(ایک  بیٹی کا والدہ کے نام خط)

جان سے پیاری اماں  سلام ارض کرتی ہوں۔

امید ہے کہ تم خیریت سے ہوگی؛ اباّ کیسے ہیں؟ بھائی بھی ٹھیک ہے؟ لگتا ہے بہت مصروف ہے، پہلے کبھی کبھار یاد کرتا تھا، شاید کام  کا بو جھ بہت ذیادہ ہوگیا ہے میرے جانے کہ بعد۔   میں بھی بھلی  ہوں؛ خط کا جواب دیر سے لکھ رہی ہوں معاف کرنا۔ تم سوچتی ہوگی مجھے وقت نہیں ملتا اسلئے  جواب بہت دیر سے دیتی ہوں، پر اماّں وقت بہت ہوتا ہے الفاظ نہیں ہوتے؛ انکو اکٹھا کرنے میں لگی رہتی ہوں اور ہفتوں گزر جاتے ہیں۔ تم کہا کرتی تھی کہ میں بہت باتونی ہوں جہاں بھی جاؤں سب کو بلوا لیتی ہوں؛ غلط کہتی تھی تم اماّں، شایدتم سب میرا من رکھنے کو میری ہر بات کا جواب دیتے رہتے تھے۔ مگر ہر کوئی ایسا تھوڑا ہوتا ہے۔ دوا وقت پر لیتی ہو؟  بھاوج بتا رہی تھی کے   کبھی کبھار بھول جاتی ہو؛ نہ بھولا کرو اب  تھوڑا  میں وہاں ہوں جو رات کو جگا کر بھی دوائی کھلا ؤنگی۔  ابّا تو میرے بغیر دوا کھاتے ہی نہیں تھے؛ جب تک میں ہاتھ میں دوا اور پانی لے کر نہیں کھڑی رہتی تھی؛  لیتے ہی نہیں تھے۔ اب کون دیتا ہے انکو دوا؟ میں بھی پچھلے ہفتے ذرا بیمار پڑھ گئی تھی؛  بخار کی شدت میں ایسی بےہوشی ہوئی کہ پیاس لگی تو کتنی دیر تمہیں اور ابّا کو آوازیں دیتی رہی؛ کچھ دیر بعد یاد آیا اب تم کہاں سے آؤگی؛ پریشان مت ہونا اب ٹھک ہوں اور ابّا کو تو ہرگز نہ بتانا ، یاد ہے نہ ساری ساری رات جاگ کر گزار دیتے تھے جب مجھے بخار ہوتا تھا۔   اب احساس ہوا کہ بخار ہو تو بس ابّا ہی جاگا کرتے ہیں۔ 

اس دن عید مبارک ہو سی جس دن فیر ملانگے

خیر میری چھوڑو اپنی سناؤ؛ پچھلے خط میں لکھا تھا کہ ہمسایوں کے بیٹے کی شادی ہے۔ کونسا جوڑا پہنا تھا؟ مجھے تصویر ہی نہ بھیجی میں کہتی ہی رہی؛ گھڑی بھی پہنی تھی نہ؟ وہ اچھی لگتی ہے تمہاری کلائی پر۔ یاد ہے تم سے ہمیشہ اسکا لاک بند نہیں ہوتا تھا تو میں بند کرتی تھی؛ اپنی گھڑی پہنتی ہوں تو تمہیں یاد کرتی ہوں۔ خیر یاد تو تم سب ویسے بھی  بہت آتے ہو؛  اور سناؤ سارا دن کیا کرتی ہو؟  ۔ میرا پوچھا تھا خط میں تم نے کہ میں سارا دن کیا کرتی ہوں؛ صبح اٹھ کر نماز پڑھتی ہوں تلاوت کرتی ہوں؛ ابّا کو بتانا انہوں نے رخصت کرتے جو نصیحت کی تھی کہ نماز اور قرآن کو کبھی نہ چھوڑنا  یاد رکھتی ہوں۔ پھر اسکے بعد صفائی کرتی ہوں؛ کھانا پکاتی ہوں اور باقی کام کاج کرتی ہوں۔ پر دن گزرتا ہی نہیں، تو  بس ایسے ہی کوئی کام نہ بھی ہو تا بنا لیتی ہوں۔ تمہیں ہمیشہ مجھسے شکایت رہتی تھی کہ میں بہت ذیادہ دوستیں بنا لیتی ہوں اور تمہیں وقت نہیں دیتی، امّاں یہاں  مجھے کسی نے دوست ہی نہیں بنایا۔ ہاں بادلوں سے دوستی ہے میری؛ پتہ ہے امّاں یہاں آسمان بہت شفاف نظر آتا ہے۔ اسلئے میں جی بھر کہ بادلوں سے باتیں کرتی ہوں، تم  بھی کیا کرو وہ تمہارا پیغام مجھ تک پہنچا دینگے۔ بات ہورہی تھی دوست بنانے کی تو بادلوں سے اسلئے بھی دوستی ہوئی کہ وہ خوب برستے ہیں؛ کبھی کبھار مجھے لگتا ہے میری آنکھوں کا ساتھ دینے کو برستے ہیں۔ اسلیئے میں بھی دوستی کا حق ادا کرنے کی خاطر خوب ساتھ دیتی ہوں انکا۔ بارش کا ایک اور بھی فائدہ ہے ؛ کسی کو آنسو نظر نہیں آتے۔  

تم نے خط میں پوچھا تھا کہ یہ جگہ کیسی ہے لوگ کیسے ہیں۔ شہر کیسا ہے۔ سب اچھا ہے امّاں شہر بہت صاف ہے؛ طرح طرح کی دکانیں، ریستوران اور خوبصورت عمارتیں ہیں۔ لوگ اچھے ہیں؛ مگر امّاں یہاں سب کی اپنی ہی دنیا ہے۔ کسی کہ پاس وقت نہیں کہ وہ دوسرے کا حال احوال پوچھے؛ اپنے محلے میں تو یاد ہے ایک ہمسائی سے سارے محلے کی خبریں مل جایا کرتی تھیں اور وہ روبینہ خالہ تمہاری منہ بولی بہن تو کھانا کھائے بغیر جاتی ہی نہ تھی۔ امّاں گھر سے ایک بات یاد آئی؛ میرے ذہن میں ایک سوال بار بار اٹھتا ہے، جب میں رخصت ہوئی تو سب نے کہا اب وہ گھر میرا نہیں رہا اور جہاں میں آئی وہاں سب نے کہا تم اپنے سسرال آئی ہو۔ امّاں جب بھائی شادی کر کے دوسرے ملک گیا تھا اور 10 سال سے وہیں ہے اپنا گھر بھی بنا لیا ہے؛ مگر تم ہمیشہ یہ کیوں کہتی ہو یہ  بھائی کا گھر ہے۔ میں تو اسی گھر میں سارا وقت رہی تو پھر وہ میرا کیوں نہیں رہا؟  پھر مجھے بتاؤ میرا گھر کونسا ہے؟   جب میں تمہاری عمر کو پہنچونگی تو یہ گھر تب بچوں کا ہوجائیگا۔ امّاں کیا بیٹی کا اپنا کوئی گھر نہیں ہوتا؟   جب ہم چھوٹے تھے تم ہمیشہ مجھے کہتی تھی کہ اگلے گھر جاکر ایسا مت کرنا ویسا مت کرنا؛ کہ سب کی اپنی طبیعت ہوتی ہے۔ مگر امّاں تم بھائی کو یہ کیوں نہیں بتاتی تھی کہ بھابی کی طبیعت بھی فرق ہوگی اسکے سامنے یہ مت کرنا  اور وہ مت کرنا، تمہیں یہ بتانا چاہئے تھا بھائی کو امّاں  جیسے اسکے جزبات ہیں اسکی ہونے والی شریکِ حیات  کے بھی  جزبات ہونگے؛ انکا ہمیشہ احترام کرے؛ اور اسکا ساتھ دے۔اس رشتے میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا بہت اہم ہوتا ہے نہ؟ جیسے تم ااور ابّا ایک دوسرے کا ساتھ دیتے تھے۔ 

اس دن عید مبارک ہو سی جس دن فیر ملانگے

خیر میں بھی کیا باتیں لے کر بیٹھ گئی۔ پریشان مت ہونا بس ایسے ہی یہ سوال ذہن میں آئے تو تم سے پوچھ لئے ویسے میں بہت خوش ہوں۔ مجھے یہاں کوئی بھی مشکل نہیں ہے، سب سہولتیں ہیں؛ آرام ہیں۔  میں نے کئی قسم کے کھانے بنانے بھی سیکھ لئے ہیں؛ کبھی کبھی دل کرتا ہے تم اور ابّا پاس ہوتے تو سب بنا کر کھلاتی۔ تم دونوں کا بہت خیال کرتی ” تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد” ۔    

ہاں تمہیں ایک نظم سنانی تھی جو میں نے یہاں آتے وقت رستے میں لکھی تھی؛ بھائی کو مت سنانا میرا مذاق اڑائیگا اور ابّا تو ویسے ہی جذبات میں آکر رونے لگینگے۔ اسکو میرا اور اپنا راز سمجھنا

میں اک گڑیا میں اک پتلی ؎

کس کس ہاتھ میں جاتی ہوں

کبھی دعا سے کبھی وفا سے

سب کہ کام بناتی ہوں

کبھی سجاتی ہوں ماں کا آنگن

کبھی نیا آشیاں بناتی

جہاں بھی جاتی وفا لٹاتی

نیا سا اک میں سماء بندھاتی

کبھی ہوں بیٹی کبھی بہن ہوں

کبھی ہوں ماں اور کبھی دلہن ہوں

ہوئی آج رخصت ہوںبابل کہ گھر سے

نئے راستے پہ نئے اک عظم سے

اے مولا میرے توں میری لاج رکھنا

میرے سر پہ فضلوں کا توں تاج رکھنا

محبت ہی دوں میں محبت ہی پاؤں

تیری پیاری راہ سے میں ہٹنے نہ پاؤں

ہو رحمت کا سایہ ہمیشہ ہی سر پر

کبھی دکھ نہ دوں اور غم بھی نہ پاؤں

جو آتے ہیں یاد شب  و روز مجھکو

کبھی انکی باتیں بھلا میں نہ پاؤں

جگر تو ہے ٹوٹے اداسی پڑی ہے

مگر نیک مقصد سے ہٹنے نہ پاؤں

اے مولا سکھی رکھ توں ساری ہی گڑیاں

کریں نیک قسمت توں ساری ہی گڑیاں۔۔۔۔۔۔۔

اس دن عید مبارک ہو سی جس دن

خط طویل ہوتا جارہا ہے مجھے کھانا بنانا ہے اب ؛   اپنا بہت خیال رکھنا، ابّا اور بھائی کو سلام دینا۔ بھائی سے کہنا اسکا شرارت کرنا، مجھسے لڑنا اور میرے ساتھ کھیلنا بہت یاد آتا ہے؛ اکیلی کرکٹ بیٹ لے کر کھڑی ہوجاتی ہوں اور خیالوں میں اس کے ساتھ کھیلتی رہتی ہوں۔  تم کہا کرتی تھی بھائی بہنوں کی جان ہوتے ہیں تو میں ہمیشہ کہتی تھی بہنیں بھائیوں کی جان کیوں نہیں ہوتیں ؛ اب  تمہاری یہ بات سمجھ آئی ہے۔  اور ابّا سے کہنا میرے بغیر ہی آئس کریم کھا لیا کریں میں ان سے ناراض نہیں ہونگی؛ جیسے پہلے ہوا کرتی تھی جب مجھے ساتھ لے کر نہیں جاتے تھے ،میرا نام لیا کریں میں سامنے خود ہی آکر بیٹھ جایا کرونگی؛ میں بھی ایسےہی کرتی ہوں ۔ابّا کو بتانا اب میں ناراض نہیں  ہوتی کسی سے بھی ۔  تم نے پچھلے جاڑے میں جو میری جرسی بنی تھی کبھی کبھار شام کو  الماری سے نکال کر تھوڑی دیر  پہنتی ہوں؛ ذیادہ اس لئے نہیں پہنتی کہ اس کو دھونا پڑگیا تو پھر اس میں سے تمہاری خوشبو نہیں آئیگی۔ اب کے خط بھیجو تو اپنی خوشبو بھی اس کے ہمراہ بھیج دینا، کاش میں ایک بار تمہیں گلے لگا سکوں ۔

،والسلام

تمہاری بیٹی

مصنفہ: سدرۃالمنتہیٰ

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments