بارش اس کے آنسو چپھانے کی بھرپور کوشش کر رہی تھی. اس پررونق سڑک پر وہ ایسے پھر رہا تھا جیسے تنہا ہو.  آج اسکا ہونق چہرہ ،بکھرے بال ، کھلی آنکھیں کسی کو عجیب نہیں لگ رہے تھے ؟ سب لوگ اپنی ہی دنیا میں گم تھے اور وہ بھی. وہ چلتا جارہا تھا جیسے اسکی کوئی منزل نہ ہو ؛ جہاں سڑک ختم اسکا سفر ختم  .آج اسکی زندگی کا ایک اہم باب بند ہونے والا  تھا اور اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا  کہ وہ کیا کرے؟ اسکی زندگی کا ایک حسین خواب چکنا چور ہونے والا تھا . وہ خواب جس میں اس نے اپنا خوش گوار کل دیکھا تھا

زویا اور حسن کی پیار کی گاڑی کئی سالوں  سے مدھم رفتار سے چل رہی تھی ، اس بات سے وہ بہت پریشان تھا. وہ چاہتا تھا کہ دونوں ایک حقیقی رشتے میں بندھ  جائیں  جس کے لیے زویا بلکل تیار نہیں تھی .زویا نے کہا       ” جہاں تم کھڑے ہو وہاں کیا میں اسکے قریب بھی نہیں ہوں. ابھی تو میں نے کچھ بھی حاصل نہیں کیا….” اس بات پر  حسن  نے  کہا  ” میں کونسا شادی کرنے کا کہہ رہا ہوں، صرف اتنا کہہ رہا ہوں کہ گھر والوں کو اپنے رشتے کے بارے میں بتا دیتے ہیں” اس پر وہ بولی ” نہیں..یہ بات کرنے کی دیر ہوگی میری ماں نے میرے پیچھے پڑ جانا ہے شادی کرلے شادی کرلے …..اور میں ابھی تیار نہیں..اس سوچ کو اپنے ذہن سے نکال دو ورنہ …..مجھے …میں جارہی ہوں. ” ( غصّے کی حالت میں وہاں سے چلی گئی ). حسن  وہیں ساکت کھڑا تھا اور آنکھوں میں آنسو لئے آسمان کو تک رہا  تھا

 دل بےچیں تھا اور دماغ پریشان . ان دونوں کی جنگ میں نیند آنکھوں سے روٹھ گئی تھی اور کہیں دور جا بیٹھی تھی. اسکو ڈھونڈھنا حسن  کے لئے مشکل ہوگیا تھا اس لیے وہ بستر پہ صرف کروٹیں بدل رہا تھا.گزرے لمحے کسی فلم کی طرح اسکی نظروں کے سامنے چل رہے تھے جو اس کی بےچینی میں اضافہ کر رہے تھے. رتجگا کرتے کرتے اسکی آنکھیں تھکن کے مارے بند ہوگئیں اور وہ کچھ دیر کے لیے سوگیا . ابھی دو گھنٹے ہی گزرے ہونگے کہ اسکا الارم بجا اور وہ اٹھ گیا. آنکھیں لال تھیں جیسے ساری رات نشے کی حالت میں گزاری ہو. اس بجھے چہرے کے ساتھ وہ یونیورسٹی چلا گیا ،اسکی شکل دیکھ کر کوئی بھی بتا سکتا تھا کہ اسکو کوئی صدمہ پہنچا  ہے. جس نے اس سے کبھی بات بھی نہ کی ہوگی وہ بھی اسکا حال پوچھنے آرہا تھا

اس نے سوچا کہ زویا  سے بات کرکے سب حل کردیگا . لیکن کاتب تقدیر نے اس کے لیے کچھ اور ہی لکھا  ہوا تھا.زویا اس دن یونیورسٹی نہیں آئی تھی. چار دن بعد انکی یونیورسٹی میں ثقافتی میلہ ہونا تھا تو حسن  نے سوچا کہ اس دن بات کرلیگا .حسن میلے کا شدت سے انتظار کرنے لگا . دوسری طرف زویا کا دل بھی بے چین تھا کیوںکہ  اسکی بھی کئی دنوں سے اس  سے بات نہیں ہوئی تھی. ثقافتی میلہ  شاید سب کے لیے خوشی کا موقع تھا  لیکن ان دونوں کی زندگی میں وہ ایک طوفان لانے والا تھا

          وہ دن آ پہنچا جس کا دونوں کو  بےصبری سے انتظار تھا. دونوں اپنے دل کی بات ایک دوسرے کے سامنے رکھنا چاہتے تھے.محبت دونوں کرنا چاہتے تھے لیکن وقت کا کیا کرتے؟ جو رقیب بن کر ان کی زندگی میں کھڑا تھا . وہ سوچ کے تو بہت کچھ آیا تھا لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ اسکے سامنے وہ سب بھول جاے گا. وہ سیاہ “کرتا شلوار” میں زویا کا انتظار کر رہا تھا.وہ جیسے ہی داخل ہوئی تو اسکے ہوش ہی اڑ گئے. وہ فقط اسے تک رہا تھا اور یہ تمنا  کر رہا تھا کہ وقت یہیں تھم جائے ، ہوا رک جاے ، فضا میں صرف اسکے دل کی دھڑکن سنائی  دے جو کہہ رہی ہو ” اس تھمے وقت میں دل ہی وہ واحد چیز ہے جو دھڑک رہا  ہے کیوںکہ  اس نے صرف تیرے لیے دھڑکنا سیکھا ہے.”  حسن  اس خیال میں مگن تھا اور  زویا آہستہ آہستہ اگے  بڑھ رہی تھی . وہ یہ سوچ ہی رہا تھا  کہ  ایک لڑکا  زویا کے گلے لگ گیا ، اسکے دیر سے انے پہ شکوہ کرنے لگا .اور پھر دونوں  ہاتھ میں ہاتھ ڈالے اس میلے میں پھرنے لگے . یہ سب حسن دور سے دیکھ رہا تھا ، اس کے پیروں تلے زمین ہی نکل گئی  تھی . کچھ دیر سکتے کی حالت میں رہ کر اس نے ہمّت پکڑی اور اسکا سامنا کرنے اس کے پاس چلا گیا  “تم سے کچھ بات کر سکتا ہوں ؟”(زویا نے انیس کو ایک منٹ کا اشارہ کیا اور پھر کچھ قدم کے فاصلے پر چلی گئی  )”کچھ دن پہلے تو تم نے مجھےفیصلہ لینے کا وقت دیا تھا اور اب میرے سامنے ایسے پھر رہی ہو جیسے میرے پاس فیصلہ لینے کا اختیار ہی نہیں تھا .اگر یہ لڑکا پسند تھا تو پہلے بتا دیتیں کیوں چھپایا ؟کب سے چل رہا ہے یہ؟ ” زویا  جو اسکی باتوں کو اب تک نظرانداز کر رہی تھی چلّا کر بولی ” تم خود کو دیکھو اور پھر مجھے ، اتنے سال گزر گئے تم نے کیا حاصل کیا ؟ انیس کو دیکھو یہ جلد فوج میں جانے والا ہے اور اپنے ملک کی خدمت کرے گا اور تم صرف باتیں .اسی لیے  تمھیں چھوڑ دیا. میں پیار بھی اسے ہی کرتی ہوں اور شادی بھی اسی سے کروں  گی            

اس دن کے بعد سے حسن  بدل گیا تھا .اس نے بولنا کم کر دیا تھا . اسکی زندگی میں اتنے دوست تو تھے نہیں کہ غم ہر کسی سے باٹتا پھرتا اور اب اسکی زندگی کا ایک اہم حصہ بھی چلا گیا تھا تو وہ مزید تاریکیوں میں کھو گیا تھا . اس نے ہمت نہیں ہاری تھی. اپنی زندگی کا سب سے حسین خواب وہ اتنی آسانی سے کیسے بھلا سکتا تھا. اس لیے اس نے زویا سے بات کرنا ختم نہیں کی کہ شاید اسکا دل بدل جائے . وہ دونوں دوستوں کی طرح روز ملتے تھے ،باتیں کرتے تھے اور وقت یونہی گزر رہا تھا . وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حسن کی امید کی کرن گہری ہوتی جارہی تھی لیکن زویا  اس حقیقت سے اب تک ناآشنا  تھی کہ دوستی کی نہیں محبت کی عمارت دوبارہ تعمیر ہورہی ہے . زویا کی بہت اچھی سہیلی، مہر، حسن سے بہت جلا کرتی تھی.  وہ ان دونوں کی دوستی کی  دشمن تو تھی ہی اب ان دونوں کو الگ کرنے کی قسم بھی  کھا چکی تھی. چند ماہ بعد “محفل موسیقی ”  کا میلہ سجنا تھا جس میں مہر کو امید تھی کہ زویا انیس کے ساتھ آئےگی جہاں وہ دونوں کو حسن کے خلاف کردے گی

ہفتے کو وہ میلہ سجنا تھا جسکی تیاریاں سب کر رہے تھے. سب کو اس رات کا بےصبری سے انتظار تھا خاص طور پہ مہر کو. حسن کو معلوم تھا کہ زویا انیس کے ساتھ ہوگی اس لیے وہ ہرگز جانا نہیں چاہتا تھا . دوستوں کے بےحد اصرار پہ چلا گیا. شام کا آغاز ہوچکا تھا ، الاؤ ہورہا تھا ، گیت گنگناۓ جارہے تھے . شطرنج کے پیادے بھی موجود تھے اور ملکہ بھی. حسن اپنے دوستوں کے ساتھ  گپ شپ میں مشغول تھا اور وہ تینوں ساتھ گھوم رہے تھے. مہر صحیح موقع  کا انتظار کر رہی تھی اور حسن  ان دونوں کے ساتھ مہر کو دیکھ کر کسی نتیجہ پر پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا . وہ جانتا تھا کہ مہرکوئی نا کوئی چال چل رہی ہوگی ورنہ اسے کسی کی زندگی سے اتنا لگاؤ نہیں تھا.  زویا  کو اس میلے میں اپنی بچپن کی دوست مل گئی تو وہ اس سے باتیں کرنے لگی.مہر کو انیس سے  علیحدگی بات کرنے کا موقع مل گیا .” آپ دونوں ساتھ ہوتے ہیں تو بڑے خوبصورت لگتے ہیں . الله دونوں کو ایسے ہی خوش رکھے . لیکن حسن کو کون سمجھاۓ یہ بات جو اب بھی زویا  سے بات کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ اسے حاصل کرلے گا . اب بھی جب دونوں بات کرتے ہیں تو ایسا  ہی محسوس ہوتا ہے کہ دونوں کے درمیان اب بھی کچھ ہے .”  (زویا کو واپس آتا دیکھ اس نے  اپنی بات کو ادھورا چھوڑ دیا ) “کیا ہوا ؟ میرے آتے ہی چپ ہوگۓ”. دونوں نے ہم آواز ہوکر کہا “نہیں نہیں ایسی بات نہیں ” اور تینوں ہنس پڑے

 کچھ دن تو حالات سازگار رہے . دونوں کی باتیں چل رہیں تھی . زویا  سے نہ تو انیس نے  اور نہ ہی مہر نے حسن کے سلسلے میں کوئی بات کی . ایک دن زویا انیس  سے بات کر رہی تھی کہ اس رات کا قصہ نکل آیا .اس نے مہر سے کی ہوئی بات زویا کو بتا دی . اور اس کو باتوں باتوں میں یہ بھی سمجھا دیا کہ وہ حسن سے بات کرنا چھوڑ دے. زویا  غصّہ تھی  لیکن کس پر؟ اسے  یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ مہر پرغصہ ہے یا پھر حسن پر یا پھر  خود پر. اس وقت اسکے لیے سب رشتوں کو توڑنا ممکن نہیں تھا . اس نے اپنے رشتے کو بچانا تھا اس لیے اس نے ٹھان لیا  کہ وہ حسن سے بالکل بات نہیں کرے گی

حسن نے جب حسب معمول اس سے بات کرنے کی کوشش کی تو زویا  نے اسے ٹرخا دیا . اس کے تلخ رویے کو دیکھ کر وہ  سمجھ گیا تھا کہ مہر اپنی چال چل چکی ہے اور اب اسے اس کا خمیازہ بھگتنا تھا.وہ بھی پیچھے ہٹ گیا جیسے کہ کہہ دیا ہو “جا زویا جا جی لے اپنی زندگی ” . اس کی ہر امید ٹوٹ چکی تھی اور اپنے نام نہاد رفقا کے طنزیہ جملے اسے ناگوار گزرنے  لگے تھے. اس نے تہیہ کرلیا تھا کہ وہ سب سے الگ ہوجاےگا لیکن اسکا ابھی ایک دوست موجود تھا جو اسکی  ہر طرح کی مدد کو تیار رہتا  تھا

 رحمان حسن کا بہت اچھا دوست تھا اور برے وقتوں میں ہمیشہ اسکے ساتھ کھڑا ہوتا تھا . وہ حسن کے دل کی کشمکش سے بخوبی واقف تھا اور جانتا تھا کہ جو اس کے دل کو چوٹ پہنچی تھی اس کے داغ اتنی آسانی سے جانے والے نہیں. حسن سب سے دور جانا چاہتا تھا اور رحمان اسے سب کے قریب لانا چاہتا تھا. رحمان اسے احساس دلانا چاہتا تھا کہ اسکی زندگی ابھی باقی ہے . کسی کے چلے جانے سے زندگی رک نہیں جاتی ہاں سست ضرور ہوجاتی ہے . کیوںکہ  جینے کا نیا بہانہ ڈھونڈھنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے . ہر شخص اپنا وقت لیتا ہے اور یہ بات رحمان سے بہتر کوئی نہیں جانتا تھا جس نے پانچ  سال کی عمر میں اپنی ماں کو کھو دیا تھا

رحمان کے والد عرفان صاحب نے اپنی بیوی کی وفات کے بعد دوسری شادی نہیں کی بلکہ رحمان کو ماں اور باپ دونوں کا پیار دیا. اسکو اچھی تعلیم دلوای تاکہ جو اسکے ساتھ ہوا وہ کسی اور کے ساتھ نہ ہو. خواہ رحمان کی آنکھوں سے وہ  بچپن کے منظر گئے نہیں تھے.کسی کو کھونے کا درد رحمان بخوبی جانتا تھا اور  اسی لیے اس نے حسن کا پیچھا نہیں چھوڑا

رحمان نے سوچا کیوں نا ایک پارٹی رکھی جائے جس میں قریبی دوستوں کو بلایا جائے تو ہوسکتا ہے کہ حسن کا دل بہل جائے. ویسے بھی سیمسٹر ختم ہونے کو تھا ، پرچے قریب تھے اگر حسن کا یہی حال رہتا تو وہ فیل بھی ہوسکتا تھا یہ انکا اخری سیمسٹر تھا اسلیے کوئی خطرہ مول نہیں لیا جاسکتا تھا .حسن کے والدین  نوکری کے سلسلے میں بیرون ملک مقیم تھے .  اس لیے وہ  کراچی میں کرائے کے گھر میں اکیلا رہتا تھا . جس کی وجہ سے  رحمان کو جگہ کا تعین کرنے کے لیے زیادہ سوچنا نہیں پڑا. رحمان نے اپنے  اور حسن کے کچھ قریبی دوستوں کو بتادیا کے پارٹی بروز ہفتہ ہوگی . منصوبہ بندی کچھ اس طرح کی گئی تھی کہ رحمان کسی بہانے سے حسن کو باہر لے کر جائے گا اور پھر وہ وہاں پر تین چار گھنٹے گزار کرآجائیں گے اور اسی دوران ساری تیاریاں مکمل کرنا ہوں گی

منصوبے کے مطابق رحمان صبح گیارہ بجے حسن کے گھر پہنچا اور دروازہ کھٹکھٹانے لگا تو دروازہ کھلا ہوا تھا. وہ  حیران ہوا کہ حسن اتنا غیر زمہ دار تو نہیں تھا کہ دروازہ کھلا رکھے. اس نے اندر جھانکا تو حسن منہمک ہوکر اخبار پڑھ رہا تھا .رحمان نے اسے ہلا یا تو اسے اچانک دیکھ کہ وہ چونک گیا. “تم کب آے ؟”  اس سوال پہ رحمان نے کہا  ” جب تم اپنے گھر کو لٹوانے کے لیے تیار بیٹھے تھے .” (حسن بات کو سمجھنے کی کوشش کر ہی رہا تھا کہ رحمان  نے اگلا سوال کیا  )  ” یہ بتاؤ تم نے گھر کیوں کھلا چھوڑا ہے؟ کوئی چور گھس گیا تو؟ ” حسن بات کو سمجھتے ہوئے بولا” میرے گھر میں لٹنے کے لیے ایسا ہے ہی کیا جو کوئی چرا لے .میری ناکامیوں اور تنہائیوں کے علاوہ ”  رحمان نے  بڑے فخر سے اپنی طرف اشارہ کرکے کہا ” میں..میں ہوں نہ تمہاری زندگی میں لیکن اب تمھیں باہر جانا ہوگا. ..بڑی اچھی فلم لگی ہے سنیما  میں .چل دیکھنے چلتے ہیں.” حسن جو اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا بولا ” یار قسم سے میرا دل نہیں ہے بہت تھکا ہوا ہوں ”  رحمان جو بضد تھا کہ لے کرہی  جاے گا صوفے پر چھلانگ مار کر لیٹ گیا ” چل چل بہانے نہ کر تجھے لے جائے بغیر میں کہیں نہیں جانے والا ”    حسن ہنستے ہوئے تیار ہونے چلا گیا اور ادھر ہی رحمان نے سب دوستوں کو بتا دیا کہ وہ  نکلنے لگے ہیں تو تیار رہیں . رحمان اور حسن فلم دیکھنے ایک قریبی سنیما میں چلے گئے اور انکے پیچھے سارے دوست آگئے  جنہوں نے  گھر سجا دیا . تین چار گھنٹےبعد وہ گھر لوٹ آے . حسن نے ابھی بلب جلانے کے لیے بٹن دبایا ہی تھا  کے سب نے چلانا شروع کردیا “سرپرایز ” . یہ سب دیکھ کر  وہ  حیران  رہ گیا کہ اتنے لوگ اسکا حوصلہ بڑھانے اسکے گھر آے ہوئے تھے . اسکی نم آنکھیں اسکی خوشیوں کی عکاس تھیں .اس نے زور سے رحمان کو گلے لگا لیا . ایک عرصے بعد رحمان نے حسن کے چہرے پر اتنی  خوشی دیکھی تھی

حسن نے مکمل طور پر   زویا کو بھلایا تو نہ تھا لیکن اب پہلی جیسی بے قراری  بھی نہیں تھی. حسن کو زندگی جینے کے نئے بہانے مل گئے تھے. اسے معلوم ہوگیا تھا کہ اسکی زندگی میں اسکے قریبی لوگ کون تھے. پرچے قریب تھے اور حسن کی تمام توجہ پڑھائی کی طرف تھی . سیمسٹر ختم ہوا تو اسکے ساتھ ہی بیتی ہوئی تلخ یادیں بھی دفن ہوگئیں . جو چلا گیا اسے بھول گیا اور جو ساتھ تھا اسے پلکوں پہ بیٹھا لیا.رشتے عارضی ہوتے ہیں اس حقیقت کو وہ جان گیا  تھا .اسے نہیں پتا تھا کہ زندگی میں اگے کیا ہونا تھا لیکن اسے اتنا یقین تھا کہ خدا نے رحمان کے روپ میں اسے ایک مسیحا دے دیا ہے

دو سال کیسے  بیت گۓ پتہ ہی نا چلا.دونوں دوستوں کو اچھی نوکری مل گئی تھی .عرفان صاحب کی وفات کے بعد رحمان بالکل تنہا ہوگیا تھا .اکیلا گھر اسے کاٹنے کو دوڑتا تھا . جس کی وجہ سے دونوں دوستوں  نے مل کر ایک اچھا بڑا مکان کرائے پر  لے لیا تھا .دونوں ماہوار اچھا کما رہے تھے.قصہ مختصر دونوں کی زندگی کی گاڑی سبک رفتاری سے چل رہی تھی

 گرمیوں کے دن تھے حسن اپنے گھر میں بیٹھا تھا کہ رحمان نے اسے آواز دی ” ادھر آو ذرا ” . بدلے میں جب کوئی جواب نہ ملا تو وہ خود ہی حسن کے پاس چلا گیا . ” ہاں بھائی کیا سوچ رہے ہو ؟ “حسن بولا “یار بس یہی سوچ رہا تھا وقت کتنا ظالم ہے . جب کچھ دیتا ہے تو بدلے میں کچھ لے بھی لیتا ہے . دوستی کی قدر جانی تو زویا کو مجھ سے چھین لیا . زندگی میں کبھی کیوں ہمیں اپنی من پسند چیزوں کی قربانی دینا پڑتی ہے ” اس بات نے رحمان کے پرانے زخموں کو تازہ کردیا تھا . اس وقت تو رحمان نے اپنے جذبات کو سنبھال لیا اور بولا ” اچھا یعنی تو مجھے اپنا دوست نہیں مانتا ؟ اتنی سی  دیر میں پرایا کر دیا مجھے.”  اس پر   حسن نے  کہا ” تجھ سے تو بس ڈرامے کروالو ..تم کبھی  سنجیدہ نہ ہونا .” باتوں کا سلسلہ یونہی بڑھتا گیا .اور وہ  یونیورسٹی کے دنوں پہ پہنچ گیا . رحمان نے کہا ” یار کتنے سال ہو گئے اپنے دوستوں سے ملے نہیں کیوں نا ایک پارٹی رکھ لی جائے ” اس پہ حسن نے کہا ” ٹھیک ہے “.دونوں نے دوستوں کو فون پر مدعوکردیا

پارٹی شام چھ بجے شروع ہونی تھی . دونوں نے تیاری پانچ ساڑھے پانچ بجے تک ختم کرلی  . مہمانوں کی آمد پونے چھ بجے سے ہی شروع ہوگئی تھی . جب بیٹھک لگی تو کئی پرانی باتیں نکلیں .”یاد ہے ؟ کیسے کلاسوں سے نکل کر کینٹین جاکے بیٹھ جایا کرتے تھے . اور پھر کلاس میں ایک لڑکے کو ہر منٹ بعد تنگ کرتے تھے کہ حاضری لگے تو بتا دینا . اور اگر وہ بتانے میں ذرا سی بھی دیر کردیتا  تو سب اس کو مل کے مارتے تھے(اس بات پہ پوری محفل قہقہوں سے گونج  اٹھی ). کلاس چھوڑنے سے پہلے سارا حساب کرتے تھے کہ کونسی کلاس چھوڑیں اور کتنی چھوڑی جاسکتی ہیں.مہینے کے آخر میں  ایک گلاس میں دو دو لوگ چائے پیا کرتے تھے کے پیسے بچا سکیں. کسی پہ کوئی مصیبت آجاتی تو کسی چیز کی پرواہ کیے بغیر جان بھی حاضر کردیا کرتے تھے . کسی ٹیسٹ کے دوران اگر کوئی موجود نہ ہوتا تو اسکا ٹیسٹ بھی خود لکھ کر دے دیا کرتے تھے” اس پہ ایک دوست بولا ” اگر آتا ہوتا تو… ” ( اس بات پہ بھی لوگ خوب ہنسے )  ایک نے لقمہ  دیا ”  یاد ہے؟ ایک دوسرے کو استاد کہہ کر بلاتے تھے اور کوئی دو بجے سے پہلے سونے کی کوشش کرتا تھا تو اسکی نیندیں حرام کر دیتے تھے. ” جمشید جو رحمان کے ساتھ بیٹھا تھا بولا ” اپنا نہیں یاد تجھے کہ جب بھی تو گیم کھیلتا تھا کتنی اونچی اونچی گا لیاں دیتا  تھا . کیا سوچ رہا ہوتا تھا کہ گالیاں اسکے گھر تک پہنچاے گا . ایک بار تو برابر والے بھی اکر  بولنا شروع ہوگئے تھے کہ اپنے الطاف بھائی کو چپ کرائیں .” یونہی قصّے  سے قصّہ نکلتا گیا اور شام کب رات میں بدل گئی پتا ہی نہیں چلا . سب نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا اور اپنے گھروں کو روانہ ہوگئ.

حسن نے رحمان سے پوچھا ” تو بتا تو ہر وقت ہستا رہتا ہے تجھے کبھی کسی کے جانے کا دکھ نہیں ہوا ؟ ”  اس سوال پہ رحمان کی چہرے پہ ایک چھوٹی سی ہنسی نمودار ہوئی  ” تجھے پتا ہے میں نے اپنی سب سے اچھی دوست کو ٥ سال کی عمر میں ہی  کھو دیا تھا . وہ  میری ہر بات سنتی تھی اور میرے ساتھ کھیلتی بھی تھی ” حسن نے پوچھا  ” کون تھی وہ ؟ ” تو رحمان نے جواب دیا ” وہ! وہ میری ماں تھی ” یہ سننے کی دیر تھی کہ حسن کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں. دونوں دوستوں کا درد ایک تھا لیکن شدت میں  بہت فرق تھا

رشتے کی ڈور مضبوط ہوتو کئی بل پڑنے کے بعد بھی وہ ٹوٹتی نہیں ہے . رحمان جس کمپنی میں نوکری کر رہا تھا وہاں ملازمت کے لیے کچھ جگہیں خالی تھیں . وہاں جن لوگوں کو ملازمت ملی ان میں زویا کا نام بھی شامل تھا . اس بات سے رحمان نا آشنا تھا کیوںکہ لوگوں کو رکھنے کی زمہ داری اسکی  نہیں تھی.لیکن خدا تو رحمان اور حسن کی دوستی کا امتحان لینا چاہتا  تھا

نئے ملازمین کو کام سکھانے کی زمہ داری رحمان کی تھی . زویا کا پہلا دن تھا اور وہ  بڑے  جوش و خروش سے کمرے میں داخل ہوئی  تو رحمان کو دیکھ کر دنگ رہ گئی. رحمان بھی اسے دیکھ کر سن ہوگیا تھا کیوںکہ اسے آنے والے طوفان سے پہلے کی خاموشی سنائی دے گئی تھی . رحمان نے ایسا ہی برتاؤ رکھا جیسے وہ اس سے پہلی دفعہ  ملا ہو . جب سب جانے لگے تو زویا رحمان کے پاس آئی اور اس نے کہا ” جو میں نے کیا اسکے لیے کوئی معافی نہیں ہے .  میں نے پہلے ہی اسے بہت دکھ پہنچایا ہے اور نہیں پہنچانا چاہتی .اس لیے حسن کو میرے بارے میں کچھ نہیں بتانا ” اس پہ رحمان نے کہا  ” مجھے اپنے بھائی کا خیال رکھنا آتا ہے . جب ایک شخص اسے تنہا چھوڑ کے چلا گیا تھا تو میں نے ہی اسے سنبھالا تھا

 رحمان نے حسن کو کچھ نہیں بتایا کہ اسکی زویا سے ملاقات ہوئی تھی . وہ جانتا تھا زویا حسن کے ماضی کا وہ پنا تھی جس کو وہ کبھی پڑھنا نہیں چاہتا تھا لیکن یہ بات بھی سچ تھی کہ وہ اس پنے کو بھولا بھی نہیں تھا. دونوں کھانے کے میز پر بیٹھے تھے تو حسن نے ایسے ہی قصّہ چھیڑ دیا ” ہاں استاد ! وہ  جو نئے بندے تم لوگوں  نے رکھنے تھے وہ  رکھ لئے کیا ؟  یا ابھی بھرتیاں جاری ہیں؟  وہ زویا ن …” ابھی حسن جملہ مکمل کر ہی رہا ہوتا ہے کہ رحمان بول پڑا  “زویا کیا ؟” حسن نے  ہستے ہوئے کہا  ” بتا تو رہا تھا تو نے ہی بات کاٹ دی . زویا نے  اسی طرح کی کچھ تعلیم حاصل کی تھی جس طرح کی تمہاری کمپنی کو ضرورت تھی…” رحمان جو تفتیشی لہجہ پکڑ رہا تھا ” تو اس نے تمھیں بولا ہے مجھ سے بات کرنے کے لیے ؟ ” اس پہ حسن بولا ” نہیں.. وہ تو ایسے ہی میرے ذہن میں خیال آیا ،میری تو اس سے اس واقعے کے بعد سے بات نہیں ہوئی.لیکن تمھیں کیا ہوا ہے ؟ زویا کی بات پر  تم اتنا ہڑبڑا کیوں گئے  ؟” رحمان نے بات کو ٹالتے ہوا کہا ” نہیں یار بس تیرے منہ سے اتنے سالوں بعد نام سنا تو بڑی حیرانی ہوئی بس اس لیے .اور کوئی بات نہیں

رحمان ابھی بستر پر لیٹآ  ہوا تھا ،نیند اسکی انکھوں سے کوسوں دور تھی. وہ بےچینی سے کروٹیں بدل رہا تھا . اسکو ایک ہی فکر ستاے جارہی تھی کہ اگر حسن کو زویا والی بات کسی اور طرح پتا چلی تو وہ بہت ناراض ہوگا . ایک ہی  تو رشتہ تھا جس پہ وہ آنکھ موند کے بھورسہ کرتا تھا وہ بھی اگر اسے دھوکا دے دے تو وہ رشتوں پہ بھروسہ کرنا ہی چھوڑ دے گا. اس نے فیصلہ کیا کہ وہ صبح اٹھ کے سب سے پہلے حسن کو سچ بتا دے گا. ” حسن! یار تجھ سے ایک بات کرنی ہے .سمجھ نہیں آرہا  کیسے کروں. کل تونے مجھ سے بھرتیوں کی بات کی تو میں نے تجھ سے ایک بات چھپائی . زویا کو میری کمپنی میں نوکری مل گئی ہے. تو اسکو پھر سے یاد نہ کرے اسلیے تجھے بتایا نہیں .”  حسن  نے غصّے سے  کہا ”  تو نے مجھ سے بات چھپائی ،اپنے سب سے اچھے دوست سے. مجھے تیری نیت پہ کل رات ہی شک ہوگیا تھا جب تو زویا کا نام سن کر ہڑبڑایا  تھا ..” رحمان لرزتی آواز میں بولا ” یار .. ایسے نہ بول مجھے بس تیری فکر تھی اور کچھ نہیں ” حسن بولا “کتنا جھوٹ اور بولا گے یہ  جھوٹی محبت دکھانا بند کر اور میری نظروں کے سامنے سے چلا جا ”  رحمان بھرائ  ہوئی آواز میں بول رہا تھا “نہیں میری با..” (رحمان کی آنکھ کھل گئی تھی  اور اس نے جب خود کو کمرے میں دیکھا تو سکھ کا سانس لیا اور اپنی پیشانی سے پسینہ صاف کیا ) ” میں حسن کو ابھی  کچھ نہیں بتاؤں گا . صحیح وقت انے پر حقیقت خود اس کے سامنے آجاے گی

زویا کو کام کرتے ہوئے  ڈیڑھ مہینہ  گزر گیا  تھا  .لیکن حسن کو ابھی تک کچھ نہیں پتا چلا تھا اور یہی رحمان چاہتا تھا. زویا بھی اپنے کام سے کام رکھتی تھی اس لیے رحمان کو اس سے بھی  کوئی پریشانی نہیں تھی . ایک دن جلدبازی میں رحمان اپنا موبائل گھر چھوڑ گیا ، اتفاق سے  اس دن حسن نے دفتر سے چھٹی لی ہوئی تھی تو وہ  گھر پر ہی تھا.   اس نے دیکھا کہ رحمان کا موبائل گھر پہ ہے تو وہ اسے دینے اسکے دفتر چلا گیا . وہ سیدھا اسکے کیبن میں چلا گیا . اسے اچانک دیکھ کر رحمان کی ایسی حالت ہوگئی مانو سانپ سونگھ گیا ہو . ” کتنا کام کرتا ہے میرا بھائی ! اپنا ہوش نہیں …. شادی کرلے میں تیرا اب اتنا خیال نہیں رکھ سکتا ..” ( رحمان  نے ایک جھوٹی  سی ہنسی ہسی  اور آنے کی وجہ دریافت کی ) “تو اپنا موبائل بھول گیا تھا وہ دینے آیا تھا لیکن تجھے تو میرا آنا پسند ہی نہیں .تو میں چلتا ہوں ”  رحمان ابھی کچھ سوچ ہی رہا تھا کہ حسن نے کہا ” چل چائے پلا دے تیرا زیادہ خرچہ نہیں کراتا” یونہی بات چیت چل رہی  تھی   اور رحمان دعا گو تھا کہ زویا نہ آے. حسن نے چائے پی اور اٹھ کے  جانے لگا . ابھی پیچھے مڑا ہی تھا کہ زویا نے دروازہ کھولا ” سوری سر ! مجھے آنے میں دیر ہوگئی .” حسن اور زویا ایک دوسرے کے رو برو کھڑے تھے  اور ماحول میں خاموشی تھی  . حسن نے  خاموشی کو توڑا اور کہا ” چلو میں نکلتا ہوں ” . زویا اور رحمان کی نظریں حسن کی طرف تھیں جو غصّے کی حالت میں وہاں سے چلا گیا

رحمان نے زویا کو جانے کا اشارہ کیا اور سر پکڑ کر اپنی کرسی پر بیٹھ گیا . ” جانے وہ  میرے بارے میں کیا سوچ رہا ہوگا. ”  وہ اپنی  اور حسن کی دوستی پر آنچ نہیں آنے دے سکتا تھا . وہ اپنی قسمت سے ناراض تھا لیکن غصّہ تو وہ کسی کمزور پر ہی نکال سکتا تھا تو وہ آگ بگولا ہوکر زویا کے پاس چلا گیا . ” جو کرنے آییں تھیں کرلیا ؟ مل گئی خوشی ؟ ڈال دی پھوٹ ؟ اوہ ! میں تو بھول ہی گیا تمھیں آتا ہی کیا ہے ، لوگوں کا دل توڑنا اور پھوٹ ڈالنا ”  . زویا جو یہ سب کچھ سن رہی تھی بولی ” جناب جاتے کدھر ہیں؟  کچھ میری بھی سنتے جایئں . اپ نے صحیح کہا مجھے آتا ہی کیا ہے لوگوں کا دل توڑنا یا پھر پھوٹ ڈالنا . ارے ہاں میں تو اپنا گھر بھی جوڑ کر نہیں رکھ پائی .ہاں میں نے کئیوں کے دل توڑ دیے .”  (رحمان  جو ابھی غصے کی حالت میں بیٹھا ہوا تھا یہ بات سن کر زویا کی طرف متوجہ ہوا  ) ” کہنا کیا چاہتی ہو ؟” زویا نے بات کو اگے بڑھایا ” میں نے یونیورسٹی سے نکلنے کے بعد انیس سے شادی کرلی تھی . میرے والدین نے میری شادی بڑی دھوم دھام سے کی تھی . سب خوش تھے پر نہ جانے میری خوشیوں کو کسی کی نظر لگ گئی . کشمیر کی چھاؤنی پہ بھارتی فوج نے گولہ باری کی جس میں انیس شہید ہوگئے. کیا گزری ہوگی میرے اوپر کہ میرا شوہر شادی کے ایک ماہ بعد ہی انتقال کر گیا . لوگوں کی باتیں کیا کچھ نہیں سنا میں نے . لوگوں کو کیا فرق پڑتا ہے میں کیا سوچتی ہوں ..ہاں میں بہت بری ہاں ہوں میں بری ….”  رحمان  کو اپنی غلطی کا احساس ہورہا تھا بولا ” لیکن یہ نوکری کیوں؟ دوسری شادی نہیں کی ؟”  زویا بولی ” میرے ساس سسر نے میری شادی کرانے کی کوشش کی تو آدھے لوگوں نے بیوہ ،تو آدھوں نے منحوس کہہ کے ٹھکرا دیا . بدنامی سے بچنے کے لیے مجھے گھر سے بے دخل کر دیا  گیا . اپنے گھر آی تو پتا چلا ابو کی طبیعت خراب رہنے لگی ہے اور دواییاں اتنی مہنگی ہیں کہ پنشن سے گزارا ممکن نہیں . ”  رحمان جو زویا کے درد کو اب محسوس کر رہا تھا ” تم نے حسن سے بات کیوں نہیں کی ؟ اسکو سب کچھ کیوں نہیں بتایا ؟ کوئی اور رشتہ ہو نہ ہو دوستی کا تو تھا . ” زویا نم آنکھوں اور بھرائ ہوئی  آواز کے ساتھ بولی ” کس منہ سے کہتی مدد کی ضرورت ہے . میں تو اسے تنہا چھوڑ کر آگئی تھی . میں تو اپنے گناہوں کی سزا کاٹ رہی تھی ” رحمان نے کہا ” اور وہ  اپنے

“اگے کا کیا سوچا ہے ؟” اس سوال پہ زویا بولی “اگے بس یہ نوکری جاری رکھوں  گی اگر تم نے رہنے دیا تو ”  ( اس پہ دونوں مسکراۓ ) ” میرے کہنے کا مطلب ہے شادی وغیرہ کا کیا سوچا ہے ” زویا بولی ” کون کریگا مجھ سے شادی ؟” رحمان بولا ” میری نظر میں ایک لڑکا ہے ویسے . تم کہو تو بات کروں ؟”  زویا اشارہ سمجھ گئی تھی بولی ” وہی مسٹر میں چلتا ہوں سے بات کروگے ؟ تو پھر سوچنا پڑے گا ” ( ایک ققہہ بلند ہوا ) ” یہ ان کہی محبت ہے ایسے ہی جتائی جائے گی ” 

رحمان شام کو جب گھر پہنچا تو بہت تھکا ہوا تھا . اس نے حسن کو آواز دی تو وہ خوش گوار موڈ میں باورچی خانے سے باہر   نکلا اور رحمان کو خوشامدید کیا. رحمان نے اسکے ماتھے پہ  ہاتھ رکھا اور پوچھا ” جناب سب خیریت  تو ہے؟ کوئی بخار تو نہیں ہے ؟ تمھیں مجھ پر غصّہ نہیں آرہا ” . حسن بولا ” سچ بتاؤں تو جب میں نے زویا کو دیکھا تو مجھے بہت غصّہ آیا .لیکن تیرے آفس سے نکلنے کے بعد مجھے ایک فقیر ملا.جس نے ایک ایسی دعا دی کہ میں پگھل گیا .  اس نے کہا خدا کے نام پہ کچھ  دے دے بابا  الله تجھے ایسا ساتھی دے جو خود سے زیادہ تجھے پیار کرے اور میرے دماغ میں سب سے پہلے تو آیا. ”   دونوں نے ایک دوسرے کو ایسے گلے لگا لیا جیسے برسوں بعد ملے تھے . “پھر تونے زویا کے بارے میں کیا سوچا ؟” حسن بولا ” کچھ بھی نہیں زویا وہ  پنا ہے جو میری کتاب سے پھٹ چکا ہے. ” رحمان  نے یہ بات سن کر زویا کی تمام کہانی حسن کو بتائی تو وہ خاموش ہوگیا اور اپنے کمرے میں چلا گیا. رحمان سمجھ گیا تھا محبت جو سو گئی تھی اسے جگانا پڑے گا

اسے معلوم تھا محبت کی  نہیں جاتی ہوجاتی ہے .اگر دونوں کو بتا کر کچھ کرتا تو سچے جذبات جو ایک دوسرے کے لیے تھے وہ عیاں نہ ہو پاتے . اس لیے اس نے سوچا کہ وہ حسن کو اور زویا کو خریداری کے غرض سے شا پنگ مال لے  جائے گا لیکن الگ الگ تاکہ شک نہ ہو. ہفتے کا دن تھا اس نے زویا سے یہ بہانہ کیا کہ آفس میں پارٹی ہے تو اسکے لیے کپڑے خرید لے. وہ تیار نہیں تھی لیکن جب رحمان نے نئی دوستی کی قسمیں دیں تو وہ مان  گئی . اپنے ساتھ وہ حسن کو لے گیا . سب کچھ ایسے ہورہا تھا کہ  جیسے خدا بھی اس منصوبے کا ساتھ دے رہا ہو . دونوں بیک وقت پہنچے تو حسن کو شک ضرور ہوا لیکن یقین کرنے کے لیے ثبوت کم پڑ رہے تھے .”اسلام علیکم !” اس پر حسن نے لا ؤبالی انداز میں  کہا ” وعلیکم سلام ”  .رحمان نے اصرار کیا کہ ساتھ خریداری کی جائے .اس سے وقت بچے گا. دونوں کی نوک جھونک یونہی چل رہی تھی ، رحمان کو ایک سوٹ پسند آتا تو حسن کوئی اور رنگ کہتا تو زویا اس سے مختلف بات کرتی . یہ تکرار دیکھ کر رحمان کو معلوم ہوگیا تھا کہ چنگاری دونوں کے درمیان موجود ہے بس سلگانے کی دیر ہے

 وہ ایک مہینہ رحمان کے لیے وبال جان بن گیا تھا . کہنے کو تو دونوں بڑے تھے لیکن بچپنا دونوں میں کوٹ کوٹ کر بھرا تھا . رحمان کے پاس بس ایک ہی ترکیب بچی تھی جو کافی پرانی مگر فائدے مند تھی . رحمان نے ایک ہفتے کی چھٹی لی اور گھومنے لا ہور چلا گیا .حسن کو کام بہت تھا اسلیے جا نہیں پایا. ابھی دو تین دن ہی گزرے تھے کہ رحمان نے زویا کو فون کیا اور حسن کو بیمار بتایا . رحمان نے اسے بتایا کہ  ” اسے  سخت بخار ہے اور ڈاکٹر کے پاس لے جانے والا کوئی نہیں ہے .کھانا بھی اسکو بنانا نہیں آتا ، بس ایک دو چیزیں بنا لیتا ہے . اسکی حالت بہت خراب ہے

زویا  نے جب حسن کی یہ حالت سنی تو وہ سب کچھ بھول گئی اور بھاگی بھاگی حسن کے گھر چلی گئی لیکن دروازے پہ تالا لگا ہوا تھا .وہ  مزید پریشان  ہو گئی کہ ایسی حالت میں حسن کہاں چلا گیا. ابھی وہ یہ سب کچھ سوچ  ہی رہی تھی کہ حسن سیٹی بجاتا ہوا گاڑی میں آیا تو غصّے اور گھبراہٹ کے اثرات زویا کے چہرے پہ دیکھ کے پریشان ہوگیا. ” کیا ہوا تمھیں ” زویا بولی ” میری چھوڑو تم بتاؤ کہ تمہاری طبیعت کیسی ہے ؟ تم باہر  نکلے کیوں؟ کچھ ہوجاتا تو ؟ ”  ” ارے رکو رکو اتنے سوال .. پہلی بات مجھے کیا ہونا ہے میری طبیعت با لکل ٹھیک ہے .”  زویا ابھی بھی پریشان  تھی بولی ” رحمان نے کال کی تھی کہ تم…(حسن کو ہستا دیکھ کر سمجھ جاتی ہے ) ..بیمار نہیں ہو اور میرا الو کاٹا گیا ہے .” حسن نے ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا ” جی  ہاں ”  .اس پہ دونوں بہت زور سے  ہنسے . انہیں اپنی اپنی غلطی کا احساس ہوگیا تھا  . ” اب تو کرلو گی نا شادی مجھ سے  شادی یا ابھی بھی تمھیں  یہی گمان ہے کہ میں کچھ نہیں کرتا ” زویا بولی ” سوچوں گی ” . رحمان کے واپس آنے کے بعد رشتہ بھجوایا گیا .زویا کہ گھروالوں کے چہرے پہ جو خوشی تھی وہ دیکھنے والی تھی . رحمان کی کاوشوں کو بہت سراہا  گیا . یوں کہہ لیجیے رحمان ان دونوں کی محبت کا اہم باب بن چکا تھا

شادی کی تاریخ طے پا گئی تھی. شادی کی تیاریاں عروج پہ تھیں.  سب بہت خوش تھے. حسن کی طرف سے شادی کی تمام زمیداری رحمان  نے اٹھائی ہوئی تھی . رحمان اپنی ہونے والی بھابھی کو شاپنگ کروانے بازار لے کر گیا ہوا تھا . وہ  لوگ واپس آ ہی رہے تھے کہ ایک تیز رفتار  ٹرالے نے انکی گاڑی کو ٹکر مار دی اور انکی گاڑی اچھلتی ہوئی فٹ پاتھ پہ جاکے لگی. جیسے ہی گاڑی زمین پہ لگی تو اس نے  آگ  پکڑ لی اور ایک دھماکے میں پوری گاڑی کے پرخچے اڑ گئے

حسن نے  دفتر سے واپس انے کے بعد ٹی –وی چلایا تو خبر چل رہی تھی کہ “ایک حادثے میں ایک شخص اور خاتون ہلاک ہوگئے ہیں ” . اسکے چند لمحوں بعد ہی حسن کو کال آیی کہ “انکی گاڑی کا دردناک حادثہ ہوا ہے تو لاش کے حصول کے لیے ہسپتال تشریف لے آئیں”  . حسن کے پیروں تلے زمین ہی نکل گئی تھی اور وہ نیچے گر گیا . سب رشتےدار اسکو دیکھ کے گھبرا گئے اور پوچھنے لگے کے “کیا ہوا ؟ کیا ہوا ؟”  حسن کپکپاتی آواز میں بول رہا تھا ” وہ  چلی گئی مجھے چھوڑ کہ چلی گئی…وہ چلا گیا مجھے اکیلا چھوڑ کے مجھے تنہا کر گۓ ، میں کیسے جیوں گا کیسے جیوں  گا ؟”  ٹی–وی   پہ خبریں دیکھیں تو گھر میں ماتم کا ما حول بن گیا . کچھ رشتےدار جب ہسپتال  گۓ  تو ان دونوں کی میتیں  انکے حوالے کردی گیئں . جب انکو دفنایا گیا تو حسن کی  زندگی  کہ پنے اسکے آنکھوں کے سامنے پلٹ رہے تھے اور وہ  صرف انہیں دیکھ رہا تھا محسوس کر رہا تھا .اسے دنیا کی حقیقت جھوٹ لگنے لگی تھی

وقت کے ساتھ ساتھ اسکا زخم بھر تو گیا تھا لیکن ہر موقع پہ وہ دونوں اسے بہت یاد آتے تھے . اپنے خوابوں کو پورا ہوتا دیکھتا تھا تو انکی کمی بہت کھلتی تھی کیوںکہ اسے کندھے پہ  اٹھانے والا دوست اور سراہنے والی دوست اسکے ساتھ نہیں تھے. وہ انکی قبر پر ہر ہفتے جاتا تھا اور انکے لئے دعا کرتا تھا . وہ  سمجھ گیا  تھا زندگی میں انسان کو سب کچھ نہیں مل پاتا . محبت مل بھی جاتی ہے تو اظہار ہو نہیں پاتا . محبت ان کہی بھی ہوتی ہے اور کہی  ہوئی بھی بس سننے کے لیے کبھی وہ شخص موجود نہیں ہوتا یا کبھی موقع نہیں ہوتا

4.3 6 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
10 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
Noor Fatima
1 month ago

I can’t emphasize enough on the fact how beautifully this piece is written! Writing this comment with teary eyes! Kudos to the writer. Beautifully penned

Muhammad Haseeb Khan
1 month ago

بہت ہی بہترین اور خوبصورت افسانہ۔ اس تصوری کہانی کو ایسے خوبصورت رنگ دئیے ہیں کہ یہ حقیقت پر مبنی محسوس ہوتی ہے۔ شروع سے اختتام تک کوئ ایسا موقع نہیں تھا کہ اس میں دلچسپی کم ہوئ ہو۔ اللہ آپ کو ایسی مزید کاوشوں کی توفیق دے۔ امین

Zil e Rehman
1 month ago

A perfectly well written and beautifully articulated script. The most admirable aspects is the way the script unfolds. The content speaks volume about the writters skill and his grip over the language, a trait thats rare find among the young writter now a days.

Saba Kalsoom
1 month ago

Amazingly written article. Kudos to the writer for penning down the scenes so well for readers to read yet feel to be a part. Great to see how times have been changing taking the reader along.

Adil Akhtar Ali Khan
1 month ago

This level of maturity and writing, I must say writer has some serious vision. I got chills after reading this beautiful master piece. I hope to read some new incredible stuff ahead.
very much appreciation.