جائے۔

اور اس سے پہلے کہ وہ تصوراتی دنیا کے شہزادوں کی کہانیوں کے فریب میں الجھ کر اپنا مقام، اپنا وقار کھو بیٹھیں۔


Sharing Is Caring
Recommended For You

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of