،خوابوں کے سمندر میں تیرتی

تصور کی آنکھ سے خوشیاں سمیٹتی

اے پریوں جیسے بالوں والی

حسین سی لڑکی

تو اس خبر سے نا آشنا ہے کہ

دلوں کے اس کھیل میں

دل والے زندگی ہار جاتے ہیں

اپنے ہی پیروں پر کلہاڑیاں مار جاتے ہیں

مقدر سنوارنے کی آس میں

خود کو کانٹوں کی چادر پہ اتار جاتے ہیں

وہ بےخبر ہوتے ہیں کہ عشق کے اس سمندر میں

گہراٸی تو ہے پر سکوت نہیں

یہاں جذبات کی رو میں بہنے والے

منہ کی کھا کر گرتے ہیں

یہاں طوفان اٹھتے ہیں جو ویران کرتے ہیں

شخصیت کے رنگ چھین کر سنسان کرتے ہیں

یہاں وفا کے نام پر شیشہ میں اترتی

عزت کی امنگ میں

عزت دار گھر کی دہلیز پار کرتی

ہوس کی بھینٹ چڑتی

معصوم و مظلوم حوا کی بیٹیاں

پریوں کے دیس کی نازک کلیاں

دلدل کی گہراٸی میں دھنس کر

کسی بے وفا کی جال میں پھنس کر

عصمتیں ہار جاتی ہیں

خود کو جیتے جی مار جاتی ہیں

تم ان بد قسمت حوا کی بیٹیوں کی قسمت

اپنے نام نہ کرنا، خود کو یوں بد نام نہ کرنا

اے پریوں جیسے بالوں والی

حسین سی لڑکی

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
1 Comment
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
Areeba Saleem
1 year ago

کیا خوب لکھا ہے۔