آخری حد // ہالہ رفیق

سمائے عشق ہو اور ہم نہ سننے آئیں دلبر کو

تو محفل ملتوی کرنے کی اک دزخواست بھیجیں گے

مگر اس مسودے میں کوئی بھی محفل نہیں ہوگی

سماعت عشق نی ہوگی خواب وصل نہ ہوگا

ہم ان کو یہ کہیں گے “مشغلہ اچھا نہیں انکا”

کہ ان دلدار باتوں میں ہمیں دکھتا نہیں کچھ بھی

زمانے میں بہت کچھ کام ہیں ہم کو سوا اس کے

بہت امید ہے ہم کو کہ دنیا کوچ کر جائے

اور ہم بھی اس کی خاطر اپنا کچھ اقدام کر جائیں

ہمیں فرصت نہیں ہے آپکی نظروں میں رہنے کی

بہت اونچی اڑانیں ہیں بہت چھوٹے زمانے ہیں

ہمیں اس خاک پہ رکنا نہیں منظور اے دلبر 

ہمیں پرواز کرنے دے ان نیلے آسمانوں میں

ہم اس کی آخری حد پہ بسیرا کرنا چاہتے ہیں

نہ تم روکو ہمیں پرواز سے اس آسمانی کی

اور ہم کو کوچ کرنے کے لیے اک مدعا بھیجو 

کہ ہم تو اب خدا کی راہ میں پر پھیلائیں گے

کہ اس نے ہی ہمیں پرواز کی طاقت عطاء کی ہے

وہی ہے جو ہمیں لے جائے گا اپنے جہانوں میں

نہ کوئی غم وہاں ہوگا نہ کوئی دکھ رکھا ہوگا

سکون دل میسر ہو قرار روح بھی ممکن

سنو اے جان جاں یہ مشورہ میرا رہا تم کو 

کی تم بھی اب خدا کی راہ میں نظرانہ ہو جاو

خودی کو بھول کر رب میں ہی بےگانہ ہو جاو

سنو اے جان جاں میرا رہا یہ مشورہ تم کو.


Sharing Is Caring
Recommended For You

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of